105

مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں نشتر ہسپتال ملتان کی نرسز کا کردار… شعورمیڈیا نیٹ ورک


ازقلم: محمد احمد نواز

پی ایچ ڈی اسکالر(میڈیا اسٹڈیز)

پاکستان بھرمیں اس وقت مسیحی کمیونٹی کی تعداد تقریباً 40 لاکھ ہے، جن کے آباواجداد نے تقسیم برصغیر کے وقت پاکستان میں رہنے کو ہی ترجیح دی جو کہ پاکستان کی مٹی سے محبت کا واضح ثبوت ہے.ملتان میں بھی مسیحی کمیونٹی کے افراد کثیر تعداد میں عرصہ دراز سے رہائش پذیر ہیں اور سب لوگ اپنی اپنی اہلیت اور حیثیت کے مطابق ملک وملت کی خدمت کے جذبہ سے سرشارہیں۔

نشتر ہسپتال ملتان کا شمار پاکستان کے بڑے اور مشہور ہسپتالوں میں ہوتا ہے، جہاں لوگ اپنے پیاروں کے علاج کے لیے ملک کے طول وعرض سے آتے ہیں۔ اس ہسپتال میں مسیحائی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے مسلم کمیونٹی کیساتھ ساتھ مسیحی کمیونٹی کی بھی ایک کثیر تعداد اپنا بھرپورکردار ادا کررہی ہے۔ اور وہ سب مل جل کر ایک فیملی کی طرح اپنے کام میں مگن ہیں جہاں کسی کو کوئی تجسس نہیں ہوتا کہ کون کس مذہب، مسلک یا ذات سے ہے بلکہ ان سب کا مذہب، مسلک اور ذات انسانیت ہے جس کا بنیادی درس ہی آپس میں مل جل کر رہنا، اور ایکدوسرے کے کام آنا ہے۔

نشتر ہسپتال میں تعینات نرس شزاء ایمانوئیل نے بتایا کہ وہ عرصہ 9 سال سے اس ادارے کیساتھ منسلک ہے۔ شزا ء کے مطابق اس 9 سال کے عرصہ میں مجھے کبھی بھی اپنی ساتھی نرسز یا ڈاکٹرز سے ایسے رویہ کا احساس نہیں ہوا کہ میں کسی اور کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی ان کو اس طرح کا کوئی احساس ہونے دیاہے۔

نشترہسپتال کی ایک اور نرس مونیکا نے بتایا کہ وہ 3 سالوں سے نشتر ہسپتال میں فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ مونیکا کے مطابق ہم سب سسٹرز چاہے وہ کسی بھی کمیونٹی سے ہوں بھائی چارے اور برابری کے ماحول میں کام کرتی ہیں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی سسٹرز ہمارے تہواروں میں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں جس سے ہمیں کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم کسی دوسری کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ اگر ہم نے اپنی مذہبی تقریب میں جانا ہو تو ہماری جگہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی سسٹرز ڈیوٹی سرانجام دے کر ہمیں اپنی عبادات ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی نرس سمرین خاں نے بتایا کہ نشتر ہسپتال میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی سسٹرز کی ایک کثیر تعداد کام کرتی ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم سب آپس میں ایک فیملی کی طرح رہتے ہیں اور ایکدوسرے کی خوشی، غم اور مذہبی تہواروں میں بھی شرکت کرتے ہیں جس سے ہمیں ایکدوسرے کے مذہب کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور دوسرے مذاہب سے متعلق غلط فہمیاں بھی دور ہوتی ہیں کیونکہ دنیا میں کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے جس میں پیار، محبت اور بھائی چارے کا درس نہ دیا گیا ہو۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی راز یہ ہوتا ہے کہ وہاں پر بسنے والے افراد اایکدوسرے کا احترام کرتے ہوئے مل جل کررہیں، نشترہسپتال کی نرسزکا آپس میں مل جل کر رہنا، ایکدوسرے کی خوشی وغم میں شریک ہونا اور بلخصوص ایکدوسرے کے مذہبی تہواروں کا احترام کرتے ہوئے ان میں شرکت کرنا ترقی کے زینے پر پہلا قدم اور مذہبی ہم آہنگی و رواداری کی واضح مثال ہے۔ ہم چاہے کسی بھی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم ایکدوسرے کے مذہبی خیالات اور وابستگی کا مکمل احترام کریں تا کہ معاشرے میں امن، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی فضاقائم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں نشتر ہسپتال ملتان کی نرسز کا کردار… شعورمیڈیا نیٹ ورک” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں