66

چھٹیوں میں بچوں کی تربیت… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

والدین کو جونہی اللہ تعالیٰ اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے اسی وقت ان کے ذہن میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ اب انہیں اپنے لئے نہیں بلکہ اس ننھے پھول کیلئے جیناہے جو ان کے آنگن میں کھلا ہے۔ اس کی دیکھ بھال، اس کی پرورش اور اس کے روشن مستقبل کومحفوظ بنانے کی طرف دھیان جاتا ہے۔اوریہ حقیقت ہے کہ والدین اپنی اولاد کو تعلیم سے بڑھ کرکوئی تحفہ نہیں دے ہی نہیں سکتے۔کیونکہ تعلیم سے ہی اس کا مستقبل سنورسکتا ہے اور یہی اس کی کامیاب زندگی کی کنجی ہے۔لیکن آج کے عدیم الفرصت دور میں اگر فرصت کے کچھ لمحات میسر آ جائیں اور اہل خانہ مل جل کر کچھ وقت اکھٹے گزار سکیں تو بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے۔

سکولوں میں ہر سال گرمیوں کی تعطیلات کی آمد جہاں طالب علموں، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے کارکنان کے لیے باعثِ مسرت ہوتی ہیں وہاں والدین کی ذمہ داریوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ روزمرہ کے معمولات میں والدین کے لیے بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ان کی نصابی مصروفیات کے باعث کسی بھی مزید تربیتی منصوبہ پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتااور نہ ہی بچوں کو تعلیمی مصروفیت اور وقت کی قلت کے باعث یکسوئی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اس جانب بھر پور توجہ دے سکیں۔

لہذا تعطیلات بچوں کی دینی و دنیاوی تربیت کی منصوبہ بندی کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس لیے والدین ایک واضح عملی لائحہ عمل تیار کر کے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے علاوہ بچوں کی تربیت، کردار سازی اور انفرادی اصلاح کی کامیاب کوشش کر سکتے ہیں۔لیکن مصروفیت کے اس دور میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے والدین نے جس طرح خود کو لاتعلق کر لیا ہواہے اس پر نہ کسی کو تشویش ہے اور نہ ہی اس کے نقصان اور خسارے کا اندازہ ہے جو اس غفلت سے ماں باپ، خاندان اور معاشرے کو بھگتنا پڑ رہا ہے یا پڑے گا۔ہمارے تعلیمی اداروں میں عام طور پر سردیوں اور گرمیوں کے موسموں میں چھٹیاں ہوتی ہیں۔ لیکن ان چھٹیوں کو صرف انجوائے کرنے کے لیے خاص کردینا بھی نقصان دہ ہے۔

یہی چھٹیاں اگر لمبی ہوجائیں تو پھراس کے نقصانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لمبی چھٹیوں میں بچوں کا تعلیمی سلسلہ کچھ دنوں کے لیے رک جاتا ہے۔ اکثر طلبہ چھٹیوں کے بعد دوبارہ سنبھل نہیں پاتے اور ان کی عادتیں خراب ہوجاتی ہیں۔ گھریلو نگرانی نہ ہونے کے سبب کچھ بچے خراب صحبتوں اوربری عادتوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بعض طلبہ انٹر نیٹ، موبائل گیم اور فلم بینی میں اپنا پورا وقت برباد کرتے رہتے ہیں۔چھٹیوں میں رات دیر تک جاگنا اور صبح تاخیر سے اْٹھنا بچوں کا معمول بن جاتاہے۔ ایسے میں ہوم ورک کرنے میں یقیناًدشواری پیش آتی ہے۔ یوں تو ہر بچہ یہی چاہتا ہے کہ چھٹیوں کا کام جلد از جلد مکمل کرلے تاکہ باقی چھٹیاں خوب ہلاّ گلاّ اور موج مستی کرکے گزاریں جوکہ درست نہیں ہوتا۔

گرمیوں کی تعطیلات میں والدین بچوں کی تعلیمی کمزوریوں کو کم سے کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اساتذہ سے مل کراپنے بچوں کی کمزوریا ں معلوم کرنے کے ساتھ انھیں دور کرنے میں معاون مشورے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔بچوں کی خوبیوں اور خامیوں کی فہرست تیار کرکے انھیں دور کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کریں۔ چھٹیوں کے کام کا ایک بڑا مقصد چھوٹی کلاسوں کے بچوں کے اندازِتحریر، رفتارِ تحریر اور معیارِ تحریر میں خاطر خواہ بہتری لانا ہے۔ گرمی کی چھٹیاں ہوں یا سردی کی چھٹیاں یہ والدین کے لیے بڑی ذمہ داری کا مرحلہ ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے فکر مند والدین اور مخلص اساتذہ بھی اس بات کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ بچوں کی چھٹیاں کسی بھی صورت میں ضائع نہ ہوں۔ضروری ہے کہ والدین بچوں کے فطری سربراہ ہونے کے حوالے سے چھٹیاں ان کے ساتھ گزاریں۔

بچوں سے کچھ ایسی باتوں پر تبادلہ خیال کر یں جو ان بچوں کے ساتھ گزاری گئی چھٹیوں کو بہت ہی کارآمد اور ثمر آور بنا دیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ بچوں کی سکول سے دوری اساتذہ کی ان پر کی گئی محنت کو اکارت کر دے۔سکولوں میں بچوں کو ہوم ورک دینے کی رسم قدیم بھی ہے اور تربیت کے حوالے سے زیادہ کارآمد بھی۔انہیں ہوم ورک دینے کی ابتدا تو یقیناً چھٹیوں میں بچوں کو ذمہ داری کا احساس دلانے اور ننھی منھی زندگی کو بے مصرف بننے اور سمجھنے سے روکنے کیلئے ہوگایا اساتذہ کے ذہن میں یہ ہوگا کہ بچے تعلیم کے حصول کو اپنی منزل اور مقصد سمجھ کر ہوم ورک کریں اور اس سلسلہ میں کسی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ چھٹیوں کو آوارگی اور بے مقصدیت کا ”تحفہ“ نہ سمجھ لیں۔لیکن اکیڈمیوں کی مشروم گروتھ نے بالکل فارغ والدین کو اپنے بچوں کو ہوم ورک کرانے یا اس کی نگرانی کرنے کے کلیدی فرض سے بے نیاز کردیاہے۔ انہوں نے چند پیسے دیکر بچوں کو اکیڈمی یا گلی محلے میں کسی اسی نوع کے انتظام کا حصہ بنانے میں عافیت سمجھی۔ اپنی آزادی کیلئے اسے سستا سودا سمجھا۔جبکہ چھ سات دہائیاں پہلے ٹیوشن پڑھنے والے طلباء نالائق سمجھے جاتے تھے۔

اب تو ٹیوشن ایک لازمی بلکہ لازمی سے بھی زیادہ مفید ذریعہ بن چکی ہے۔ ایسے میں وہ آزاد منش والدین جو بچوں کی چھٹیوں پر بچوں کے گھر میں رہ کر ان کی آزادی میں مخل ہونے کی جدید سوچ کے اسیر تھے انہوں نے سکون کا سانس لیاہے۔ لیکن پھر بھی والدین بچوں کی چھٹیوں کے دنوں کو بامقصدبنائیں۔ بچوں کو نماز کی تاکید کی بجائے ان کے ساتھ ادائیگی نماز کو معمول بنائیں اورانہیں پنجگانہ نماز کا عادی بنائیں تا کہ بچوں میں نمازکی عادت پختہ ہو سکے۔بچوں میں قرآن مجید سے قلبی لگاؤ اور محبت پیدا کرنے کے لیے والدین روزانہ بچوں سے تلاوت کروانے کے ساتھ خود بھی قرآن مجید کی تلاوت کریں۔

والدین بچوں کے اسکول کے ہوم ورک کی مرحلہ وار تقسیم کرکے اپنی نگرانی میں روزانہ تھوڑا تھوڑا کام مکمل کروائیں۔ بچوں میں مطالعے کا ذوق بڑھانے کے لیے انہیں اچھی لائبریری سے متعارف کروائیں اور معیاری کتب منتخب کرنے میں ان کی مدد کریں تا کہ اسلامی لٹریچر اور علم کی ایک وسیع دنیا تک ان کی رسائی ممکن ہو سکے۔بچوں کی تربیت کے لیے کچھ خاص پہلو ایسے ہوتے ہیں جن پر تعطیلات میں ہی توجہ دی جا سکتی ہے مثلاً چھٹیوں میں سب اہل خانہ کھانا اکٹھے کھانے کا معمول بنائیں۔ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہو گا۔کھانے کے دوران بچوں کو بتایئے کہ وہ جو کھانا کھا رہے ہیں یہ کسی محنتی کاشتکار یا دکان کی وجہ سے ان تک پہنچتا ہے۔ انہیں بتایئے محنت سے کمایا گیا یہ کھانا ضائع نہ کیجئے۔ انہیں سکھایئے کہ کھاناکھانے کے بعد وہ اپنی پلیٹ خود دھوئیں۔اس سے ان میں محنت کی عظمت کا تصور واضح ہوگا۔

والدین کو چاہیے کہ گھر میں اگر بزرگ افراد جیسے دادا دادی یا نانا نانی موجود ہوں تو ان سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی بچوں کو شامل کریں مثلاً ان کے پاس وقت گزارنا، کھانا دینا، پانی پلانا اور صبح صبح انہیں اخبار پڑھ کر سنانا۔ ایسے سنہری لمحات بچوں کی تربیت کے لیے بہت ضروری ہیں۔رشتہ داروں سے میل جول اور ملاقات کے آداب سکھانے کے لیے انہیں رشتہ داروں سے ملاقات کروانے لے کر جائیں۔اس سے خونی رشتوں کی اہمیت، صلہ رحمی اور بھائی چارے کے جذبات پروان چڑھیں گے۔والدین بچوں کی دوستیاں اور ان کی صحبت پر نظر رکھیں۔چھٹیوں میں والدین بچوں کو مختلف ہنر سکھا سکتے ہیں مثلاً خوش خطی، مضمون نویسی، تجوید، آرٹ کے کام، بچیوں کو سلائی کڑھائی، کپڑوں کی مرمت، مہندی کے ڈیزائن وغیرہ۔ گھر میں اگر لان یا کیاری کی جگہ ہو تو والدین بچوں کو پودے اُگانے اور ان کی نگہداشت کرنا بھی سکھا سکتے ہیں۔

درختوں کی آپ کے بچے کی زندگی میں بہت اہمیت ہونا چاہئے۔ اس کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا، پودوں اور درختوں کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے سے تعلق کو مضبوط اور فطری بنایئے۔ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے بچپن کے واقعات اورخاندان کے بارے میں قصے فخر سے بیان کیجئے کہ وہ ان سے متاثرہوں اور ان میں خاندان کی محبت بڑھے۔ خاندان کو ایک کارآمد اکائی کے طورپر قبول کرنا ان کے ذہن پر انمٹ نقش کی طرح ہمیشہ ابھرا رہے۔ بعض ملی ترانے یا دھرتی سے جڑے گیت سکھائیں۔ اپنے بچوں کو کھیل کے میدان سے ضرور متعارف کرایئے۔

اپنے بچوں سے نظریں ملا کر بات کیجئے اور اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ اس نے آپ کو اتنا خوبصورت تحفہ دیا ہے۔ چند سالوں تک یہ بچے بہت بلندی پر نظرآئیں گے۔ والدین کی حیثیت سے آپ کیلئے سب سے اہم بات کہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ یہ آپ کی چھٹیوں کو یادگار بنا دے گا۔الغرض فرصت کے لمحات خصوصاً تعطیلات میں بچوں کی تربیت کے پیش نظر انہیں توجہ دینا ان کا بنیادی حق اور تربیت کا ناگزیر تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں