88

تھل کی پسماندگی کا مقدمہ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: خضرکلاسرا

پاکستان تحریک انصاف حکومت کے اتحادیوں سے لیکر اپنے پارٹی ارکان نے سیاسی میدان میں ہلچل مچائی ہے۔ اس کی گونج تخت لاہور سے اسلام آباد تک سنی گئی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد سے لیکر پنجاب تک مسلم لیگ ق کے چوہدریوں نے کہانی ڈالی تو دوسری طرف تحریک انصاف کے اپنے پنجاب اسمبلی کے 20 ممبران بھی میدان میں اس نعرے کیساتھ اتر گئے کہ گیم آن ہے، اتحادیوں کی طرح ہمارے ایشوز بھی حل نہیں ہورہے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی سوتیلی ماں جیسا سلوک ہورہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی ہلچل کی کہانی نے اس وقت ایک اور دلچسپ موڑ لیا جب مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ ق بھی پرانی تلخیوں کو بھلا کر کپتان کو مشکل سے دوچار کرنے کیلئے ایک دوسرے کے قریب آنے لگیں۔

دونوں جماعتوں میں بیک ڈور رابطوں کی تصدیق بھی ہوئی بلکہ بعض نواز لیگی لیڈروں نے ٹی وی پروگراموں میں اگر مگر کیساتھ یہ بات بھی کہی کہ ق لیگ سے بات ہوسکتی ہے۔ ادھر چوہدری پرویز الہی نے آصف زرداری کیلئے ایک انٹرویو میں تعریفوں کے پل باندھ دئیے مطلب اشارہ تھا کہ مل کر چل سکتے ہیں۔ ادھر پنجاب میں ایک بار پھر وزیراعلی عثمان بزدار کا تخت لاہور، سیاسی ہلچل سے لڑکھڑانے لگا، دوسری طرف عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس قراردینے والے وزیراعظم عمران خان کیلئے بھی سب اچھا نہیں تھا کہ عثمان بزدار کی تبدیلی کا مطلب وہ اپنے خلاف سازش قراردیتے ہیں۔

حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیوایم سمیت بلوچستان اور دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے انداز میں چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا مطلب وزیراعظم عمران خان کو وہ وعدے یاد کروارہے تھے جوکہ ان کے ساتھ حکومت میں شمولیت کے دوران کیے گئے تھے۔ ایم کیوایم پاکستان نے دیگر وعدوں کیساتھ یہ بات بھی تحریک انصاف کی حکومت کو یاد کروائی کہ ان کی طرف سے حیدر آباد میں عالمی سطح کی یونیورسٹی کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن وہ بھی پورا نہیں کیاگیا ہے۔

مطلب سب اپنی سیاسی گردان کیساتھ حکومت کو احساس دلارہے تھے کہ ہمارا بھی خیال کریں، ہم نے ووٹروں کو جوابدہ ہونا ہے، ہم آپ کے اتحادی ہیں۔ لیکن حکومت اور اتحادیوں کی اس رسہ کشی میں اگر کسی خطے کے ارکان اسمبلی خاموش تھے تو وہ تھل کے تھے۔ ان کے سیاسی رویہ سے یوں لگ رہاتھا کہ جیسے وہ اس نظام حکومت کا حصہ تک نہیں ہیں اور نہ ہی ان کو اس بات سے غرض ہے کہ حکومت ڈیڑھ سال کے عرصہ میں کیا کررہی ہے؟ اور مستقبل میں تحریک انصاف کی حکومت کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی؟

تھل کے ارکان اسمبلی کی قبرستان جیسی خاموشی سے راقم الحروف جیسے تھل کے باسیوں کو اپنے ارکان اسمبلی کے اس رویہ سے مایوسی ضرور ہوئی کہ آخر یہ اپنے تھل اور عوام کیلئے کب بولیں گے؟ اور ان کی خاموشی 72 سال سے ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لے رہی ہے۔ کیا ان کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ تھل کے چاروں اطراف کے علاقوں میں ترقی ہورہی ہے۔ لیکن تھل ہے کہ ہر دن پسماندگی کی دلدل میں اتر رہا ہے۔ تھل کا مختصر تعارف یہ ہے کہ تھل سات اضلاع پر مشتمل علاقہ ہے، اس میں خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ اور چینوٹ ضلع شامل ہیں۔ تھل کے ایک طرف دریائے سندھ بہتا ہے تو دوسری طرف دریائے چناب ہے، قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔

ادھر تھل ایک بڑی سیاسی اکائی یوں ہے کہ تھل کے ارکان اسمبلی کی تعداد 18ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تعداد 37 ہے مطلب تھل کے ارکان اسمبلی کی تعداد بلوچستان سے لیکر بہاولپور ڈویثرن اور پھر ملتان ڈویثرن کے ارکان اسمبلی کی تعداد سے زیادہ ہے۔ لیکن یہاں کے ارکان اسمبلی ہیں کہ تھل کیلئے ایوان سے لیکر عوام میں کھڑے ہوکر حق مانگنے پر تیار نہیں ہیں۔ تھل کے سات اضلاع کا اپنا ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر نہیں ہے۔ تھل کے سات اضلاع مطلب خوشاب، میانوالی، بھکر،لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ اور چینوٹ میں ایک بھی ائرپورٹ نہیں ہے، تھل میں ایک ہائی کورٹ کا بنچ نہیں ہے۔ لیکن تھل کے سات اضلاع کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کی طرف سے کوئی بات نہیں کی جارہی ہے۔

ادھر ایم ایم روڈ جوکہ تسلسل کیساتھ حادثات کی وجہ سے قاتل روڈ کا نام پاچکا ہے، تھل کے اردگرد موٹروے بن گئی ہے لیکن قاتل روڈ کو موٹروے میں تبدیل کرنا تو درکنار، اس کو دورویہ بنانے کا بھی حکومت کی طرف سے اقدام نہیں اٹھایا گیاہے۔ تھل پورے کے عوام قاتل روڈ پرآئے روز ہونیوالے حادثات میں جانی نقصان پر پریشان ہیں لیکن تھل کے ارکان اسمبلی اس حوالے دولفظ بھی کہنے پر تیار نہیں ہیں۔ تھل کے سات اضلاع میں کوئی میڈیکل کالج نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈینٹل کالج ہے۔ یوں اس صورتحال تو ایسا لگتاہے کہ حکومتوں کی طرف سے تھل کیلئے میڈیکل کی تعلیم پر پابندی ہے۔ ادھرتھل کیلئے انڈسٹری کا وجود ہی نہیں ہے مطلب نہ ہوگا بانس اور نہ بجے گی بانسری، جب انڈسٹری نہیں ہوگی تو روزگار کے مواقع بھی نہیں ہونگے۔

تھل کے سات اضلاع جوکہ زرعی حوالے سے خاص پہچان رکھتے ہیں لیکن زرعی یونیورسٹی پورے تھل میں نہیں ہے۔ یہاں ذرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے لیکر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور پھر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسی ایک بھی یونیورسٹی پورے تھل کے سات اضلاع میں نہیں ہے۔ اسی طرح تھل کے سات اضلاع خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ اور چینوٹ میں نشتر ہسپتال ملتان یا پھر بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاول پور جیسا کوئی ٹیچنگ ہسپتال بھی نہیں ہے۔ ادھر لاہور میں جی صرف ضلع لاہور میں 26 میڈیکل کالج ہیں او ان کیساتھ 26 ٹیچنگ ہسپتال ہیں جبکہ ڈئینٹل کالج علیحدہ ہیں، ا دھر تھل کے سات اضلاع میں نہ کوئی میڈیکل کالج ہے اور نہ ہی ٹیچنگ ہسپتال ہے۔ نرسنگ کالجوں کا قیام تو تھل میں خواب میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن حقیقت میں صورتحال یہ ہے کہ تھل میں نرسنگ کالج تک بھی نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن سمیت کوئی بھی اس معیاری یونیورسٹی کا وجود بھی نہیں ہے، جس کا یہاں پر ذکر کیاجاسکے۔ تھل کے سات اضلاع کو ملا کر تھل ڈویثرن دینے کی بجائے تھل کو اپنی حدود سے باہر کے ڈویثرنوں کے ساتھ نتھی کردیاگیا ہے، جوکہ تھل کے عوام کو سہولت دینے کی بجائے مشکلات کا سبب ہے۔ لیکن تخت لاہور ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے، وہاں سے سب اچھا کا راگ چل رہا ہے۔ وویمن یونیورسٹی کا وجود لاہور سے لیکر ملتان تک تو ملتاہے لیکن اس یونیورسٹی کا وجود تھل میں نہیں ہے، یوں تھل کی طالبات کو اپنے سات اضلاع میں اعلی تعلیم کے مواقع حاصل نہیں ہیں۔

ادھر تھل کے ضلع مظفرگڑھ کے عوام، صحافی اور دانشور اس بات پر تکرار کررہے ہیں کہ نواب کوڑے خان جتوئی کی تعلیم کیلئے وقف کردہ زمین پر یونیورسٹی قائم کی جائے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دے رہاہے اور نہ ہی مظفرگڑھ کے ارکان اسمبلی، اس اہم ایشو پر بات کررہے ہیں۔ اسی طرح مظفرگڑھ کے عوام میڈیکل کالج کیلئے بھی آواز اٹھار ہے ہیں لیکن تخت لاہور اور اسلام آباد کے حکمران مطالبہ کو عملی شکل دینے پر تیار نہیں ہیں۔ اب جہاں تھل سات اضلاع میں میڈیکل کالج، ڈئینٹل کالج نہیں ہے، وہاں پر انجئینرنگ یونیورسٹی کا وجود بھی قیام پاکستان کو 72 سال ہونے کے باوجود نہیں ہے۔

میانوالی جوکہ تھل کا اہم اور خاص اہمیت کا حامل ضلع ہے، یہاں کے تعلیم اداروں کے حوالے میانوالی کے رہائشی طارق اقبال نیازی نے انکشاف کیا ہے کہ میانوالی شہر میں جو 1992میں ہائی سکول تھے، آج بھی وہی ہیں، آبادی کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ ہسپتال اور سکول نہیں بنے ہیں۔ ہرایک کلاس میں 70 سے80 طالب علم پڑھتے ہیں۔شاباش ہے اساتذہ کو جو جتنی بڑی تعداد میں طلباء کو ایک کلاس میں پڑھاتے ہیں جبکہ تعلیم کے اصولوں کے مطابق 30سے 35 ہونے چاہیں۔

تھل کی پسماندگی اور ارکان اسمبلی کی قبرستان جیسی خاموشی کی اس کہانی کا اہم نقط یہ بھی ہے کہ تھل کے دیگر ارکان اسمبلی کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کا تعلق بھی تھل کے اہم ضلع میانوالی سے ہے اور موصوف میانوالی کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں لیکن ان کا سیلبس بھی تھل کیلئے وہی جوکہ یہاں کے خاندانی ارکان اسمبلی کا 72سال سے چلا آرہاہے کہ تھل کو آگے لانے کی بجائے پیچھے پسماندگی کی دلدل میں رکھنا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس وقت جب ساری جماعتیں اپنے اپنے انداز میں سیاسی ہلچل میں اپنے ووٹروں اور علاقہ کیلئے بول رہی تھیں تو اس وقت وزیراعظم عمران خان سے لیکر تھل کے آخری رکن قومی اسمبلی تک کوئی تو تھل کی پسماندگی کا مقدمہ پیش کرتا۔اور حکومت کو مطالبہ کرتاکہ اب تھل کیلئے کچھ کرو۔72 سال بعد تھل کے عوام کو جینے کا حق دے دو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں