50

چین: مہلک وائرس سے ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 17 ہوگئی

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین میں سارس کی طرح کے نئے اور مہلک وائرس سے سیکڑوں افراد متاثر جبکہ 17 ہلاک ہوچکے ہیں اس لیے حکام نے عوام سے شہر کو صاف رکھنے کی اپیل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین میں پھیلنے والے کورونا وائرس سارس وائرس سے ملتا جلتا ہے جو سال 2003-2002 میں چین کے مرکزی حصے اور ہانک کانگ میں 650 افراد کی ہلاکتوں سبب بنا تھا۔

رواں ہفتے نئے قمری سال کی چھٹیوں کے لیے لاکھوں افراد چین کا سفر کررہے ہیں جس کے لیے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اس وبا کو روکنے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس میں ایئرپورٹ، بس اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ طیاروں اور ٹرینوں کو اندر سے جراثیم نے پاک کرنا اور ہوادار بنانا شامل ہے۔

اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان میں بڑے عوامی اجتماعات منسوخ اور بین الاقوامی فٹبال میچز نئی جگہ منتقل کردیے گئے اس کے ساتھ سیر کے لیے آنے والوں کو روکنے جبکہ رہائشیوں کو مرکزی شہر سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ووہان شہر کی آبادی ایک کروڑ 10 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

شہر کے میئر ژو زیان وانگ نے سرکاری نشریاتی اداراے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ ہم لوگوں کو یہی مشورہ دیں گے کہ اگر بہت ضروری نہیں تو ووہان نہیں آئیں‘۔

ادھر بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بن نے بتایا کہ ’یہ بیماری سانس کے ذریعے پھیل رہی ہے اس لیے اس وائرس کے مزید پھیلنے کا امکان ہے‘۔

اس وائرس کے اب تک 500 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جس میں اکثریت چین کے صوبے ہوبے کے دارلحکومت ووہاں میں سامنے آئے۔

صوبائی حکام نے ایک پریس کانفرس میں بتایا کہ صرف ہوبے میں اس وائرس سے 444 افراد متاثر ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17 ہوچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں