55

مذہبی ہم آہنگی … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: محمد اکرام
ملتان

گرد،گداوگورستان کے الفاظ جب بھی کسی کی زبان سے ادا ہوتے ہیں تو سامع کی ذہن میں فوراً جس شہر کا نام ابھرتا ہے وہ قدیم شہر ملتان کا ہی ہے۔ملتان کا تاریخی پس منظربتاتا ہے کہ یہ شہر اپنی میٹھی زبان اور یہاں کے باسیوں کے انتہائی ملنسار رویہ کی وجہ سے ہمیش یہاں آنے والوں کے دل میں فوراً بس جاتا ہے۔

تاریخ کی کتابوں کی ورق گردانی سے اس شہر محبت کی یہ خاص بات بھی نمایاں ہوتی ہے کہ یہاں کی تہذیب نے اپنے دامن میں مختلف مذاہب سے وابستہ افراد کو ہمیشہ وسیع جگہ دئیے رکھی۔ یہاں صدیوں تک ہندو،سکھ،مسیحی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد آباد رہی ہے۔لیکن یہ شہر اور یہاں کے باسی ہر مذہب کے ماننے والوں کو بلا تفریق پیار، محبت اور احترام دیتے رہے ہیں.

حال ہی میں جب ملتان میں انٹرنیشنل ماس ریسلرزڈیوڈمارٹن،وائس پریذیڈنٹ انٹرنیشنل ماس ریسلنگ فیڈریشن لینا ٹومس کایا،چولپوئی کبلیبک اور ماس ریسلنگ فیڈریشن کے پریس سیکرٹریز نے وفد کے ہمراہ ملتان کے تاریخی مقامات کا دورہ کیاتو ان کو بھر پورخوش آمدید کہا گیا۔ ملتانیوں کی اس فراخ دلانہ محبت پر وفد کے اراکین یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ”پاکستان اورملتان کے عوام پرْ امن اور محبت کرنے والے لوگ ہیں،یہ اپنے مہمانوں کو جس انداز میں عزت دیتے ہیں وہ کبھی نہیں بھلائی جا سکتی“۔

انٹرنیشنل ریسلرز کی یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ملتان سمیت پورے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی ہے۔مختلف مذاہب کی پاکستان کے تمام اداروں بشمول پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج میں مکمل نمائندگی موجود ہے۔ پاکستان اقوام عالم کو ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان بینالمذاہب ہم آہنگی کا نہ صرف داعی ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس کا فروغ بھی دیتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں