39

برفباری اور زلزلہ کے بعد سڑکیں تاحال بند، نظام زندگی مفلوج

استور(ویب ڈیسک) استور میں حالیہ دنوں میں ہونے والی برفباری کے بعد سے اب تک استور کے بالائی علاقے منی مرگ، قمری، چیلم، داسخریم،گدائی، میرملک، گشاٹ،مرمی، سکمل، درلے،رٹو سمیت دیگر درجنوں علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہیں، گزشتہ دو ہفتوں سے سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ان تمام علاقوں میں اشیائے خورد نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں.

رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث بالائی علاقوں میں خورک ادویات سمیت دیگر چیزیں بھی ناپید ہوچکی ہیں شدید برفباری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوچکا ہے شدید سردی کی وجہ سے لوگوں میں نمونیہ سمیت دیگر موسمی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ علاقہ بھر میں ہیلتھ کی سہولیات کا فقدان ہے، بالائی علاقوں کی سڑکوں کی بندش کے باعث بر وقت مریضوں کو ہسپتال تک رسائی نہ ملنے سے بھی ابتک کئی اموات ہوچکی ہیں بالائی علاقوں میں بجلی کا نظام اور ٹیلی مواصلات کانظام بھی مکمل درہم برہم ہوچکا ہے.

دوسری جانب استورکے ضلعی ہیڈ کوارٹر عیدگاہ اور گوریکوٹ کے اندر بھی ہیڈ کواٹر سے دیگر علاقوں کی اکثر رابطہ سڑکیں بند ہیں ہیڈ کوارٹر میں برفباری کے بعد سے اکثر کاروباری مراکز میں کاروبار بھی ٹھپ ہوچکا ہے شدید برفباری کے بعد سے اب تک ویلی روڈ موت کا کنواں بنا ہوا ہے روڈ کی حالت زار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹروں اور ٹیکسی مالکان بھی مسافروں کو دنوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے ہیں استور سے گلگت تک کا کرایہ چھ سو سے بڑھا کر سات سو سے آٹھ سو تک وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ہائی ایس میں فی سواری تین سو سے بڑھا کر چار سو تک وصول کرنے لگے ہیں اسی طرح استور ہیڈ کوارٹر عیدگاہ اور گوریکوٹ کے درمیان کرایہ سو سے بڑھا کر دو سو روپے کردیاگیا ہے.

متاثرین برفباری اور متاثرین زلزلہ نے حکومت گلگت بلتستان اور استور کی ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر زلزلہ متاثرین کو متاثرہ علاقوں سے شفٹ کرکے متبادل جگہ فراہم کریں اور انسانی قیمتی جانوں کو ضیاع سے بچائیں جبکہ استور کے بالائی علاقوں کی عوام نے حکومت سے سڑکوں کی بحالی کے لیے فوری اقدمات کرنے کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔

گلگت بلتستان میں جہاں ایک طرف شدید برفباری کے بعد کڑاکے کی سردی اور رابطہ سڑکیں بلاک ہونے سے نظام زندگی مفلوج ہے ، ساتھ ہی گزشتہ ہفتے آنے والے زلزلے کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کھلے آسمان تلے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف گلگت اور دیگر علاقوں میں بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں