69

نویدؔصدیقی: سرزمینِ لودھراں کا حق گو اور بے باک تخلیق کار… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم:سید فخرامام شاہ فخریؔ

شاعریاادیب سماج کاآئینہ ہوتے ہیں۔وہ معا شر ے کواُس کاحقیقی روپ دِکھاتے ہیں۔وہ ایسے نقشہ نویس ہوتے ہیں جوسماج اوراُس کی بدلتی ہوئی اقدارکا صحیح نقشہ کھینچتے ہیں۔ایسے مصوّرہوتے ہیں جواپنی تخلیقی صلاحیتوں سے حسین خیالات کوحسین الفاظ کارنگ دے کرسماج کی خوب صورت تصویربناتے ہیں۔ایسے فن کار ہوتے ہیں جواپنے فن کی آبیاری سے اِس جہانِ پُرخزاں کوسرسبزوشاداب کردیتے ہیں۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ہردور کا شاعر یاادیب اپنے عہد کے ا چھّے اور برے حالات و واقعات کو اپنے جذبات اورخیالات کی نذر کرتاآیا ہے۔نویدؔصدیقی عصرِ حاضرمیں سر زمینِ لودھراں کے اُن اہم شعراء اورادباء میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی تخلیق میں انفرادیت اور تنقید میں غیر جانب داری کی بدولت قدرے مقامی اورتقریباََ قومی سطح پرالگ تھلگ حیثیت حاصل کی ہے۔اُن کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں کہ جن پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔درج بالا مضمون میں اُن کے چنداہم پہلوؤں کا مختصرسوانحی خاکہ اورادبی خدمات کااجمالی جائزہ حسب ذیل ہے۔

نویدؔصدیقی کا اصل نام اُن کے قومی شناختی کارڈ کے مطابق ”پیرزادہ محمدنوید“ہے اوروہ خودبھی اِسی نام پراتفاق کرتے ہیں۔جب کہ اُن کی تعلیمی وپیشہ وارانہ اسنادپر ”محمدنوید“تحریر کیا ہواہے۔ ”نویدؔ“تخلص اور مشہورومعروف ادبی نام ”نویدؔصدیقی“ہے۔اِس کے علاوہ ”ابنِ بطوطہ جونیئر“، ”کولمبس“اور”ابواشھر“کے قلمی نام سے کالم بھی تحریر کرتے رہے ہیں۔نوؔیدصدیقی پیرزادہ عبدالوحید کے گھریکم جنوری ؁1967؁ء بمطابق 19رمضان المبارک 1386ھ بروز اتوارکو لودھراں شہر (موجودہ نام پُرانا شہر)کے محلہ تیلیاں والا (موجودہ نام گلاب پورہ) میں پیدا ہوئے۔ایک ایسا شہر جو کہ اُس وقت صرف قصبے کے طور پرمشہورتھا۔اُنھوں نے اپنابچپن، لڑکپن،بلوغت اورجوانی کے ماہ وسال اِسی شہر میں گزارے اور اب بھی اِسی شہرکے محلہ”جیونے والا“میں جی رہے ہیں۔اکثرشعراء اور ادباء کے اسماء اور اکثرکی تخلیقات میں تاریخِ پیدائش پائی جاتی ہے۔نویدؔصدیقی سرزمینِ ”لودھراں“کے وہ تخلیق کارہیں جنھوں نے اپنے کلام کے ایک شعرمیں اپنی تاریخِ پیدائش کا ذکر کیاہے۔ مثلاً یکم جنوری 2018؁ء کو ضلع لودھراں کے ایک نجی کالج(علامہ اقبال کالج آف کامرس لودھراں) میں اُن کے یومِ پیدائش کے حوالے سے ایک اعزازی شام منائی گئی۔جس میں لودھراں کے شعراء اور ادبی شخصیات کے ساتھ اُن کے دیگر رفقاء نے بھی شرکت کی۔اِس تقریب میں اُنھوں نے اپنی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے یہ شعر احباب کے روبروپیش کیا۔

؎ یہ بات سچ ہے یکم جنوری کو پیدا ہوا
مگرمیں سالوں میں گرہیں نہیں لگاتاہوں

نویدؔ صدیقی اور اُن کے آباؤ اجداد ”حضرت ابوبکر صدیق“کی اولاد میں سے ہیں۔”آلِ عدنان“میں قبیلہ ”تیم“کے مورثِ اعلیٰ ”مرَہ“پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا سلسلہ نسب”آنحضورﷺ“کے نسب سے جاملتا ہے۔”صدیقی خاندان“ کا آغاز حضرت ابوبکر صدیقؓ کے صاحب زادے ”عبدالرحمٰن“کی نسل سے ہوا۔اِسی لیے حضرت ابوبکر صدیق کی نسبت سے”صدیقی“ نویدؔ صدیقی کی قوم،وجہ تسمیہ اورقلمی نام کے طور پر شناخت کاحصّہ بھی ہے۔اِس حوالے سے اُنھوں نے ایک خوب صورت شعر بھی تخلیق کیاہے جس میں موصوف حضرت ابو بکر صدیق ؓکو ”چراغ“اور خودکو اُسی چراغ کی ”لَو“سے تشبیہ دیتے ہیں -شعر حسب ذیل ہے۔

؎ ہے نام جس کا ابوبکر اور لقب صدیقؓ
مجھے یہ فخرکہ میں ہوں اُسی چراغ کی لَو

نویدؔصدیقی کے اجدادابتداء میں ہندوستان کے شہر ”ہریانہ“میں اقامت پذیرتھے اورحصولِ آزادی کے بعد1947؁ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ نویدؔصدیقی کے داداکا نام”عبدالسلام“تھا جو”شریف احمد“ کے فرزندِ ثانی اور”خان بہادر پیر زادہ مولوی محمد حسین عارف مہمی“کے پوتے تھے۔وہ خان بہادر پیرزادہ مولوی محمد حسین عارف مہمی جو حضرت ابوبکر صدیق کی پشت نمبر 31 میں سے تھے اور ریاست کشمیر کے پہلے ”مسلمان جج ہائی کورٹ“بھی مقر رہوئے تھے۔ وہ ایک بلندنصب العین، جرأت مند اور بہادر افسر تھے۔جنھوں نے مسلمانوں کی ہرطرح سے معاونت،اصلاح اور حوصلہ افزائی کی۔جب جنوری1884؁ء میں سرسیّد احمد خاں نے پنجاب کا سفر کیاتو لاہور میں اُن کا استقبال کرنے والوں میں خان بہادر پیرزادہ مولوی محمد حسین عارف مہمی بھی شامل تھے۔ اُنھیں مختلف عہدوں پر نمایاں خدمات،علمی وادبی مشاغل اورمفادِ عامہ کی خدمات کے عوض حکومت ِ وقت کی طرف سے”خان بہادر“ کا خطاب بھی دیا گیا۔

اگرخان بہادرپیر زادہ مولوی محمد حسین عارف مہمی نویدؔ صدیقی کے دادا(عبدالسلام)کے داداتھے تو رشتے میں وہ نویدؔصدیقی کے ”سردادا“ہوئے۔اِ س سے ظاہر ہوتا ہے کہ نویدؔصدیقی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو پشت درپشت سماجی اورعلمی وادبی خدمات کرتا چلا آ رہاہے اور اُنھیں یہ سماجی اورعلمی وادبی خدمات کا ماحول بھی اپنے خاندان سے ترکے میں ملا ہے۔جس کے اثر ات اُن کی تخلیقات اور فکری جدو جہد کے ماہ وسال میں نمایاں طور پر دِکھائی دیتے ہیں۔نویدؔصدیقی کے آباؤ اجداد کا مستندمرتب کردہ شجرہ نسب حضرت ابو بکر صدیق کی پشت نمبر1 سے لے کرپشت نمبر34 تک”منظورالحق صدیقی“ کی شہرہ آفاق تصنیف ”مآثرالاجداد“میں تو موجود ہے لیکن اِس شجرہ نسب میں اُن کے والدِ محترم(پیرزادہ عبدالوحید) اور اُن کے فرزندان کا ذکر نہیں ملتا۔البتہ اُن کے دادا (عبدالسلام)کی تفصیل میں پیرزادہ عبدالوحید کا ذکر ضرور ملتا ہے۔علاوہ ازیں راقم الحروف نے”اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور“کی طرف سے اپنے تحقیقی مقالہ برائے ایم۔فِل اردو (2016؁ء۔2018؁ء) بعنوان”نوؔیدصدیقی کی ادبی خدمات“میں نویدؔصدیقی کی معاونت سے پشت نمبر 31سے لے کر36تک کاشجرہ نسب مرتب کیاہے۔جس میں اُن کے سردادا،پردادا،دادا،والد،بھائیوں اوراُن میں سے ایک بھائی کے فرزندان کے اسمائے گرامی کے ساتھ ساتھ اُن کے اپنے فرزند ”اشہرنوید“ کا اسمِ گرامی بھی درج کیاگیاہے۔تحقیقی مقالہ راقم کے پاس موجودہے اور”میونسپل لائبریری لودھراں“میں بھی جمع کرادیاگیاہے۔قارئین اِس مقالہ کو پڑھ کراُن کے خاندان کاشجرہ نسب اورخاندانی پس منظرکی مزیدتفصیلات سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔

نویدؔ صدیقی ایک ہمہ جہت شاعراورہمہ جہت نثرنگارہیں۔جب ہم اُنھیں بطورشاعردیکھتے ہیں توشاعری کی بہت سی جہات (حمد،نعت، منقبت،مِلّی نغمہ،پابندنظم، آزادنظم،قطعہ، غزل،مزاحیہ شاعری،طرحی شاعری اورپیروڈی)ہمارے سامنے آتی ہیں جن میں اُنھوں نے طبع آزمائی کی۔نویدؔ صدیقی عہدِ حاضر کے وہ قلم کار ہیں جنھوں نے اپنی ابتدائی فکر کو بچوں سے منسلک کیا۔بعد ازاں اُنھوں نے اپنی سوچ کے زاویے کو عشقِ حقیقی اورعشقِ مجازی سے جوڑا۔عشقِ حقیقی میں اُن کی سوچ کا دائرہ عشقِ الٰہی،عشقِ رسولؐ اور عشقِ اہلِ بیت تک پھیل جا تاہے۔ اگرچہ اُنھوں نے عشقِ حقیقی میں سب سے پہلے اپنی سوچ کے زاویے کو عشقِ رسول سے جوڑا لیکن حقیقی طور پر وہ اتباعِ خداوند اورحُبِ رسول کے دعوے دار ہیں۔مثلاََاشعارملاحظہ ہوں۔

درودلب پہ صبح وشام ہے محمدکا پسند مجھے دل سے نام ہے محمد کا
یہ جتنی بارلیا،اتناہی سرورآیا خداکے بعدحسیں نام ہے محمدکا

نویدؔصدیقی کے کلام کے موضوعات اُن کی شخصیت کے ترجمان ہیں۔وہ زمانے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔اُن کے کلام کے موضوعات کا تنوّع اُن کے وسیع تر مشاہدے کا آئینہ دار ہے۔وطن سے محبّت،ہجر،فطرت سے لگاؤ،رومانیت،زمانے کی بے حسی،اصلاحِ سماج و سماجی شعور، طنزومزاح،سیاست،ادبی بغاوت،ظالم و جابر سلطان سے بغاوت،حالاتِ حاضرہ کے احوال اور خاص طور پر حق گوئی بے باکی اُن کے کلام کے رنگا رنگ موضوعات ہیں۔جابرسلطان سے بغاوت اورحق گوئی وبے باکی اُن کی شاعری کے دوایسے موضوعات ہیں جواُن کی مکمل تخلیق کردہ شاعری کی قریباََہرجہت میں نہ صرف قطعی بلکہ قدرے تلخ آمیزلہجے کی صورت میں دیکھنے کوملتے ہیں۔ اگردیکھاجائے تویہ دونوں موضوعات اُن کے کلام کا مرکزی وصف ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کی شخصیت کے ترجمان بھی ہیں۔اُن کی فکری صلاحیت اورجذباتی کیفیت اِس بات کی ترجمان ہے کہ جب بھی حق اور باطل کاٹکراؤ ہو توحق کو باطل کے سامنے سرنگوں ہونے کی بجائے سینہ سپر ہونا چاہیے۔خواہ باطل طاقت ورہی کیوں نہ ہو۔مثلاََ

؎ ظلم سہہ سکتے نہیں ، سر کو جُھکا سکتے نہیں ہم تیرے شہر کے آداب نبھا سکتے نہیں
؎ امیرِ شہر تیری سادگی قیامت ہے تومحوِ جشن ہے،فاقوں سے مررہے ہیں لوگ
؎ تاریخ جانتی ہے خدا نے ہر ایک بار حق کو فتح دی ، ساتھ دیا ہے قلیل کا

نویدؔصدیقی نے تقریباََ90کی دہائی میں غزل کا آغاز کیا۔اُن کی پہلی غزل پہلی مرتبہ 31۔جون 1989؁ء میں روزنامہ ”نوئے وقت“ کے مڈویک ایڈیشن کاحصّہ بنی۔ دوسری مرتبہ یہی غزل فروری 1994؁ء میں ادبی جریدے ماہنامہ”آدابِ عرض“لاہور کی زینت بنی۔اِس غزل کے مطلع کاموضوع ”اضطرابِ عشق ہے۔مطلع ملاحظہ ہو۔

؎ دل کی بے چینی کا اُن پربھی اثر دیکھا ہے
حال اپنا ہے اِدھرجیسااُدھر دیکھاہے

اُن کی ابتدائی چندغزلوں میں روایتی محبّت،اضطرابِ عشق،غم پرستی،خوف کی فضا،اناپرستی اور رومانیت ایسے دلکش افکار کی لطافت دیکھنے کوملتی ہے۔بعدازاں وہ جلد ہی اپنے انفرادی موضوعات جابرسلطان سے بغاوت،حق گوئی وبے باکی اور ادبی بغاوت کی جانب لوٹ آئے۔ آج اِن تینوں موضوعات کی شدّت اتنا زور پکڑچُکی ہے کہ وہ خود کواِن موضوعات کے دائرے سے باہرنکال ہی نہیں پائے۔رومانیت ایسے شوخ موضوع پراُن کی غزل کے اشعار میں جذبات کی شدّت خواب آورفضا،خیالی دنیااورماضی پرستی ایسی کیفیات کااظہار زیادہ ملتا ہے۔جیسے۔

؎ ایک میلاسا خیالوں کا لگا رکھا ہے
میں اکیلا ہوں مگر شہر بسا رکھاہے
سسکتے، ٹوٹتے،یادوں کے منظر دیکھ لیتا ہوں میں اپنی سوچ کے زنداں میں اکثر دیکھ لیتا ہوں
کبھی شاداب چہروں میں بھی رعنائی نہیں ملتی کبھی اُجڑے ہوؤں میں لعل وگوہر دیکھ لیتا ہوں

نویدؔ صدیقی کی فکر میں سنجیدگی کے ساتھ مزاح کا عنصربھی منفرد اندازمیں پایا جاتا ہے۔مزاح میں اُن کی سوچ لطف،شگفتگی،ثقافتی شعور،سماجی اصلاح،طنزاورتنقید کے گرد گھومتی ہے۔اُن کامزاح محض قہقہہ لگانے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ طنز اورتنقید کی صُورت میں سماج میں موجود انسان کے تلخ اور جابرانہ رویّوں کی اصلاح بھی کرتا ہے۔اُن کے نزدیک مزاح کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ اُسے انسان کے زندہ ہونے کی علامت تصوّرکرتے ہیں۔اُن کے مزاح کے اپنے آداب اور اپنے تقاضے ہیں جوقاری اور سامع کے دل ودماغ میں خودبخود جگہ بنا لیتے ہیں۔ اُن کی مزاحیہ شاعری خالص مزاح سے شروع ہوتی ہوئی طنز،تنقید اور اصلاح سے جاملتی ہے۔وہ حق بات کو مزاح کے پردے میں اِس طرح پیش کرتے ہیں کہ قاری اُن کی حق بات کو ہنستے ہوئے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔یعنی سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔مثلاً اُن کی نمکین غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

فردِ عمل کو میری شریفانہ کر دیا جب پیش میں نے ”پُلس“ کو نذرانہ کر دیا
بیوی کا جیب خرچ بڑھانے کے واسطے کم اُس نے والدین کا ماہانہ کر دیا
داڑھی میں آگئے ہیں ابھی سے سفید بال نزلے نے میرا حال بزرگانہ کر دیا
اسکول میں پڑھاتا ہے ڈنڈے کے زورپر ٹیچر نے ”علم خانے“ کو اِک ”تھانہ“ کردیا

نویدؔصدیقی کی نثری تخلیقات دوحصّوں پر مشتمل ہیں۔پہلاحصّہ افسانوی نثرپرمشتمل ہے جس میں اُنھوں نے افسانہ اور ڈرامہ جیسی نثری جہات کیساتھ ساتھ بچّوں کے لیے اُن کی نفسیات اور ذہنی استعداد کو مدِنظررکھتے ہوئے سبق آموز،اصلاحی اوراخلاقی کہانیاں بھی تحریر کی ہیں۔دوسراحصّہ غیرافسانوی نثرپرمشتمل ہے جس میں اُن کی مضمون،کالم اور تراجم جیسی غیرافسانوی نثری جہات شامل ہیں۔اُن کی افسانوی اور غیر افسانوی نثر کازیادہ ترموضوع طنز،تنقید،اصلاح اورمزاح ہے۔وہ طنزبرائے مزاح،مزاح برائے تنقید اورتنقید برائے اصلاح کے قائل ہیں۔مثلاََ اُن کے ایک مزاحیہ مضمون ”بقرعید“سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔

”عیدالاضحٰی آئی بھی اورگزربھی گئی۔لیکن اُس کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔بہت سے ایسے لوگ جنھوں نے سال بھر کے گوشت کے ناغوں کا مداوا کرنے کی اندھا دھندکوشش کی تھی،اُن میں سے آدھے لوٹا پکڑے ”بیت الخلا“کی پریڈ کر رہے ہیں اورآدھے پیٹ کی جملہ بیماریوں کاشکار ہوکرڈاکٹروں کی جیبیں اور تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔“

اگرچہ نویدؔصدیقی کی نظم ونثر دونوں ابھی تک کتابی شکل میں منظرِ عام پرنہیں آئے لیکن اُن کے کلام ونثر کا قریباً نصف سے زائدحصّہ ملکی سطح پر صفِ اوّل کے جرائد اوراخبارات کی زینت بن چُکا ہے۔لہذاایک اچھّے اورمنفردلہجے کے مقامی سخن وراورنثرنگارہونے کے ناطے اُن کی نظم ونثر کی خوبیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اِس بات کا منھ بولتاثبوت اُن کی مطبوعہ وغیرمطبوعہ تخلیقات ہیں۔علاوہ ازیں راقم نے اپنے تحقیقی مقالہ برائے ایم۔فِل اردوبعنوان ”نویدؔصدیقی کی ادبی خدمات“ میں اُن کے ابتدائی دور سے لے کر اگست 2018؁ء تک کی تمام مطبوعہ اور غیرمطبوعہ شعری ونثری جہات کی بلحازتعداداورسنین کے ساتھ فہرست بھی تیار کی ہے۔مزیدمواد کی ترتیب کے دوران اِن شعری ونثری اصناف کی جلدیں بھی تیارکرد ی ہیں جن سے قارئین استفاد ہ کرسکتے ہیں۔

مختصریہ کہ نویدؔ صدیقی سرزمینِ لودھراں کے وہ قلم کار ہیں جو اپنے عمدہ تخیّل اور بے باک قلم کی طاقت سے تاریک سماج کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔وہ سفید نقطہ ہیں جو تختہ کی سیاہی کو واضح کرنا چاہتے ہیں اوراچھائی کی کم سے کم تر صُورت کو مرکزِ نگاہ بنانا چاہتے ہیں۔وہ اپنے باطن میں جذبات کاایک ایسا گہرا سمندر رکھتے ہیں کہ جس کی سنہری لہریں ہروقت ساحل کوچُھونے کے لیے بے تاب رہتی ہیں۔جب یہ سنہری لہریں جذبات کی شدّت کو ساتھ لے کر ساحل کو چھُوتی ہیں تو ساحل پر موجودتپتی ہوئی خشک ریت بھی سیراب ہوکر ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔جیسے وہ خودکہتے ہیں۔

سانچوں میں کم ڈھلتے رہے الگ جہان سے چلتے رہے
رات رہی پھر بھی کالی بن کے چراغ ہم جلتے رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں