48

بہترین نتائج کے لیے اپنی جلد کے مطابق ماسک کا انتخاب کریں

تحریروتحقیق: تحریم صغیر
(فری لانس جرنلسٹ، فیشن ڈیزائنر)

چہرے کی صفائی و حفاظت کیلئے اگرچہ کلینزر ،ٹونر اور موئسچرائزر بہترین انتخاب ہیں لیکن ان تینوں کے استعمال کے بعد بھی جلد کو کچھ خاص لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے ماسک ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں کیونکہ چہرے پر ماسک لگانے سے جو دھول مٹی کلینزر اور ٹونر کے بعد بھی بچ جاتی ہے ماسک اس کو اند ر تک صاف کر دیتے ہیں اگرچہ کلینزر ،ٹونر اور موئسچرائزر کو روزانہ کی بنیادوں پر استعمال کرنا چاہئے جبکہ ماسک ہفتے میں ایک بار لگانا ہی بہتر ہوتا ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کی جلد کیلئے کون سا ماسک بہتر رہے گا؟

جیل ماسک:-
بہترین نتائج کیلئے فیشل پیل ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ جلد کے اندر تک جاتا ہے اورجلد کے خشک اور مردہ خلیا ت کو صاف کر دیتا ہے جیل ماسک آئلی سکن کیلئے موزوں ہوتا ہے۔جن عورتوں کی جلد چکنی ہوتی ہے وہ اسے خشک کرنے کے چکر میں خراب کر بیٹھتی ہیں اور جلد بالکل ہی اکڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے جیل ماسک اگرچہ آئل فری ہوتا ہے لیکن اس سے جلد کو پانی مناسب مقدارمیں ملتا ہے جس سے جلد تروتازہ رہتی ہے۔حساس جلد والی عورتوں کیلئے جیل ماسک کسی نعمت سے کم نہیں

ملتانی مٹی کا ماسک:-
ملتانی مٹی کے ماسک کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ جلد سے زائد تیل کو جذب کر لیتا ہے ملتانی مٹی کا ماسک چکنی اور خشک دونوں قسم کی جلد کیلئے موزوں ہوتا ہے۔

شیٹ ماسک:-
یہ ماسک عموماََ کاغذ یا کپڑے سے بنا ہوتا ہے اور لیکوئیڈ میں ڈبو کر پیک کیا جاتا ہے۔یہ ماسک چہرے کی شیپ میں ہی کٹا ہوتا ہے ۔شیٹ ماسک چہرے کو پانی کی مناسب مقدار فراہم کرتا ہے ۔اسے صرف چہرے پر لگا کر خشک کر کے اتارنا ہوتا ہے۔یہ ماسک خاص طور پر چہرے کی جھریوں وغیرہ کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا جا تاہے

کریم ماسک:-
کریم ماسک خشک اور نارمل جلد کیلئے بہترین انتخاب ہے،کریم ماسک جلد کے اندر تک نشوونما کرتا ہے کریم ماسک کو پانی کی بجائے ٹشو یا روئی سے صاف کر کے پانی سے چہرہ دھویا جائے

مصنفہ کے بارے میں:-

تحریم صغیر میڈیا کی طالبہ ہیں اور درس وتدریس کے شعبہ کے ساتھ منسلک ہیں، ملک کے نامور میڈیا گروپس میں کام کا تجربہ رکھنےکیساتھ ساتھ بیرون ملک بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ آج کل تحریم صغیر بطور فری لانس جرنلسٹ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مصنفہ ویب ڈیزائننگ، فیشن ڈیزائننگ ، ککنگ اور دیگر فنون کی باقاعدہ ٹریننگ بھی حاصل کر چکی ہیں اور اب ملک کے طول و عرض میں بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں