85

نشترمیڈیکل یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹرمحمد سلیم سرکاری الاؤنس میں غبن ثابت ہونے پر پیڈا ایکٹ کے تحت چارج شیٹ

ملتان (عبدالشکورحیدری سے) نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے ڈاکٹر محمد سلیم کوغبن شدہ سرکاری الاؤنس کی انکوائری میں جرم ثابت ہونے پر PEDA ACT 2006 کے تحت چارج شیٹ کردیا گیا. انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمد سلیم پر غبن شدہ سرکاری رقم کا الزام ثابت ہواتھا۔

تفصیلات کے مطابق شہری محمد اکرم نے نشتر ہسپتال کے وائس چانسلر کو درخواست دی تھی کہ ڈاکٹر محمد سلیم اپنے ذاتی ہسپتال ‘گلزارہسپتال اینڈ میٹرنٹی  ہوم’ چونگی نمبر 6 بوسن روڈ ملتان میں غیر قانونی آٌپریشن کرنیکے ساتھ ساتھ گورنمنٹ آف پاکستان سے نان پریکٹس الاؤنس بھی وصول کررہا ہے۔ جس پر نشتر ہسپتال کے پرو وائس چانسلر ڈاکڑ احمد اعجاز مسعود کی زیرنگرانی چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کرکے ڈاکٹر محمد سلیم کو مجرم قرار دے دیا تھا۔ اور فوری طور پر ڈاکٹر محمد سلیم سے غبن شدہ رقم وصول کرنیکا حکم کرتے ہوئے پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت بھی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔

نشتر ہسپتال کے ایم ایس نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر محمد سلیم کوPEDA ACT 2006 کے تحت چارج شیٹ کردیا ہے اور سیکرٹری ہیلتھ کو بھی مطلع کردیا گیاہے.

یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد سلیم کے ‘گلزارہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم’ میں ڈاکٹر محمد سلیم اور اسکی اہلیہ ڈاکٹر نفیسہ سلیم کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے شہری محمد اکرم کی بیوی کی موت واقع ہو گئی تھی۔ جس کا کیس پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن میں بھی چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نشترمیڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹرمحمد سلیم پرسرکاری الاؤنس کے غبن کا الزام ثابت، انکوائری رپورٹ جاری

شہری محمد اکرم نے نشتر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹرمحمد سلیم سے انکوائری میں کم ریکوری کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر محمد سلیم عرصہ 30 سال تک نان پریکٹس الاؤنس لیتا رہا ہے اس لیے دوبارہ شفاف ری کیلکولیشن کروا کر ملک و قوم کا لوٹے ہوئے پیسے کی پائی پائی وصول کی جائے.

شہری محمد اکرم جس کی درخواست پر کارروائی کی گئی

مزید برآں شہری نے ہیلتھ کئیر کمیشن سےدرخواست کرتےہوئے کہا ہے کہ میری بیوی کے موت سے دو ماہ پہلے ڈاکٹر محمد سلیم کے پرائیویٹ ہسپتال گلزار ہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم کی انتظامیہ کودسمبر 2018 میں پنجاب ہیلتھ کئیر کمشن کی ٹیم سختی سے منع کر کے گئی تھی کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے آپ ہسپتال میں کسی بھی قسم کا آپریشن نہیں کر سکتے لیکن اسکے باوجود بھی گلزار ہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم کی انتظامیہ اپنے سیاسی اثرورسوخ اور دولت کے بل بوتے پر مسلسل انسانی جانوں سے کھیل رہی ہے جس کا شکار میری بیوی بھی ہوئی۔اور تاحال موت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے فوری طور پر کارروئی کی جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں