64

بنگلور: بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے مجسموں کا استعمال

بنگلور (ویب ڈیسک) بھارت کی جنوبی ریاست بنگلور میں حکام نے ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی حربہ اپناتے ہوئے پولیس مین ڈمیز (انسانی مجسموں) کو بھرتی کرلیا۔

ان مجسموں کو ٹریفک پولیس افسران کی وردیاں پہنائی گئیں ہیں جس میں ہیٹ، سفید شرٹ اور روشنی منعکس کرنے والی کوٹی شامل ہے جس پر پولیس کا نشان بھی بنا ہوا ہے، ان مجسموں کو بڑے چوراہوں پر اس امید سے رکھا گیا ہے کہ یہ ڈرائیورز کو قوانین پر عمل کرنے پر مائل کریں گے۔

حتیٰ کے کچھ مجسموں کو دھوپ کے بے ہنگم ٹریفک کے حوالے سے مشہور بھارت کے ٹیکنالوجی حب کی مصروف شاہراہوں پر تقریباً 80 لاکھ کاریں دوڑتی ہیں اور پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے پاس گوشت پوست کے اتنے افسران موجود نہیں کہ ہر شاہراہ پر انہیں کھڑا کیا جائے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بنگلور پولیس کمشنر بھاسکر راؤ کا کہنا تھا کہ شہر میں 44 ہزار چوراہے موجود ہی جس میں صرف 450 چوراہوں پر ٹریفک لائٹس نصب ہیں باقیوں کی یا تو مینوئل طریقے سے نگرانی کی جاتی ہے یا بالکل دیکھا نہیں جاتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افسران پولیس کی جگہ مجسمے رکھ کر ’چھپن چھپائی‘ کا حربہ استعمال کرتے ہیں تا کہ ڈرائیور درست انداز میں ڈرائیو کریں۔

بنگلور کو بھارت کی سلیکون ویلی بھی کہا جاتا ہے جس میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد آباد ہیں۔

اس شہر میں روزانہ 2 افراد سڑک پر ہونے والے حادثے کے نتیجےمیں ہلاک ہوتے ہیں جبکہ اس برس جنوری سے نومبر تک کے عرصے میں 4 ہزار 2 سو 83 حادثات رونما ہوئے جس کی بڑی وجوہات میں شراب پی کر ڈرائیونگ، تیز رفتاری اور ڈرائیوروں کی جانب سے ٹریفک اشاروں کو نظر انداز کرنا شامل ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال ڈرائیونگ میں غفلت برتنے کے 50 ہزار 4 سو 57 واقعات جبکہ نشے میں ڈرائیونگ کے 57 ہزار 3 سو 94 واقعات رونما ہوئے۔

ان ماڈل افسران کو راہگیروں کی جانب سے مختلف قسم کا ردِ عمل موصول ہوا جس میں کچھ کا کہنا تھا کہ کیا یہ ڈمی کو تعینات کرنے کا آئیڈیا کام کرے گا جبکہ کچھ افراد نے پولیس کو معمول سے ہٹ کر کچھ مختلف کرنے پر سراہا۔

اس ضمن میں کپڑوں کے کاروبار سے منسلک ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’یہ عام انسانی فطرت ہے کہ جب کسی پولیس والے کو دیکھتے ہیں تو انسان کے دل میں خوف ہوتا ہے کہ اگر میں کچھ غلط کررہا ہوں تو نہ کروں‘۔

دوسری جانب ایک تاجر روہت کمالکر کا کہنا تا کہ یہ بھارت جیسے ملک میں کام نہیں کرے گا۔

ایک ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ کا کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت اصولوں پر عمل نہیں کرتے جب اصلی پولیس موجود ہو تو یہ اس وقت کیسے کام کرے گا جب وہ نہ حرکت کررہے ہوں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں