90

پاکستان ریلوے، ضلع لودھراں کے خونی ریلوے پھاٹک اور معصوم طلباء کی یادیں … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

قیامِ پاکستان سے قبل 1861ء میں خطے میں سب سے پہلی ریلوے لائن کراچی اور کوٹری کے درمیان بچھائی گئی تھی اور سب سے پہلا ریلوے حادثہ بھی اس ٹریک پر ہوا۔ 1953ء میں پیش آنے والے اس ریل حادثہ کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ 1990ء میں سکھر سے 10 کلومیٹر دور سانگھی کے مقام پر 2 ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں اور نتیجے میں 350 سے زائد افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ حادثہ پاکستان ریلوے کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔ایسے حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع تو ہوتا ہی ہے مگر مالی طورپر بدحال محکمہ مزید نقصان سے دوچار ہو رہا ہے۔

ریلوے حادثات کے 2019ء کے اعداد و شمار پراگر نظر ڈالی جائے توایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کے سال2019میں 175سے زائد ٹرین حادثات ہوئے جس میں 200سے زائد افراد جاں بحق اور300سے زائد افراد زخمی یا معذور ہوئے۔سال2019ء میں ٹرین کے پٹڑی سے اترنے کے 39،بغیر پھاٹک کراسنگ پر40،ٹرینوں کو آگ لگنے کے 28،مسافر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کے ٹکرانے کے 8،مال بردار گاڑیوں کے پٹڑی سے اترنے کے 53اور دیگر 10حادثات ہو چکے ہیں۔

2019ء کا سب سے خوفناک حادثہ 31اکتوبر کو چنی گوٹھ ریلوے اسٹیشن پر تیز گام ٹرین کو پیش آیا جہاں ٹرین کی تین بوگیاں جل کر خاکستر ہوئیں تو وہاں 75سے زائد مسافر بھی زندہ جل کر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔سال2019ء کا ٹرین کادوسرا بڑا حادثہ 11جولائی کو ولہاڑ ریلوے اسٹیشن پراس وقت پیش آیاجب اکبر ایکسپریس ٹرین مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔جس کے نتیجے میں 24افراد لقمہ ا جل بنے.18 جون کو جناح ایکسپریس کی ڈائیننگ کار جل گئی۔20جون کو جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہو گئے۔19جون کو رحمان ایکسپریس حیدر آباد کے قریب کار سے ٹکرا گئی جس سے متعدد افراد جاں بحق ہو گئے۔بزنس ٹرین لاہور کے قریب مسافر رکشہ سے ٹکرا گئی۔جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔

اس کے علاوہ بھی 10 سے زائد ٹرین حادثات کے واقعات ہوئے جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔9دسمبر کو سرگودھا ایکسپریس ٹرین کو نشتر آباد ریلوے اسٹیشن کے قریب حادثہ پیش آیا جس میں فائر مین جاں بحق ہوا۔محراب پورہ میں ذکریا ایکسپریس اوورشوٹ کر گئی جناح ایکسپریس کی پالے خاں اسٹیشن کے قریب ٹرک سے ٹکر ہوگئی۔تھل ایکسپریس کو ملتان کے قریب حادثہ پیش آگیا۔ سال 2019ء کے پہلے5ماہ میں ہی ریلوے انجن خراب ہونے کے 111واقعات پیش آئے۔ان حادثات کی وجہ 11881کلو میٹر بوسیدہ ٹریک ہے۔جسے تبدیل نہیں کیا جا رہا۔خصوصاً ناقص سگنلز سسٹم جو کہ دھند اور بارش کے دنوں میں اکثر خراب ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں ریلوے ٹریک پر 1341کچے پھاٹک ہیں جن کی وجہ سے اکثر دل دہلا دینے والے حادثات رونما ہو جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک خون کے آنسو رلا دینے والاٹرین حادثہ 6جنوری2017 بروزجمعۃ المبارک 8بجے صبح لودھراں میں جلال پور ریلوے پھاٹک پر پیش آیا۔ یہ حادثہ بھی کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ ایک چاند گاڑی میں سوار 11 معصوم بچے بستوں میں اپنے خواب سمیٹے سمیع اللہ ڈرائیور کے ساتھ صبح سکول جا رہے تھے کہ جلال پور روڈ لودھراں میں واقع ریلوے پھاٹک پر چاند گاڑی حویلیاں سے کراچی جانے والی ہزارہ ایکسپریس کی زد میں آ گئی۔چاند گاڑی میں سوار5بچے اور ڈرائیورموقع پر ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ باقی ہسپتال میں داخل زخمیوں میں سے 3بچوں کی روح بھی پرواز کر گئی۔

ان تمام بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔اب ہر سال کا6جنوری معصوم شہید طلباء اور ڈرائیور کی یاد دلا کر آنکھوں کو گیلا اور دل کو دکھی کر جاتا ہے۔ضلع لودھراں میں لودہراں ریلوے جنکشن ملکی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہاں سے بہاولپور،سمہ سٹہ، ملتان، خانیوال، کہروڑ پکا، میلسی، لاہور، راولپنڈی وغیرہ کے لئے روزانہ کئی گاڑیاں گزرتی ہیں اور تقریباً پاکستان کے ہر شہر کوجانے والی ٹرین کا گزر لودھراں جنکشن سے ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی ٹرین لودہراں ریلوے اسٹیشن کی طرف آتی ہے توریلوے اسٹیشن کے ساتھ ہی موجودپٹھان والا ریلوے پھاٹک فوری طور پر بندکردیا جاتا ہے۔ ایک گاڑی گزرنے پر ریلوے پھاٹک بند رہنے کا اوسط دورا نیہ 15 سے 20منٹ لگایا گیا ہے دو رویہ ریلوے لائن ہونے کی بنا پر اگردونوں اطراف سے ٹرین نے گزرنا ہو تو مزید آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔دیگر پھاٹکوں کی طرح یہ پھاٹک بھی ہمیشہ مسائل کا موجب رہاہے۔

شہر کے وسط میں ریلوے لائن لودہراں شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ریلو ے لائن سے مغرب کی طرف شہر کی دو یونین کونسلوں وگرد ونواح کے دیہی علاقوں کی تقریبا ً60,000آبادی شدید متاثر ہے۔ ریلوے لائن شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے سرکاری خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور نجی اداروں وغیرہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جن میں تاجر،ملازم پیشہ افراد،طلبأ و طالبات وغیرہ شا مل ہیں صبح کے وقت طلبأ وطالبات و ملازمین کا رش رہتا ہے پھاٹک بند ہونے سے سکول لیٹ پہنچنے پر بچوں کو سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ تقریباًتمام تر سرکاری دفاترریلوے لائن کے مشرق کی طرف ہیں پھاٹک بند ہونے کی بنا پرآفیسرز کی ڈانٹ ڈپٹ پھاٹک پار کے ملازمین کا اکثرمقدر بنتی رہتی ہے، خواتین دورانِ زچگی یا کوئی شدید زخمی،کسی کو سانپ کاٹناوغیرہ جیسی ایمر جنسی میں اکثر مریض اسی پھاٹک کے بند ہونے کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں.

علاوہ ازیں کسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں مریضوں کو شدیدمشکلات کا سامنا رہتا ہے کیونکہ ایمر جنسی کی صورت میں 1122سروس پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے مہیا نہیں ہوپاتی یا پھاٹک بند ہونے سے ایمبولینس پھنس کر رہ جاتی ہے اورلوگ دوسری طرف پھنسی ہوئی ایمبولینس کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہ جاتے ہیں بعض اوقات پھاٹک بند ہونے کی صورت میں لوگ ریلوے لائن کے اوپر سے سائیکل اور موٹر سائیکل گزارتے ہیں جو حادثات کا سبب بنتے ہیں پھاٹک بند ہونے کی بنا پرڈکیتی،راہزنی وخواتین سے پر س چھیننے جیسی وارداتیں روز کا معمول بن چکی ہیں رات کے وقت تو اس پھاٹک سے گزرتے ہوئے خوف آتا ہے۔ وقت کا ضیاع ہوتا ہے پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے ڈکیتی کی صورت میں پولیس کا بروقت جائے واردات پر پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

سنجوک سول سوسائٹی نیٹ ورک لودھراں کے ایک سروے کے مطابق اس ریلوے لائن سے روزانہ 25 گاڑیاں گزرتی ہیں اگر فی گاڑی 15منٹ بھی لگیں تو24گھنٹے میں 6گھنٹے سے زیادہ وقت پھاٹک بند رہتا ہے ہر سال میں کئی حادثات اسی پھاٹک پرہوتے ہیں اوراسی پھاٹک ہی پر ایک بچہ اور ایک نوجوان دھند کی وجہ سے ٹرین کے نیچے آکرجان کی بازی ہار گئے۔ویسے تو لودھراں شہر میں چار ریلوے پھاٹک ہیں۔جن میں سے تین ریلوے پھاٹک مصروف ترین قومی شاہراہوں پر موجود ہیں جہاں سے گزرنے والی ٹریفک کا رش رہتا ہے مگر لودھراں کی بد قسمتی کہ کسی بھی ریلوے پھاٹک پر کوئی فلائی اوور یا انڈر پاس نہیں ہے۔ اہلیانِ لودھراں کاعرصہ 40سال سے مطالبہ رہا ہے کہ اگر پٹھان والہ ریلوے پھاٹک کی جگہ انڈر پاس تعمیر کردیا جائے تو ریلوے اسٹیشن کے مغربی علاقہ کی آبادی کے لوگوں کی نہ صرف مشکلات میں کمی واقع ہو گی بلکہ جلالپور لودہراں روڈ سے آنیوالے طلبأ وطالبات،ملازمین اورعوام الناس بھی اس شارٹ کٹ راستے سے بروقت اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ سکیں گے۔

عوامی مطالبے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مرزا محمد ناصر بیگ نے اپنے ایم این اے دور میں اس پھاٹک پر انڈر پاس کا افتتاح کیا گرمنصوبہ ٹھپ ہو گیا نواب امان اللہ خان کا ایم این اے اوروفاقی پارلیمانی سیکرٹری کا دور آیا تو انہوں نے بھی مورخہ 15نومبر2007بروز جمعرات باہمراہ منظور احمد شیخ ڈی ایس ریلوے اور رانا فیض محمد خان ناظم یونین کونسل ریلوے اسٹیشن نے اس پھاٹک پر انڈر پاس کا افتتاح کیا۔ یہ منصوبہ 3کروڑ 96 لاکھ70ہزار کا تھا جس کی مدت ایک سال تھی افتتاحی تختیاں لگیں،بنیادیں بھی بنائی گئیں مگریہ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیااور بنیادیں کوڑے کی نظر ہوگئیں۔

12اکتوبر2013میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف نے ضلع لودھراں کا دورہ کیا ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرہسپتال لودھراں کا افتتاح کیااور اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی سے بھی ملاقات کی ایم این ایزمحمد صدیق خان بلوچ اور عبدالرحمٰن خان کانجوسے ملاقات کے دوران لودھراں کے مسائل پر گفتگو ہوئی تومحمد صدیق خان بلوچ نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی توجہ دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ لودھراں کے اہم مسلئہ پٹھان والا ریلوے انڈر پاس کی طرف دلائی توانہوں نے جہاں دیگر مسائل کی منظوری دی تو وہاں انڈر پاس بنوانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

6جنوری2017کولودھراں میں جلال پور روڈ پرواقع ریلوے پھاٹک پر افسوس ناک واقعہ پیش آنے پرمختلف وزرأ،اسمبلی ممبران ودیگر نے اپنے بیانات میں حسبِ معمول لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ لودھراں میں ریلوے پھاٹکوں پر انڈر پاس یا فلائی اوور بنائے جائیں گے۔ جنوری 2017میں میں ہی اخباری اطلاعات کے مطابق چینی انجینئرز لودھراں تشریف لائے اور لودھراں ملتان روڈپر شہری حدود میں ریلوے پھاٹک ختم کر کے فلائی اوور یا انڈر پاس بنانے کیلئے سروے شروع کر دیا گیا ہے۔مگر افسوس کہ 3سال گزر جانے کے باوجود حالات جوں کے توں ہیں۔

محکمہ ریلوے کی جانب سے ایم ایل ون ریلوے ٹریک پراجیکٹ کا تقرریوں اور پریس کانفرنسوں میں اعلان تو کیا جاتا ہے مگر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔حالانکہ عالمی سطح پر ریلوے کو ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے۔تاریکی اور روشنی میں ٹرینوں کو محفوظ طریقے سے چلانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔500کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں مگر یہاں 18ویں صدی والی ”لال جھنڈی اور لالٹین“والا نظام موجود ہے۔اگر پھاٹک والا سو جائے تو سارے نظام کا اللہ حافظ۔.

پاکستان ریلوے میں ہر بار حادثہ ہونے پر نظام میں تحقیقات کے بعد نشاندہی کر کے خامیاں دور کرنے کی بجائے کسی چھوٹے ملازم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دے کر اگلے حادثہ کا انتظار کیا جاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا نخواستہ اس قسم کے کسی دیگر واقعات پرپھر وعدے وعید ہوں گے یا پھر عوام صرف ٹیکس دے گی اور ریل گاڑی انسانی خون سے چلتی رہے گی اور یہ خونی ریلوے پھاٹک انسانوں کو نگلنے کیلئے یونہی منہ پھاڑے کھڑے رہیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں