80

زندہ ادیب: سعادت حسن منٹو… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: تنویر نعمان ہاشمی
لودھراں

ادیب کی زندگی اس کی تخلیق سے منسلک ہے۔ اردو نثر کی تاریخ میں امر ہو جانے والے ادباء کی تعداد انگلیوں پربآسانی گنی جا سکتی ہے۔ایسے ہی ایک زندہ ادیب سعادت حسن منٹو ہیں۔غلام حسن منٹو امرت سر کے محلے کوچہ وکیلاں میں اپنے خاندان کے ہمراہ سکونت پذیر تھے۔اجداد کشمیری پنڈت ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ غلام حسن منٹو کی پہلی شادی جان بی بی سے ہوئی جس سے چارلڑکے اور ایک لڑکی تولد ہوئے دوسری شادی لاہور کی سردار بیگم سے ہوئی۔ اقبال بیگم اور سعادت حسن اسی بیوی سے اولاد ہوئی۔سردار بیگم افغانستان کی رہنے والی تھیں۔ ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہورمیں آبا د ہوا۔

سعادت حسن کی پیدائش 11 مئی 1912 ء کو موضع سمبرانوالہ میں ہوئی۔والد اس وقت غالباً لدھیانہ کی کسی تحصیل میں سب جج کے عہدے پر تعینا ت تھے۔انہوں نے قبل ازوقت ریٹائر منٹ لے لی تھی۔ امر ت سر میں 1930 ء میں 72 سال کی عمر میں وفات پائی۔سعات حسن منٹو بچپن سے کھلنڈرے اور شرارتی تھے۔ دوست انہیں ٹامی کہا کرتے تھے۔ابتدائی تعلیم گھرپر حاصل کی۔1921 ء میں ایم۔اے اومڈل سکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرا دیا گیا۔میڑ ک کے امتحان میں تین بار فیل ہوئے۔1931 ء میں میڑک کا امتحان تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا۔ میٹر ک ہی میں والد کی سخت مزاجی سے تنگ آکر بمبئی بھا گ گئے تھے۔ ہندو سبھا کالج میں ایف۔اے میں داخلہ لیا مگر درمیان میں چھوڑ کر ایم۔اے او کالج میں سال دومیں داخلہ لے لیا۔ یہاں کالج کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ کالج میگزین ”ہلال“ کی ادارت کی۔منٹو نے دو با رایف۔اے مگر ناکام ہوئے۔

چونکہ منٹو کے میٹرک کا امتحان پاس کرنے سے قبل ہی ان کے والد وفات پا گئے تھے لہذا منٹو کو خاندان کی طرف سے آزادی میسر آئی جبکہ دیگر سوتیلے بھائیوں نے اعلیٰ تعلیم پائی۔خواجہ حسن عباس، عاشق علی فوٹو گرافر اور ابو سعید قریشی کے بچپن کے دوست تھے۔1935 ء میں منٹو نے ابو سعید قریشی کے ہمراہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ایف اے کے سال دوم میں داخلہ لیا۔منٹو کی صحت شروع ہی سے کمزور تھی۔ علی گڑھ میں بیمار پڑ گئے۔علاج کے لیے دہلی گئے ڈاکٹروں نے ٹی بی کی تشخیص کی اور کچھ عرصہ صحت افزا مقام پر گزارنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ منٹو نے کشمیر کے قصبے بٹوٹ میں تین ماہ تک قیام کیا۔

منٹو کو لکھنے پڑھنے کا شروع ہی سے شوق تھااگرچہ رسمی تعلیم سے بغاوت اختیار کیے رکھی مگر زندگی کو اپنی مرضی سے گزارنے کی دھن کی طرح حصول علم میں اپنا راستہ خود چنا۔وہ لائبریری سے کرایہ پر کتب حاصل کرتے اور شوق مطالعہ کہ تسکین کرتے کیونکہ مالی حالات ایسے نہ تھے کہ کتب خرید سکتے۔ایف اے کے دوران میں منٹو کی ملاقات باری علیگ سے ہوئی جو مارکسی ادیب اور دانشور تھے۔

منٹو نے ابتداء میں انقلابی تحریروں کے تراجم کیے جو کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے ان میں وکٹر ہیوگو کی ”سرگزشت اسیر“ آسکر وائلڈ کاڈراما”ویرا“ اور”روسی افسانے“ شامل ہیں۔یہ1932 ء سے 1934 ء تک کا دور تھا۔ منٹو نے بعد میں جیخوف کی کہانیوں کا ترجمہ کیا۔منٹو کا پہلا افسانہ ”تماشا“ امرت سر کے اخبار ”خلق“ میں شائع ہوا جس کے مدیر باری علیگ ہی تھے۔باری علیگ کے مشورے پر منٹو 1935 ء میں لاہور منتقل ہو گئے جہاں چنگڑ محلہ عقب گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک چوبارے پر رہائش اختیار کر نا پڑی۔

باری علیگ کی وساطت سے منٹو کو ہندو کر م چند کے اخبار پارس میں چالیس روپے ماہوار پر ملازمت ملی۔ اس ملازمت کے سا تھ ساتھ منٹو نے ”ہمایوں“ اور عالمگیر کے روسی اور فرانسیسی ادب نمبر مرتب کیے۔مالی حالات بہترنہ ہونے کے سبب جلد ہی منٹو بمبئی پہنچے اور فلمی ہفت روزہ ”مصور“ میں معمولی ملازمت اختیار کر لی۔ منٹو کو بچپن سے فلم سے دلچسپی تھی لہذا اچھے مستقبل کی امید پر 1936ء سے 1941ء تک منٹو اسی رسالے سے وابستہ رہے۔بمبئی قیام کے دوران میں آٹھ کے قریب فلم کمپنیوں میں بطور منشی، مکالمہ نویس اور سکرپٹ رائٹر کام کیا۔ بارہ فلمی کہانیاں لکھیں جن میں ”اپنی نگریا‘ ”بیگم“اور ”شکاری“ وغیرہ شامل ہیں۔

بمبئی میں منٹو کی شادی صفیہ نامی کشمیری خاتون سے ہوئی جو یتیم تھی اور اس کے چچا نے اس کی پرورش کی تھی۔1939-40 ء کے دور میں منٹو نے دہلی میں قیام کیا اس دوران فیچر رائٹر کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو دہلی کے لیے ڈرامے لکھے یہاں منٹو کی ملاقات کرشن چندر،بیدی اور راشد وغیرہ سے ہوئی۔1941ء میں منٹو نے واپسی بمبئی آکر ”مصور“ کی ادارت سنبھالی مگر چھے ماہ بعد ہی فلموں کے لیے کام شروع کیا۔ یہاں منٹو کو مالی آسودگی حاصل تھی تنخواہ ایک ہزار کے قریب تھی۔

منٹو کے ہاں بمبئی میں بیٹا بھی پیدا ہواجو چند ماہ بعد فوت ہو گیا۔ منٹو نے اس بچے کا نام خالد رکھا تھا۔ اس بچے کی وفات نے منٹو کو بہت غمزدہ کر دیا تھا۔ منٹو نے اس پر ایک افسانہ بھی لکھا۔بمبئی میں منٹو نے اپنی ایک فلم ”آٹھ دن“ میں لیفٹننٹ کرپا رام کا کردار بھی ادا کیاجو منٹو کی زندگی کا منفرد واقعہ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جنوری 1948ء میں سنٹر لاہور آگئے اور لکشمی مینشن ہال روڈ کے فلیٹ میں رہائش اختیار کی۔ یہاں منٹو نے ایک بار پھر فلم کے لیے کام کرنے کی کوشش کی مگر فلم انڈسٹری اور منٹو کی مالی حالت خستہ تھی لہذا منٹو کی فلم ”بیلی“ بری طرح ناکام ہوئی۔

منٹو کی مالی حالت کے پیش نظر قدرت اللہ شہاب نے جو ڈائریکٹر انڈسٹریز تھے منٹو کوایک برف خانہ الاٹ کرا دیا۔ایک حقیقی ادیب کاروبا ر کیا کرتا،منٹو نے خود یہ الاٹمنٹ پندرہ دن بعد منسوخ کرادی۔منٹو نے روزنامہ”امروز“ ”آفاق“ اور دوسرے پرچوں میں مضامین اور افسانے لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ معاشی بد حالی کے سبب”نقوش“ ”ادب لطیف“ ”سویرا“کے دفاتر کے چکر لگاتے جو ایڈیٹر منٹو سے افسانہ مانگتا اسے بیس روپے کے عوض منٹو افسانہ لکھ کر تھما دیتے یوں افسانہ نگاری میں روزانہ کی بنیادوں پر تیزی آگئی۔منٹو تین بیٹیوں کے باپ بن چکے تھے۔لڑکپن سے مے نوشی کی عادت نے کمزور صحت پر مزید برے اثرات چھوڑے۔ منٹو نے اپنی نے نوشی کی عادت ترک کر نے کی کوشش بھی کی۔انہیں حو اس میں خلل پیدا ہونے کے سبب پاگل خانے داخل ہونا پڑا۔

دو مرتبہ پاگل خانے میں داخل ہو کر علاج کرانے کے باوجود منٹو کو شفا نہ ملی۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل منٹو میں جینے کی خواہش تک ختم ہو چکی تھی۔ خواہش مرگ اس کی جگہ لے چکی تھی ڈاکٹر کی ہدایت کے باوجود شراب نوشی بڑھتی جار ہی تھی۔ آخر 18 جنوری 1955 ء کو وہ گھڑی آن پہنچی جس کا منٹو نے شدت سے انتظار کر لیاتھا۔ اپنی بیوی صفیہ سے کہہ گئے آخری الفاظ یہ تھے۔

”اب اس اذیت کو ختم ہو جانا چاہیے“

منٹو نے 42 سال کی عمر پائی اور قبرستان میانی صاحب لاہور میں مدفون ہیں۔ منٹو نے اپنی قبر کے لیے کتبہ خود تحریر کیا تھا۔

منٹو پر فحش نگارہونے کا الزام ہے۔اس حوالے سے پانچ مقدمات درج ہوئے تین مقدمات قیام پاکستان سے قبل جبکہ دو مقدمات قیام پاکستان کے بعد درج ہوئے ہیں۔ان مقدمات میں منٹو اور ناشرین کو سزا بھی سنائی گئی جبکہ اپیل میں منٹو بری بھی ہوئے۔
منٹو کی تصانیف درج ذیل ہیں؛

1۔ڈرامے
۱۔ منٹو کے ڈرامے ۲۔ آؤ ۳۔ کروٹ ۴۔ عورتیں

2۔خاکے
۱۔ لاؤڈ سپیکر ۲۔گنجے فرشتے ۳۔ عصمت چغتائی ۴۔ نور جہاں سرورِجہاں

3۔مضامین
۱۔ منٹو کے مضامین ۲۔ تلخ، ترش اور شیریں ۳۔ اوپر نیچے اور درمیان ۴۔ جنازے ۵۔ برقعے

4۔افسانوی مجموعے
۱۔ دھواں ۲۔ آتش پارے ۳۔ منٹو کے افسانے ۴۔ لذت سنگ ۵۔ چغد
۶۔ ٹھنڈا گوشت ۷۔ بادشاہت کا خاتمہ ۸۔ یزید ۹۔ خالی بوتلیں خالی ڈبے ۰۱۔ نمرود کی خدائی
۱۱۔سڑک کے کنارے ۲۱۔ سرکنڈوں کے پیچھے ۳۱۔ پھندنے ۴۱۔ رتی ماشہ تولہ ۵۱۔ انار کلی
۶۱۔ شکاری عورتیں ۷۱۔ ایک مرد ۸۱۔ سیاہ حاشیے

منٹوہمارے درمیان موجودنہیں لیکن ان کا فن ادب کے ٖشائقین کومتوجہ کرتے ہوئے ان کی موجودگی کااحساس دلاتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں