43

پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ دینے والی عدالت غیر آئینی قرار، فیصلہ کالعدم

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے دیا، خصوصی عدالت نے آئین شکنی کیس میں پرویز مشرف کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سابق صدر پرویزمشرف کی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آرٹیکل 6 اور کابینہ فیصلے پر مختلف دلائل دیتے ہوئے کہا 18ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل6 میں ترمیم کی گئی، 3 نومبر 2007 کے اقدام کو سنگین جرم قراردیاگیا اور 26 جون 2013کے کابینہ اجلاس میں مشرف کیس شامل نہیں تھا۔

سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان کے دلائل کے بعد عدالت نے آئین شکنی کیس کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ جسٹس مظاہر علی اکبر کی سربراہی میں فل بینچ نےمتفقہ فیصلہ سنایا، ینچ میں جسٹس امیربھٹی اورجسٹس مسعود جہانگیر بھی شامل تھے، جس میں عدالت نے پرویز مشرف کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئین شکنی کیس کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

عدالت نے کریمنل لااسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976کی دفعہ9 بھی کالعدم کرتے ہوئے کہا آرٹیکل6 کےتحت ترمیم کا اطلاق ماضی سےنہیں کیا جاسکتا۔

یاد رہے سابق صدر پرویزمشرف نے خصوصی عدالت کےخلاف درخواست دائرکی تھی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی ہے، پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی، نوازشریف نے اپنی صوابدید پر خصوصی عدالت قائم کی، خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت کوئی عمل قانون کے مطابق نہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ہائی کورٹ خصوصی عدالت کی کارروائی اور تشکیل کو غیرآئینی قرار دے، جس پر عدالت نے پرویز مشرف کی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف درخواست قابل سماعت قرار دی تھی۔

خیال رہے کہ 17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے آئین شکنی کیس میں محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر و سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا، عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں