38

پاکستان خطے کے کسی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اپنی سرزمیں کسی کے خلاف استعمال کرنیکی اجازت دیگا: وزریرخارجہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی پاکستان خطے کے کسی تنازع میں حصے دار بنے گا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرِ صدارت ایوان بالا کے اجلاس میں امریکا-ایران کشیدگی سے متعلق بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 27 دسمبر کو ایک راکٹ حملے کے ذریعے عراق میں امریکی قافلے پر حملہ ہوا اور اس میں ایک امریکی کانٹریکٹر مارا گیا اور دیگر زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 29 دسمبر کو اس حملے کے ردعمل کے نتیجے میں امریکا نے کارروائی کی اور اس ملیشیا کے 25 افراد ہلاک ہوئے اور 50 زخمی ہوئے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حملے کے جواب میں 31 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جنہوں نے جلاؤ گھیراؤ بھی کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خوش قسمتی سے امریکی سفارت خانے کو بروقت خالی کروالیا گیا تھا اس لیے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے یکم جنوری 2020 کو اس احتجاج کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا بلکہ ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی، جنہیں بعد میں نشانہ بنایا گیا، انہیں اس کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ حالات نے نئے تناؤ کو جنم دیا جو اسامہ بن لادن اور ابوبکر البغدادی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ 3 جنوری کو ایک ڈرون کے ذریعے قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا. جس کے نتیجے میں ان کا انتقال ہوگیا اس کے ساتھ ساتھ عراق کی ملیشیا کے ڈپٹی کمانڈر ابو المہدی المہندس اور دیگر 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ خطے پر نظر رکھنے والے ماہرین اس واقعے کو نہ صرف تشویش ناک قرار دیتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ اہمیت کی لحاظ سے ان کی نظر میں اس واقعے کے اثرات 2011 کے آپریشن میں اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے اور 2019 میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے بھی زیادہ گہرے، سنگین اور تشویش ناک ہوسکتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران اور عراق میں احتجاجی کیفیت نے جنم لیا لوگ سڑکوں پر آگئے اور غم و غصے کا اظہار کیا جو آج بھی جاری ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ احتجاجی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ایران کی قیادت نے سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اس کے ساتھ ساتھ عراق میں بھی اس کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا اور جب 2 روز قبل قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تو لوگوں کی تعداد سے اندازہ لگالیں کہ ردعمل کی کیفیت کیا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عراق کی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس گزشتہ روز طلب ہوا اور اس اجلاس میں پوری صورت حال کا احاطہ کرنے کے بعد قرارداد منظور کی گئی کہ تمام غیر ملکی فوجیوں کو ملک چھوڑ دینا چاہیے اور وزیر خارجہ کو ہدایت کی گئی کہ امریکی فضائی حملہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتا ہے لہٰذا اقوام متحدہ میں احتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطے میں ابھی جو صورت حال ابھر رہی ہے اس کو بھانپتے ہوئے 3 جنوری کو حکومتِ پاکستان نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’میں نے خطے کے اہم وزرائے خارجہ سے بات چیت کی، میں نے ایران کے وزیر خارجہ سے تفصیلی بات چیت کی اور اس واقعے پر پاکستان کا موقف پیش کیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ میں نے متحدہ عرب امارات، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بھی بات چیت کی‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بہت نازک اور تشویشناک ہے اور یہ کوئی کروٹ لے سکتی ہے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای برملا اظہار کرچکے ہیں اور اپنی قوم سے انتقام کا وعدہ کرچکے ہیں اور ایران کے صدر حسن روحانی امریکی حملے کو ’ عالمی دہشت گردی‘ سے تشبیہ دے چکے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ سے جب بات چیت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خطرناک فعل تھا اور احمقانہ تھا اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عراق کے وزیراعظم نے کہا کہ امریکی ڈرون حملہ عراق اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

وزیر خارجہ نے امریکا کا وزرات دفاع پینٹاگون اپنا ردعمل دیا اور اعتراف کیا کہ ہم نے یہ حملہ کیا جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیا، امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو نے کہا کہ اطلاعات تھیں جنرل قاسم سلیمانی مزید امریکی اہلکاروں اور سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ’ یہ کشیدگی پہلے سے تھی جو تناؤ مشرق وسطی میں دکھائی دے رہا ہے یہ آج پیدا نہیں ہوا اس میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا ہے، اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور آگ بھڑکنے کے امکانات نظر آرہے ہیں‘۔

وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ متعلقہ فریقین صبر اور تحمل کا مظاہرہ نہیں کرتے تو مشرق وسطیٰ نئی جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور دنیا ایک نئے چیلنج کے لیے تیار ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے ذہن میں 3 اہم نقطے ہیں، پہلا وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ اقدام جنگ کو روکنے کے لیے تھا، دوسرا یہ کہ اب ہم مذاکرات اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تیار ہیں، ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کی جانب سے کوئی ردعمل آیا تو ہمارا ردعمل اس سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تمام معاملے کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان سمجھتی ہے اور دفتر خارجہ کا موقف ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کے اثرات کو ہم نے بحیثیت قوم سمجھنا ہے کیونکہ اس معاملے کا اثر ہوگا اور وہ استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے ہمیں امن اور ستحکام کو خطرہ دکھائی دے رہا ہے جس پر حکومت پاکستان کو شدید تشویش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں