88

لودھراں: حکم امتناع کے باوجود قبضہ مافیا پولیس کی سازباز سے اراضی ہتھیانا چاہتے ہیں، لودھرا قومی اتحاد کا اعلیٰ حکام سےانصاف کا مطالبہ

لودھراں (ملک عبدالشکورحیدری ایڈووکیٹ) قبضہ مافیا نے اراضی پر قبضہ کرنے کے لئے محکمہ ریونیو اور پولیس کے مبینہ کرپٹ ملازمین سے ساز باز ہوکر حکم امتناعی ہونے کے باوجود چالیس سالوں سے آباد کئی خاندانوں کے گھر مسمار کردیئے۔خواتین اور مردوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔شدید سردی میں کھلے آسمان تلے پڑے رہنے کی وجہ سے معصوم بچی وفات پاگئی۔پولیس قبضہ مافیا سے ساز باز ہوچکی ہے۔ وزیراعظم، وزیراعلی اور آئی جی پنجاب مظلوم خاندانوں کو انصاف دلائیں۔

لودھرا قومی اتحاد پنجاب کے صدر ملک اشفاق حسین لودھرا،صدر لودھراں ملک عابد حسین لودھراملک احمد شیر لودھرا سینیئر نائب صدر ،ملک صداقت حسین لودھرا جنرل سیکریٹری پنجاب آل پاکستان ،ملک قاسم لودھرا سینیئر ممبر ثالثی کمیٹی،مہر جنید اقبال لودھرا،ملک حاجی یاسین لودھرا تحصیل صدر کہروڑ پکا،ملک اصغر لودھرا تحصیل صدر لودھراں،ملک افضل لودھرا، ملک شبیر لودھرا اور دیگر ممبران آل پاکستان لودھرا نے مقامی ہوٹل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 15 جنوری کو مبینہ قبضہ مافیا کے سربراہ نورالحسن گجروغیرہ نے محکمہ مال اور پولیس کے مبینہ کرپٹ ملازمین سے ساز باز ہوکر کرائے کے غنڈوں کی مدد سے موضع رکن پور میں عدالت کے حکم امتناع کے باوجود 1952 سے آباد 30 سے 40 خاندانوں کے گھروں کو مسمار کر دیااوروہاں پر مقیم خواتین اور مردوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا.

بے گھر ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے دو دن شدید سردی میں کھلے آسمان تلے گزارے جس سے سردی کی شدت کی وجہ سے 18 جنوری کو چھ ماہ کی ایک شیر خوار بچی سردی کی شدت برداشت نہ کرسکی اور جاں بحق ہوگئی تو متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے خانیوال روڈ کو بلاک کردیا جس پر اسسٹنٹ کمشنر تحصیلدار اورایس پی انویسٹی گیشن نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے تو مظاہرین کے مطالبے پر افسران نے انہیں واپس ان کے گھروں میں بٹھا دیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر نے تحصیلدار کو انکوائری کا حکم دے دیا جبکہ پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل خطا کا مقدمہ نمبر 24 /2020 بجرم 322 درج کرلیا تھا.

انہوں نے الزام لگایا کہ قبضہ گروپ نے غریبوں کے سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی سامان غائب بھی کیا مگر پولیس نے ایسی کوئی دفعہ نہیں لگائیں انہوں نے الزام لگایا یا کہ تھانہ صدر لودھراں کی پولیس ملزمان سے مبینہ طور پر سازباز ہوچکی ہے۔جس کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ پولیس کا رویہ انتہائی سخت ہے.

اس موقع پر ، پریس کانفرنس کے بعد لودھرا برادری نے تھانہ صدر لودھراں کی پولیس کےخلاف احتجاج بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ عدالتی حکم امتناع کے باوجود ہمارے مکان مسمار کرنے والے محکمہ مال کے کرپٹ عناصر اور مقدمے میں دفعات کم لگانے اور ملزمان کے ساتھ مبینہ ساز باز ہونے والے پولیس ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کی جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں