66

آرمی ایکٹ میں ترمیم پر ن لیگ غیر مشروط طور پر راضی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ کرلیا۔

حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ کی ترمیم کو اتفاق رائے سے پارلیمان سے منظور کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطہ کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سلسلے میں وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سینیٹ کے قائد ایوان شبلی فراز اور وزیر مملکت پارلیمانی امور اعظم سواتی پر مشتمل وفد نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور رانا تنویر نے حکومتی وفد سے ملاقات کی۔

اس موقع پر حکومتی وفد نے مسلم لیگ (ن) سے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی پر حمایت کی درخواست کی۔

مذکورہ ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پرویز خٹک نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشاورت کا عمل مکمل کر کے کل (3 جنوری) تک یہ معاملہ پارلیمان میں پیش کردیا جائے گا۔

دوسری جانب رہنما مسلم لیگ (ن) مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ پارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مکمل حمایت کردی ہے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما رانا ثنا اللہ نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے جس کے مطابق مسلم لیگ(ن) نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آرمی ایکٹ کی ترامیم پر غیرمشروط تعاون کیا جائے اور فوج کو بطور ادارے اور آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہ بنایا جائے، لہٰذا جو پارٹی کا فیصلہ ہے ہمارے تمام اراکین اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ادھر حکومتی اراکین کے ساتھ اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ لندن میں موجود پارٹی قیادت نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری کی ہدایت دی ہے۔

علاوہ ازیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر غور کے لیے مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس راجا ظفرالحق کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اس اجلاس میں اراکین کو حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر بریفنگ دی گئی جس پر پارٹی ارکان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے توسیعی بل کو متفقہ طور پر منظور کرانے کا عندیہ دیا۔

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اراکین کا موقف تھا کہ اپوزیشن کو ایک ساتھ ہو کر اس معاملے پر آگے بڑھنا ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ ‏مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اس حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی جماعت آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہیں بنانا چاہتی اس لیے پارٹی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آئین کی دفعہ 172 اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ اس اجلاس کا واحد ایجنڈا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع تھا۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے قواعد میں ابہام دور کرنے کے سپریم کورٹ کے دیے گئے حکم کی روشنی میں حکومت نے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے بل پارلیمان میں پیش کرنے سے قبل اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔

کابینہ کے ایک رکن نے بتایا تھا کہ ’ترمیم کے مطابق، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی صورت میں ان کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیدہ عمر 64 برس ہوجائے گی جبکہ عمومی عمر 60 سال ہی رہے گی‘ اور وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ مستقبل میں آرمی چیف کو توسیع دے دیں۔

یاد رہے کہ 28 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اگلے 6 ماہ تک پاک فوج کے سربراہ ہوں گے اور اس دوران حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے سے آرمی چیف کی توسیع اور تعیناتی پر قانون سازی کرے۔

سپریم کورٹ نے 26 نومبر کو درخواست کی پہلی سماعت میں وفاقی حکومت کی جانب سے آرمی چیف کی مدت کے حوالے سےاگست میں جاری کیے گئے نوٹی فکیشن کو معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے قانون موجود نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں