99

بھارت مزید تقسیم کی طرف … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: محمد ادریس جامی

شہریت ترمیمی بل کے خلاف دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے مخالفت کا جو طوفان اٹھا، اس نے اب پورے ہندوستان کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ہندوستان کے شہر شہر سے کالا قانون واپس لینے کی آوازیں بلند سے بلند تر ہورہی ہیں اس سیاہ قانون کی وجہ سے پورا ہند جل رہاہے۔ مخالفت اور مزاحمت کی آوازیں اتنی شدید ہیں کہ مودی سرکار کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ احتجاجی آوازوں کو دبانے اور کچلنے کے لئے پولیس فورس کو بے دریغ استعمال کیا جارہاہے۔

گذشتہ دنوں اتر پردیش میں اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس نے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں نصف درجن سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اسی طرح لکھنؤ اور منگلور میں تین افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔ظاہرہے کہ شہری حقوق سلب کرنے کے بعد جائیدادیں ضبط کرنے کی ہی باری آتی ہے۔

جس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ وطالبات پر دہلی پولیس ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہی تھی تو علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا نے ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج شروع کر دیا یوگی آدتیہ ناتھ کی پولیس نے طلبہ پر وحشیانہ تشد کیا۔ پولیس نے راتوں رات تیرہ ہزار طلبا سے جبراً ہاسٹل خالی کرائے، جن طلبا نے مزاحمت کی ان کے کمروں میں آگ لگادی گئی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے ساتھ ملک بھر کے 200 سے زائد تعلیمی اداروں نے اظہار یکجہتی کے طور پر جلوس نکالے۔ جامعات کے طلبا کی حمایت میں پورے ہندوستان کے اندر جو طوفان کھڑاہوا ہے اس کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ دیگر اقلیتیں اور انصاف پسند ہندو شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف میدان میں آگئے ہیں۔

مودی سرکار اس تحریک کو دبانے اور کچلنے کی جتنی کوششیں کررہی ہے، اتنی ہی طاقت سے یہ ابھررہی ہے۔ سڑکوں پر سروں کا سیلاب دیکھ کر ہند کے 11صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اس قانون کو اپنی ریاست میں نافذ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کی اتحادی جماعتیں اکالی دل اور بیجو جنتا دل جنہوں نے پارلیمان میں اس قانون کی حمایت کی تھی اب پیچھے ہٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بابری مسجد سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کتنی آزاد ہے؟ اسی سپریم کورٹ میں شہریت قانون کے خلاف 59دائر درخواستوں پرسماعت سے فی الحال انکار کردیا ہے البتہ اس معاملے میں وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرکے آئندہ سماعت کی تاریخ 22جنوری مقرر کی گئی ہے، جس طرح مسئلہ کشمیر پر مقرر کی تھی، اس سیاہ قانون کے خلاف59دائر درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ شہریت دینے کے معاملے میں مذہب کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا اور نیا قانون دستور کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں غیر قانونی طور سے آنے والے پناہ گزینوں کو مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کی بات کی گئی ہے۔

امید کی جا سکتی ہے کہ شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت اور مودی سرکار کا اپنی اقلیتوں سے روارکھا جانے والا تعصب نفرت انگیزرویہ بھارت کوکئی لخت کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔دنیا جانتی ہے کہ یہ دور ذرائع ابلاغ کے انقلاب کا دور ہے اور سوشل میڈیا بہت ہی زیادہ متحرک ہے ہندوستان میں ایک سازش کے تحت فیس بک، ٹیوٹرودیگر ذرائع سے مسلمانوں کو نشانہ بنایاجاتارہاہے انکے عقائد، رسومات، عبادات پر طنز کیا کیا جارہاہے، انکے جذبات سے کھلواڑدیکھاجاسکتاہے، وزیراعظم کا خودعوامی جلسوں میں یہ کہنا کہ مظاہرہ کرنے والوں کی پوشاکیں دیکھئے، کیا اشارہ ہے؟ کیا ایک خاص مذہب کے لوگوں کی طرف نفرت انگیز اشارہ نہیں ہے؟

آزادی کے بعد ہندوستان میں سب سے بڑی مسلم اقلیتوں کو مسلسل اس طرح کے عتاب غیض وغضب سے گزرنا پڑاہے۔ آزادی کے بعد سے ہی کوئی ایسی دہائی نہیں جس میں مسلمان ودیگر اقلیتوں کو احساس کمتری کا شکار بنانے کے لئے سازشیں نہ کی گئی ہوں۔ کبھی غداری کے تمغے کبھی پاکستانی وفاداری تمغے کبھی بھارت چھوڑنے کی دھمکیاں کبھی فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ جانی ومالی نقصان پہنچایا گیا تو کبھی مبینہ دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تو کبھی مسلم معاشرے کی شبیہ کو مسخ کرنے کی سازش کامیاب ہوتیں رہیں کبھی مذہب کے جنون کی بدولت اس طبقے کو نشانہ بنایا گیا اور اس کی سب سے بڑی مثال بابری مسجد سمیت کئی عبادت گاہوں کی شہادت ہے یہ شہریت بل بھی اسی سازش کا حصہ ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کو ذہنی اضطراب میں مبتلا رکھنا ہے۔

ہجومی تشدد تو معمول کی بات ہے ایسے کئی اقدامات ہیں جس سے بھارت کئی لخت ہوسکتا ہے یہ تجزیہ میرا ہی نہیں بلکہ انڈیا کے دانشوروں کا بھی یہی تجزیہ ہے کہ مودی نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو انڈیا تقسیم ہو سکتا ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں