87

”درجہاں فرصت تبسم نیست” … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: تنویر نعمان ہاشمی
(لودھراں)

بیسویں صدی میں اردو ادب کو ایسی ہستیوں کی خدمات میسر آئیں انہوں نے کئی افراد کا کام تن تنہا انجام دیا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم ایسی ہی شخصیت تھے۔ معلم، مترجم، محقق، مدیر، افسانہ نگار، مضمون نویس، براڈ کاسٹر، شاعر، شارح اور ماہر لسانیات۔ امرت سر میں اوائل عمری ہی میں شیخ حسام الدین، قاضی حفیظ اللہ، سیف الدین کچلو، حکیم فیروز طغرائی اور عطا اللہ شاہ بخاری جیسے بزرگوں کی ہمسائیگی اورصحبت ملی۔ ہم عصر رفقاء میں پطرس، تاثیر، عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت، حفیظ جالندھری اور عبدالرحمن چغتائی جیسے نام شامل ہیں توشا گردوں میں فیض، بانو قدسیہ، شہاب، الطاف گوہر، حنیف رامے اور نسیم حسن شاہ۔ صوفی تبسم کی وجہ شہرت بچوں کے لیے لکھی گئی نظمیں ہیں جو بے حد مقبول ہوئیں۔ٹوٹ بٹوٹ کاکردار تخلیق کیاجسے بہت شہرت ملی۔

ان نظموں میں انہوں نے بچوں کی ذہنی سطح کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی دنیا کی باتیں کی۔ وہی دنیا جس میں چوہے شکار پر جاتے ہیں پیڑ پر ناگ اور دریا میں آگ لگتی ہے۔ شیر اوربکری مل کر بیٹھتے ہیں اور کوئی کسی کا دشمن ہوتا ہے نہ کسی سے نفرت ہی کرتاہے۔ان نظموں نے کئی نسلوں کو تفریح اور تربیت بیک وقت فراہم کی۔ زبان، صوتیات اور موضوعات کے لحاظ سے یہ دلچسپ اور اہم کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ صوفی تبسم نے غزلیات، گیت، ملی نغموں سمیت دیگر اصناف شعر میں طبع آزمائی کی۔ انہوں نے فارسی، اردو، پنجابی اور انگریزی کو ذریعہ اظہار بنایا۔ حنیف رامے نے ۱۶۹۱؁ء میں شاید ان کی ذات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے شعری مجموعے کو ” انجمن ” کے نام سے شائع کرایا جس میں مختلف رسائل میں سے فارسی، اردو اور پنجابی کلام کو با لترتیب بوئے گل، نالہء دل اور دود چراغ کے عنوانات سے اکٹھا کیا گیا۔

صوفی تبسم اپنے کلام کو محفوظ کرنے میں تساہل برتتے۔سو ان کا بیشتر شعری سرمایا محفوظ نہیں۔ دستیاب کلام مختلف ناموں سے چھاپا جا چکا۔ ان کے غالب، اقبال اور امیر خسرو کے منظوم تراجم کو بے حد پزیرائی ملی۔ ان کے تراجم دلکشی، معنویت اور اثر آفرینی کے لحاظ سے اصل تخلیقات کا عکس تھے۔صوفی تبسم نے تمام زندگی ترویج ادب کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ اقبال سے ان کا ذاتی تعلق رہا وہ اقبال کے بے حد مداح تھے اور تفہیم اقبالیات پر آخری دم تک کا م کرتے رہے۔ صوفی تبسم کے والد کا نام غلام رسول تھا۔صوفی غلام رسول کا خاندان کشمیری شالوں کی تجا رت اور نا نبائی کا پیشہ بطورذریعہ معاش اختیار کیے ہوئے تھا۔ ان کی اہلیہ فاطمہ بی بی کے بطن سے ۴ اگست ۹۹۸۱ ء کو امرت سر میں غلام مصطفی تبسم نے جنم لیا۔

ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کرنے کے بعد غلام مصطفی کو امرت سر کے سکول میں داخل کرایا گیا تاکہ بنیادی رسمی تعلیم پا سکے چرچ مشن سکول امرت سر سے میٹر ک پاس کرنے کے بعد خالصہ کالج امرت سر سے ایف اے کیا۔ دادا کی ذاتی لائبریری تھی اورصوفی تبسم کو شوق مطالعہ ۔ لہذا نوجوانی تک شعر و ادب سے تعلق فزوں تر ہو تا گیا کالج میگزین میں مضامین لکھنے اور شعر کہنے شروع کیے فیروزالدین طغرائی کی شاگردی اختیار کی اصغر صہبائی تخلص کیا کرتے۔ شوق شعر نے رسمی سلسلہ تعلیم پر منفی اثرات ڈالے سوبی۔ اے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ لاہور منتقل ہوئے او ر فارسی آنرز بی اے، ایف سی کالج لاہور سے کرنے میں کامیاب ہوئے اور ایک سال میں ۴۲۹۱ ؁ ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے فارسی میں ایم۔ اے کیا، مختصر عرصے کے لیے آرمی میڈیکل ڈائریکٹوریٹ میں ملازمت کی پھرترک ملازمت کرکے بی ٹی کرنے کے لیے سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ۶۲۹۱؁ء میں یہ امتحان بھی پاس کیا تدریس کے پیشے سے دلچسپی کا اسی سے اظہار ہوتا ہے امرت سر ہائی سکول میں مدرس کے طور پر تقرر ہوا بعد ازاں انسپکٹر سکولز بنا دیے گئے۔ ۷۲۹۱؁ء میں لاہور دوبارہ آئے اور سنٹرل ٹریننگ کالج میں السنہ شرقیہ کے استاد کے طور پر کام کیا ۱۳۹۱؁ء سے ریٹائرمنٹ تک گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو اور فارسی کی تدریس کے فرائض سر انجام دیے

۳۴۹۱؁ء میں صدر شعبہ فارسی مقرر ہوئے پنجاب یونیورسٹی کی ایم اے اردو، ایم اے فارسی کی کلاسز کو بھی پرھاتے رہے ۴۵۹۱؁ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ریٹائر ہوئے ان کی ذاتی دلچسپی اور صلاحیت سے گورنمنٹ کالج ہی نہیں بلکہ لاہور کے دیگر اداروں میں بھی ادبی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوا کالج کا ادبی مجلہ ان ہی کی ادارت میں ایک معتبر حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہر ا۔ اردو فارسی منشی فاضل کے لیے ذاتی دلچسپی اور محنت سے شام کے اوقات میں نہ صرف کلاسز شروع کرائی گئیں بلکہ نصاب کی تدوین اور ترتیب میں تن تنہا کام کیا اپنے استاد کا کلام مرتب کیا جو ”کلیات طغرائی ” کے نام سے ۳۳۹۱؁ء میں شائع ہوا ”جاہ و جلال ” کے نام سے سپرل چیک کی انگریزی کتاب ”پاور اینڈ گلوری ”کا ترجمہ کیا جو ۰۴۹۱؁ء میں شائع ہو ئی۔

فرانسیسی مفکر کارا دادوکی کتاب” مفکران اسلام”سے کچھ حصوں کا ترجمہ کیا جو ۸۴۹۱؁ء میں ” علم جغرافیہ اور شوق سیاحت ”میں کتابی شکل میں شائع ہوا بچوں کے لیے ”جھولنے ”کے نام سے نظموں کی یادگار اور خوبصورت کتاب لکھی ۸۴۹۱؁ء میں شائع ہوئی اور اپنی نوعیت کی منفرد اور مقبول کتاب ہے۔ اس کتاب پر حکومت کی جانب سے 500 روپے نقد انعام ملا۔ ۴۵۹۱؁ء میں گورنمنٹ کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد خانہ فرہنگ ایران لاہور میں بطور ڈائریکٹر اور بطور معلم فرائض سرانجام دئیے سول سروسز اکیڈمی اور فنانس سروس اکیڈمی میں اردو پڑھاتے رہے۔ عرفانی کاشمیری اور شہباز کاشمیری کے قلمی ناموں سے لکھتے رہے۔ ۲۶۹۱؁ء تا ۴۶۹۱؁ء ” لیل و نہار ” کی ادارت کی۔

بہت کم لوگوں کو یہ علم ہوگا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پہلے چئیرمین صوفی تبسم مرحوم ہی تھے۔ جو انڈیا کے ساتھ پہلے کرکٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کو انڈیا لے گئے تھے۔ ۰۷۹۱؁ء ریڈیو پاکستان میں سٹاف آرٹسٹ بعد ازاں سکرپٹ رائٹر کام کیا۔ پاکستان آرٹس کونسل لاہور کے چئیرمین اور اقبال اکادمی کے نائب صدر رہے۔ پاکستان ٹیلی وژن پر بھی اقبالیات پر پروگرام کرتے رہے۔ اقبال کے اردو فارسی کلام کا انتخاب، شرح اقبال اور کلام اقبال کے منظوم پنجابی ترجمہ سمیت اقبالیات کے موضوع پر کئی کتب اقبال سے ان کے قلبی و ذاتی تعلق کا ثبوت ہیں۔ اہل پنجاب کو با الخصوص امیر خسرو اور مرزا غالب کے فارسی کلام سے بہترین منظوم تراجم کے ذریعے روشناس کرانا صوفی تبسم ہی کا خوبصور ت کارنامہ ہے۔

شکسپئر اور ایشلے ڈیوکس کے ڈرامواں کا ترجمہ کیا جو کافی عرصے تک سٹیج ہوتا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ صوفی تبسم نے اس ڈرامے میں اداکار کے طور پر بھی حصہ لیا۔ اردو، فارسی کے شعراء با الخصوص غالب، اقبال اور امیر خسرو کے کلام کے انتخاب اور اشاعت کے ساتھ ساتھ ” یک ہزار ویک سخن ” کے نام سے قدیم و جدید فارسی، اردو شعراء کا انتخا ب کلام بھی شائع کرایا۔

اس کے علاوہ کئی مرتب کتب اور تراجم شائع ہوئے جو اب عام دستیاب نہیں ہیں۔ ایک تحقیقی کتاب ” پنجاب کی شاعری پر فارسی روایات کا اثر” تصنیف کی۔رسالہ ” ابلاغ” امرت سر سمیت ” مخزن ”،” سکھی گھر ”اور ماہنامہ ” اطفال ” کے مدیر جبکہ ” پنجابی ادب ” کے نگران مدیر کے طور پر کام کیا۔ ” پھول ” کی مجلس ادارت میں شامل رہے۔ وہ اول تا ایف۔اے سطح تک اردو، فارسی درسی کتب کی تصنیف و تالیف کی ذمہ داری ادا کرتے رہے جن میں مصنفہ کتب کی تعداد 23 مؤلفہ کتب 9 جبکہ 5 مدون کتب ہیں۔ غیر مدون نثری مواد میں دیباچے، مقدمے اور پیش لفظ شا مل ہیں۔ انہوں نے مشاہیر سمیت دیگر موضوعات پر کئی مضامین لکھے۔ کئی مضامین کے تراجم، ڈرامے، افسانے اور ” حرف و سخن ” کے عنوان سے 50 کے قریب کالم لکھے جو مختلف رسائل میں شائع ہوئے۔

فارسی ادب کے حوالے سے ان کی وقیع علمی و ادبی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت ایران نے تحائف سے نوازا اور ۹۵۹۱؁ء میں ” نشان سپاس ” عطا کیا۔ حکومت پاکستان نے ۲۶۹۱؁ء میں انہیں تمغہ اعزاز کارکردگی برائے ادب مع نقد 5 ہزار روپے عطا کیا۔ بعدازاں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ صوفی تبسم آخر سانس تک فروغ علم و ادب کے لیے بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے اقبال میموریل فنڈ کی مالی معاونت کی اپیل کے لیے اسلام آباد کا سفر کیا۔ وہ لاہور پہنچے ہی تھے کہ فرشتہ ء اجل نے علم ادب کا تبسم چھین کر دنیا ئے ادب کو اشکبار کر دیا۔ یہ ۷ فروری ۸۷۹۱؁ء کا دن تھا۔ صوفی تبسم کی حیات و خدمات پر ایم فل اور ڈاکٹریٹ کے مکالے لکھے جا چکے ہیں۔ ان کے نام سے ان کی شاعر پوتی ڈاکٹر فوزیہ تبسم کی سرپرستی میں ادبی تنظیم فروغ ادب کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ صوفی تبسم کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ ادبی شہ پاروں کو از سر نو شائع کیا جائے۔ ان کے ریڈیو اور ٓٹیلی وژن پروگرامز کو بھی کتابی شکل میں ادب کے قارئین تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے سرکار کی سرپرستی اور تعاون ناگزیر ہے۔

صوفی تبسم کی ادبی خدمات:

مرتبہ کتب
تحقیق
کلیات طغرائی
انتخاب کلام امیر خسرو
انتخاب اقبال (اردو فارسی
اقبال اور بچے (انتخاب)
تیرو نشتر (فارسی)
حرف و صوت (انتخاب)
زندہ نغمے (رزمیہ نغموں کا انتخاب
شعر فارسی معاصر(13 شعراء کے کلام کا انتخاب
یک ہزار و یک سخن (انتخاب شاعری ارد و فارسی)
پنجاب کی شاعری پر فارسی روایات کا اثر
شاعری
شروحات
تراجم
جھولنے (بچوں کی نظمیں)
ٹوٹ بٹوٹ اور دوسری نظمیں (بچوں کی نظمیں)
ٹال مٹول(بچوں کی نظمیں)
انجمن(فارسی، اردو، پنجابی مجموعہ کلام)
دامن دل
سو بار چمن مہکا (کلیات)
روح غالب (فارسی، اردو اشعار کی شرح)
شرح صد شعر اقبال(ریڈیو ٹی وی پروگرامز)
شرح غزلیات غالب (فارسی)
جاہ جلال
مسلمانوں کا علم جغرافیہ اور شوق سیاحت
علامہ اقبال (ایرانی مصنف کی کتاب کا ترجمہ)
حکمت قرآن (ترک مصنف کی فرانچ کتاب کا ترجمہ)
دو ناٹک (ساون رین دا سفنا، خطرناک لوگ: شکسپئر کے ڈرامے)
دو گونہ منظوم ترجمہ کلام امیر خسرو)
سراپردہ افلاک (جاوید نامہ کا ترجمہ)
نقش اقبال (فارسی کلام اقبال کا منظوم پنجابی ترجمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں