89

”کچھ نے کہا یہ چاند ہے ”: ابن انشاء … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: تنویر نعمان ہاشمی

لودھراں

اردو ادب کو ایسی کئی کرشماتی شخصیات بھی میسر آئیں جنھوں نے کچھ سالوں میں عشروں جتنا کام کردکھایا۔ گو دنیائے فانی میں وہ زیادہ عرصہ نہیں گذار سکے لیکن ان کی تخلیقات اور فن نے بعد از مرگ بھی انھیں زندہ رکھا.نہ صرف حیات میں ان کی خدمات کو سراہا گیا بلکہ بعد از وفات بھی انھوں نے اپنی مقبولیت برقرار رکھی. ایسی ہی ایک نابغہئ روزگار شخصیت کو دنیائے ادب ابن انشاء کے نام سے جانتی ہے. ان کی بھرپور تخلیقی زندگی کے سبب انھیں ” اردو ادب کا دیومالائی کردار” بھی کہا جا سکتا ہے جو مترجم ‘ مدیر’کالم نویس ‘ سفرنامہ نگار ‘ مزاح نگار اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری عہدے دار اور سفارت کار بھی تھے۔وہ اپنے اختیار کردہ ان تمام شعبوں میں بھرپور استعداد اور ہنرمندی کے ساتھ بروئے کار آئے اور اپنے بعد آنے والوں کو نئی سمتوں کے سفر میں مدد دی.بطور مقبول ادیب انھوں نے اپنے تعارف کے باب میں بھی خوب صورت منفرد اور دل چسپ پیرایہئ اظہار سے دوسروں کے لیے گنجائش ختم کر دی۔

ابن انشاء کی تاریخ پیدائش دیسی مہینوں کے حساب کے مطابق 15 جون 1927ء ہے جبکہ میٹرک کی سند پر 4جنوری 1924ء (ضرورتاً) درج ہے۔وہ جالندھر کے علاقے پھلور کے گاؤں ”تھلہ“ میں کھوکھر راج پوت خاندان میں منشی خاں اور مریم کی پہلوٹھی کی اولاد تھے.ان کا نام شیر محمد رکھا گیا۔ان کے والد منشی خاں کو خاندان کے ماحول کے باعث پرائمری پاس کرنے سے قبل ہی سلسلہئ تعلیم ترک کرنا پڑا تھا جس کا انھیں بے حد افسوس تھا۔ انھوں نے اپنے بھائی لبھو خاں کھوکھر کی مخالفت کے باوجود اپنے بیٹے کو تعلیم سے آراستہ کرنے کا تہیہ کیا۔ ابن انشاء ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں تھلہ اور پھلور سے حاصل کرنے کے بعد 1939ء میں ہائی سکول لدھیانہ کی سئنیر سپیشل کلاس میں داخل ہوئے جہاں انھیں انگریزی کا مضمون پاس کرنے کے بعد ہائی کلاس میں پہنچنا تھا۔انھوں نے یہاں فارسی اور ہندی کو بطور اختیاری مضمون ترجیح دی۔

1942ء میں امتیاز کے ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کیا۔میٹرک کے زمانے میں ”حمید نظامی ” سے خط کتابت ہونے لگی تھی سو ان کی ترغیب پر لاہور آئے اور اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔ رہائش کے ساتھ ہی اخبار کے دفتر میں چھوٹی سی ملازمت کا بندوبست بھی ہو گیا لیکن تھوڑے ہی عرصے میں طبیعت اچاٹ ہو گئی اور لدھیانہ آ گئے۔ کچھ ماہ بٹھنڈہ بھی مقیم رہے پھر انھیں انبالہ میں ملٹری اکاؤنٹس میں کلرک کی ملازمت مل گئی۔یہاں انھوں نے تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھایا اور 1944ء میں منشی فاضل کاامتحان اور 1945ء میں ایف اے کا امتحان پاس کیا. 1946ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے کا امتحان پاس کیا پھر پرسا انسٹی ٹیوٹ دہلی میں ملازمت کی اور ادارے کے رسالے کے مدیر بھی رہے. اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں خبروں کے مترجم مقرر ہو گئے۔ یہاں وہ ہارڈنگ لائبریری کے کمرے ہی میں مقیم تھے۔

تقسیم ہند کے وقت واپس ہوئے اور لاہور ہجرت کی 1950ء میں دستور ساز اسمبلی میں سینئر ٹرانسلیٹر مقرر ہوئے.انھوں نے 1956ء تک یہاں کام کیا اور اس دوران میں 1953ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا. وہ محکمہ ویلیج ایڈ اینڈ پبلسٹی میں ایڈیٹر مطبوعات بھی رہے اور اس ادارے کا ”پاک سرزمین ” کے نام سے رسالہ جاری کیا جو 1961ء تک جاری رہا.وہ پاکستان کونسل آف ایگری کلچرل ریسرچ میں کچھ عرصہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مطبوعات مقرر ہوئے. 1961ء ہی میں بیلجیم کے سرکاری دورے پر شعراء کے اجتماع میں پاکستان کی نمائندگی کی. وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی مجلس عاملہ میں شامل رہے. 1962ء میں نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر اور پھر 1964ء میں سربراہ مقرر ہوئے ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر تھا.

انھوں نے ادب کے فروغ کے لیے بھرپور کوشش کی اور کئی منصوبوں کی بنیاد رکھی. وہ ٹوکیو بک ڈویلپمنٹ پروگرام کے وائس چئیرمین اور ایشیین کو پبلی کیشن پروگرام کی مجلس ادارت کے رکن رہے.ملک اور بیرون ملک نمائشوں ‘ کتاب میلوں ‘ تعارفی سلسلوں کاانعقاد کیا اور پاکستانی مطبوعات بیرون ملک کام یابی سے متعارف کرائیں. وہ یونیسکو کے مطالعاتی پروگرام کے سرگرم رکن رہے. انھیں اچانک سرطان تشخیص ہوا تھا لیکن وہ اپنی بیماری کے بارے میں تذکرہ کرنے سے پہلوتہی کرتے۔ان کی طبعی شگفتگی اس تکلیف کی نذر ہونے لگی تھی۔ بیماری کے باعث بغرض علاج ان کی لندن پوسٹنگ کی گئی۔

وہ 26 فروری 1977ء کو پاکستان سے آخری بار روانہ ہوئے تو ان کی صحت یابی کے متعلق ان کے احباب پرامید تھے کہ سرکار کے تعاون سے وہ لندن علاج کے بعد مکمل تن درست ہو سکیں گے۔ ابن انشاء نے وہاں سے بھی حتی المقدور خدمت ادب کو جاری رکھا۔ انھوں نے کئی مخطوطات کی فلمیں بنا کر پاکستان بھیجیں۔بیماری کے ان ایام میں وہ وہاں پاکستانی سفارت خانے سے وابستہ رہے۔ ان کے لیے آپریشن تجویز کیا گیا تھا لیکن وہ کتراتے رہے دوستوں کے اصرار پر بالآخر انھوں نے آپریشن کرا لیا. آپریشن کے بعد ان کی خوش طبعی لوٹ آئی لیکن کچھ روز بعد طبیعت پھر بگڑ گئی اور 11جنوری 1978ء کو دنیائے ادب کا یہ چاند خاموشی سے ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔

ان کے جسد خاکی کو پاکستان لا کر تدفین کی گئی. میٹرک پاس کرنے سے قبل ہی ابن انشا ء کی شادی ہو گئی تھی۔ ابن انشاء نے عزیزہ بی بی کے ساتھ بچپن کے اس بندھن کو قبول نہیں کیا۔ان کی اس ازدواجی زندگی کی مدت 11سال ہی گنی جا سکتی ہے کیونکہ 1951ء کے بعد ان کی یہ منکوحہ گھریلو ناچاقی کے سبب اپنے بھائی کے ہاں فیصل آباد مقیم رہی۔ اس دوران ابن انشاء نے اس خاتون سے کوئی سروکار نہ رکھا جس سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئے۔

کراچی ملازمت کے دوران ایک بار انھوں نے سمجھوتہ کرتے ہوئے بیوی بچوں کو وہاں لے جانا چاہا لیکن والدہ کے حکم پر ایسا کرنے سے گریز کیا یوں ان کی خواہش کے با وجود ان کی حقیقی اولاد ان کی شفقت سے محروم رہی۔ جس کا انھیں بہت ملال تھا لیکن وہ اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ان کی دوسری شادی شکیلہ بیگم سے ممتاز مفتی کی وساطت سے 1969ء میں ہوئی۔ ابن انشاء کی چار بہنیں اور 2بھائی تھے۔ ہجرت کے بعد خاندان بھر کی کفالت کی ذمہ داری انھی کے کاندھوں پر آن پڑی. ان کا خاندان روایتی طور پر بہت سادہ اور مہمان نواز تھا۔ تقسیم کے سخت حالات میں بھی یہ لوگ آنے والے مہمانوں کی بساط کے مطابق خاطر کرنے میں تامل نہ کرتے تھے۔

ابن انشاء کی طبیعت میں حساسیت کا مادہ بہت زیادہ تھا۔ شاعری سے لگاؤ والد کی طرف سے تھا جنھیں پنجابی شاعری بہت پسند تھی اور کبھی کبھار اشعار موزوں کیا کرتے تھے. ابن انشاء نے بھی بچپن کے زمانے سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور ” اصغر ” تخلص کیا بعد میں ” مایوس عدم آبادی ” استعمال کرتے رہے پھر ” مایوس صحرائی ” ہو گئے۔ ابن انشاء کے بچپن ہی سے اختیار کردہ تخلص ان کے اندرون کا اظہار کرتے ہیں جس کے اثرات سے ان کا کلام بھر پور ہے. جب ابن انشاء لدھیانہ میں زیر تعلیم تھے تو ان کے اردو کے استاد برکت علی فائق نے ”مایوس ” نہ ہونے کی ترغیب دی اور ”قیصر ” کو بطور تخلص اختیار کرنے کی تجویز دی.یہیں ابن انشاء نے اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کے لیے میونسپل لائیبریری کا رخ کیا بعد ازاں اپنے دوست اور ترقی پسند دانش ور حمید اختر کے ساتھ مل کرائے پر کتب لا تے اور دونوں باری باری پڑھا کرتے تھے. اسی دور سے ابن انشاء کو چشمہ لگانے کی ضروت پڑ گئی تھی۔

وہ فقرے چست کرنے میں بے حد طاق تھے۔ میٹرک کے بعد وہ حمید اختر کو خطوط لکھتے جو بقول حمید اختر بے حد دل چسپ اور شگفتہ ہوتے حمید اختر کے ایک بار مختصر خط لکھنے کا شکوہ کرنے پر جواب میں انھوں نے 35صفحات کا طویل خط لکھا. اسی دور میں انھوں نے اپنے والد کے نام ”منشی ” سے اخذ کرتے ہوئے ابن انشاء کا تخلص ہمیشہ کے لیے اپنا لیا انھوں نے نظم و نثر میں طبع آزمائی کی اور دونوں شعبوں کے موضوعات میں متضاد روش اختیار کی۔ ان کی شاعری سنجیدگی ‘ اداسی اور وارفتگی کی کیفیات سے عبارت ہے.

” قیصر صحرائی ” کے نام سے ان کا مرتب کردہ دیوان تقسیم ہی میں کھو گیا تھا۔ اول اول وہ اپنی شاعری کے چھپوانے کو چھچھوری حرکت سمجھتے تھے۔ داخلی جذبات کی نمائش سے ان کو نفرت تھی۔ 1943 ء میں شیر محمد اختر کے رسالے ” شاہکار ” میں ان نظم ”ساحل پر ” شائع ہونے والی پہلی تخلیق تھی وہ شیر محمد اختر کو اپنا محسن گردانتے تھے جن کی وجہ سے شاعری کی طرف بھرپور متوجہ ہوئے. 1955ء میں ان کی مختصر ‘ طویل نظموں اور غزلیات پر مشتمل پہلا مجموعہ ” چاند نگر” شائع ہوا. اس میں ابن انشاء کی طبیعت کے اس پہلو کا اظہار تھا جو مخفی تھا. غم جاں اور غم زماں کے علاوہ اس میں گاؤں ‘ویرانی ‘اداسی ‘رات اور خزاں کی سی کیفیت ہے ان کے مطابق بعض نظموں کی تکمیل میں سالوں لگے.

ان کی مقبول ترین غزلیات اور نظموں کا دوسرا مجموعہ ”اس بستی کے اک کوچے میں ” 1976ء میں شائع ہوا غم عشق ‘جوگ بجوگ ‘کرب ذات اور فقر کی کیفیات سے پر یہ مجموعہ ابن انشاء کی قلبی واردات کا عکس ہے۔ ابن انشاء کی دیگر شعری کتب میں ” دل وحشی ” ٹھنڈا پریت (منظوم ترجمہ) ”چینی نظمیں ‘ ”بلو کا بستہ (بچوں کی نظمیں) ” شامل ہیں۔وہ مشاعروں میں نہیں جایا کرتے تھے اور فلموں میں گیت لکھنے کو اپنے مزاج کے موافق نہیں جانتے تھے. انھوں نے ہشت پہلو ادیب ہونے کے باوجود خود فقط شاعری کو ذریعہئ عزت سمجھا ہے۔

ابن انشاء کی نثر میں شائع ہونے والی پہلی تحریر ”معاہدہٗ چھانگا مانگا ” تھی جو. 1949ء میں ”سویرا” میں چھپی۔ مترجم کے طور پر انھوں نے یوجی این چیخوف کے ناول کا ترجمہ ”سحر ہونے تک ” کے عنوان سے کیا۔ انھوں نے ایڈگر ایلن پو کے 5افسانوی مجموعوں کے تراجم کیے امریکن مصنف او ہنری کے افسانے کا ترجمہ ”لاکھوں کا شہر ” کے عنوان سے کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے نکولس کے ناول کا ترجمہ ” محبوبہ ” کے عنوان سے کیا۔”شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام اور بچوں کے لیے کئی کہانیوں کے بھی تراجم کیے۔

ابن انشاء نے کالم نگاری اور مضمون نویسی میں شگفتہ اور دل کش اسلوب اپنایا۔ 1952ء تا 1953ء ”ڈان ” میں ان کے مضامین مختلف ناموں سے چھپتے رہے 1960ء میں ” درویش دمشقی ” کے نام سے ” امروز ” میں 1965ء میں ”باتیں انشاء جی کی ” کے عنوان سے ”انجام ” میں اور 1966ء سے روزنامہ ”جنگ ” میں ان کے کالم شائع ہوتے رہے چراغ حسن حسرت کی وفات کے بعد ”امروز ” کے کراچی ایڈیشن کی ذمہ داری انھی کو تفویض ہوئی.ان کے فکاہیہ تحاریر کے مجموعوں میں ”آپ سے کیا پردہ، ”خمار گندم ”،قصہ ایک کنوارے کا” ‘ ” باتیں انشاء جی کی ”اور ”اردو کی آخری کتاب ” شامل ہیں. انھیں کالم نویسی اور سفر نامہ نگاری میں نئے اسلوب کا بانی بھی کہا گیا. انھوں نے ایران ‘ افغانستان ‘ برطانیہ کے علاوہ لاطینی امریکہ اور یورپ کے اسفار کیے اور ایک باریک بیں مگر خوش طبع سیاح کی طرح اپنے سفر کے مشاہدات اور تجربات کو نثر کے قالب میں ڈھال کر طنز ومزاح کے انداز میں پیش کیا ان کا کہنا تھا:

” شاعر کو سندباد جہازی ہونا چاہیے ”

ان کے سفرنامے بے حد مقبول ہوئے ” دنیا گول ہے ” ‘ ”آوارہ گرد کی ڈائری ” ‘ ” چلتے ہو تو چین کو چلیے ” ‘ ابن بطوطہ کے تعاقب میں ” اور ”نگری نگری پھرا مسافر ” ان کے سفرناموں کے مجموعے ہیں. ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ان کی نثر میں ایک جملہ بھی دل چسپی سے خالی نہیں اور نظم میں ایک لفظ بھی زائد نہیں۔ سو ان کے کسی جملے اور مصرعے کو کم حیثیت نہیں سمجھا جا سکتا.ان کا کلام نامور گلوکاروں نے گا کر اسے گلی کوچوں تک پہنچایا۔ان کی نظم و نثر مختلف سطح کے نصاب کا حصہ ہے۔ادبی خدمات پر انھیں تمغہئ حسن کارکردگی کا حق دار ٹھہرایا گیا. پاکستان میں ان کی یاد میں ڈاک ٹکٹ کا بھی اجراء کیا گیا انھوں نے اردو زبان وادب پر ان مٹ نقوش چھوڑے ابن انشاء کے متعلق ان کے ادیب دوست ابراہیم جلیس نے بجا طور پر کہا تھا:

” ابن انشاء جاں فزا تبسم ہی نہیں سر مژگاں لرزتا آنسو بھی ہیں ”

ابن انشاء کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودہئ خاک ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں