48

ترکی: 6.8 شدت کے ہولناک زلزلے سے 22 افراد جانبحق ایک ہزار سے زائد زخمی، ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ

استنبول(ویب ڈیسک) ترکی کے مشرقی صوبے الازیع میں آنے والے 6.8 شدت کے طاقتور زلزلے سے19 افراد ہلاک جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ ریسکیو ٹیمز تباہ حال عمارتوں کے ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کررہی ہیں۔

ترک خبررساں ادارے اناطولو کے مطابق ڈزاسٹر اینڈ منیجمنٹ پریزیڈینسی (اے ایف اے ڈی) نے ہلاکتوں اور 651 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں اے ایف ڈی اے کے حوالے سے بتایا گیا کہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 55 منٹ پر آیا 6.8 شدت کے زلزلے کے بعد 5.1اور 5.4 شدت کے آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔

زلزلے کے بعد لوگ بدحواس ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور سرد ترین موسم میں خود کو گرم رکھنے کے لیے سڑکوں پر آگ جلا کر بیٹھے رہے، جو لوگ اپنے گھروں میں واپس جانے سے خوف زدہ تھے انہیں طالبعلموں کے ہاسٹلز اور اسپورٹس سینٹر منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ’ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق مشرقی ترکی میں عراق اور شامی سرحد کے قریبی علاقوں کے علاوہ کئی صوبوں میں زلزلہ محسوس کیا گیا اور اطراف کے شہروں نے زلزلے کے متاثرہ مقامات پر ریسکیو ٹیمز روانہ کردی ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ترکی 2 بہت بڑی فالٹ لائنز پر قائم اور وہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔

1999 میں ترکی کے شمال مغربی علاقے میں 7.4 شدت کے زلزلے میں 18 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2010 میں الازیع میں آنے والا زلزلہ 51 افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔

ترک وزیر ماحولیات کے مطابق زلزلے سے دونوں صوبوں میں تقریباً 30 عمارتیں گر کر تباہ ہوئیں۔

ترک وزیر دفاع ہولوسی اکر کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے اگر ضرورت پڑی تو فوج شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال یہ ترکی میں آنے والا پہلا زلزلہ نہیں، اس سے قبل 22 جنوری کو مغربی صوبے مانیسا میں 5.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جبکہ اس کے ایک روز بعد ہی ترک دارالحکومت انقرہ 4.5 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں