49

گرتے بالوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے چند آزمودہ ٹوٹکے

تحریروتحقیق: تحریم صغیر
(فری لانس جرنلسٹ، فیشن ڈیزائنر)

بالوں کا گرنا یوں تو ایک قدرتی عمل ہے لیکن بالوں کا حد سے زیادہ گرنا یا گنج پن کی شکایت ہونا ایک توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ گرتے بالوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے چند آزمودہ اور آسان ٹوٹکے آزما کر دیکھیں ۔ ان سے نہ صرف بالوں کا گرنا کم ہو جائے گا بلکہ بال نرم و ملائم اور گھنے بھی ہو جائیں گے۔

ہلکا گرم زیتون کے تیل کی روزانہ سر پر ایک سے دو گھنٹے کی مالش ایک ہفتے میں ہی گرتے بالوں کو روک سکتی ہے ۔ زیتون کا تیل بالوں میں نمی کو برقرار رکھ کے انہیں غذایت فراہم کرتا ہے۔

پیاز کے رس میں موجود سلفر گرتے بالوں کو بچانے اور ان کو طاقت ور بنانے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ دو سے چار پیازوں کا رس نکال کر 15منٹ سے ایک گھنٹہ کے لئے اس سے بالوں کی مالش کریں، بعد ازاں بالوں کو شیمپو اور پانی سے دھو لیں۔

بادام کا تیل وٹامن ڈی حاصل کرنے اور گرتے بالوں کو بچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ رات کو سونے سے قبل سر پر بادام کے تیل کی مالش کریں پوری رات لگا رہنے دیں، صبح شیمپو سے سر دھو لیں۔

آلو کا رس نہ صرف بالوں کی نشونما کرتا ہے بلکہ گرتے بالوں کا علاج کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ آلو وٹامن اے، بی اور سی سے مالامال ہونے کی وجہ سے انسانی جسم کی اہم ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ 3 آلوئوں کے رس میں ایک انڈے کی زردی اور ایک چمچ شہد ملاکر بالوں پر لگائیں۔

گرتے بالوں کو بچانے کے لئے انڈے کو اچھی طرح پھینٹ کے اس میں تھوڑا سے نیم گرم تیل شامل کر کے بالوں کی جڑوں میں دس منٹ تک لگائیں پھر کم سے کم تیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور دھو لیں۔ ایلو ویرا جیل کو ناریل کے ساتھ اچھی طرح مکس کر کے بالوں پر تیس منٹ تک مالش کریں یہ سر میں خون کی روانی کو بہتر بنا کے بالوں کو گرنے سے روکتا ہے۔

کیسٹرآئل کی سر پر مالش خون کی روانی کو برقرار رکھتی ہے جس سے بالوں کی نشونما میں بہتری آتی ہے اور گرتے بالوں کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔

مصنفہ کے بارے میں:-

تحریم صغیر میڈیا کی طالبہ ہیں اور درس وتدریس کے شعبہ کے ساتھ منسلک ہیں، ملک کے نامور میڈیا گروپس میں کام کا تجربہ رکھنےکیساتھ ساتھ بیرون ملک بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ آج کل تحریم صغیر بطور فری لانس جرنلسٹ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مصنفہ ویب ڈیزائننگ، فیشن ڈیزائننگ ، کوکنگ اور دیگر فنون کی باقاعدہ ٹریننگ بھی حاصل کر چکی ہیں اور اب ملک کے طول و عرض میں بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں