62

مذہبی ہم آہنگی اور ملتان کی ہندو کمیونٹی … شعورمیڈیا نیٹ ورک


ازقلم: محمد احمد نواز

پی ایچ ڈی اسکالر (میڈیا اسٹڈیز)

ملتان کے گردونواح میں ہندو کمیونٹی کے افراد کی تعداد چھ ہزار ہے جو کہ نسل درنسل سے یہاں رہائش پذیر ہیں اور انکے آباواجداد نے تقسیم کے وقت اپنی اور اپنے بڑوں کی جنم بھومی کو چھوڑنے کی بجائے یہیں پر ہی رہنے کا فیصلہ کیا جو کہ پاکستان کی مٹی سے محبت کا واضح ثبوت ہے۔

بالمیک مندر ڈبل پھاٹک کے پنڈت راج کپور نے بتایا کہ ملتان ایسی مقدس اور قدیم سرزمین ہے جس کا ذکر ہماری مقدس کتاب رگ وید میں بھی ہے۔ اس شہر میں کئی مندر تھے جن میں بہلادپوری مندر، جین مندر، سورج کند مندر، شوالہ مندر ودیگر قابل ذکر ہیں لیکن اس وقت ملتان شہر میں صرف تین مندر وں میں باقاعدہ عبادت کی جاتی ہے جو کہ ناصرت کالونی، ڈبل پھاٹک اور گلشن آبادکے علاقے میں واقع ہیں۔

راقم کو ڈبل پھاٹک کے علاقے میں قائم بالمیک مندر کے سامنے والا گھر یعقوب مسیح کا دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، پنڈت راج کپورنے بتایا کہ ہمارے علاقے میں چند گھر مسیح کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے بھی ہیں جن کیساتھ ہم مل جل کررہتے اور اپنا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ہمار ے چاروں طرف مسلم کمیونٹی کے افراد آباد ہیں جو کہ ہمارے ہر دکھ اورتکلیف و پریشانی میں سایہ بن کر ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ہمیں کبھی بھی یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ ہم کسی اور کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

پنڈت راج کپور نے بتایا کہ ہماری مذہبی تقریبات بلخصوص ہولی اور دیوالی کے موقع پر مسلم و مسیحی کمیونٹی کے لوگ بھی باقاعدہ تحائف کیساتھ بھرپورشرکت کرتے ہیں جس سے اپنائیت کا احساس ہوتا ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی فروغ ملتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی مذہب ہو اسکا بنیادی درس امن و آتشی ہی ہے۔ اور میں بھی اپنے مسلم دوستوں کے گھر باقاعدگی کے ساتھ عیدین پر حاضری دیتا ہوں جس سے ایک اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔

جیسے جیسے لوگوں میں تعلیم عام ہوئی تو اس کے ساتھ ہی بین المذاہب ہم آہنگی نے بھی فروغ پایا ہے جس سے دوسرے مذاہب کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوئی ہے، اس سے پہلے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں کے برتن میں پانی پینا تک پسند نہیں کرتے تھے لیکن اب وہی لوگ ایکدوسرے کے مذہبی تہواروں میں شریک ہو کر امن کا پیغام دے رہے ہیں جس سے دنیابھرمیں پاکستان کا مثبت امیج جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں