115

” ہم بھلے آدمی ہیں”: نوید صدیقی … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: تنویر نعمان ہاشمی

خالص ادبی حوالے سے لودھراں میں پاسبانِ ادب کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں کہنا اب ایک باقاعدہ رسم بنچکا ہے۔ اب میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس تنظیم کے نام سے پہلے واقف ہوا یا اس کے سرگرم معاونین سے۔ یہ میرے بچپن کا زمانہ تھا۔ مقامی اخبار میں ادبی حوالے سے مضامین، خبریں اور شاعری تواتر سے چھپ رہی تھیں اور میں ان کا مستقل قاری یوں بھی تھا کہ فقط یہ ہی اخبار گھر میں آتا تھا۔ ادبی تقاریب کی روداد، خبروں اور دیگر تحاریر میں ماسٹر انور، انور گل، انور گریوال، نوید صدیقی، مظفر اقبال، شریف شازب، عمران جاوید، راؤ رفیق اور مبشر لودھی وغیرہ کے نام شامل ہوا کرتے تھے۔

شعر سے دلچسپی تھی سو کسی روز نوید صدیقی کے اشعار پڑھے تو والد صاحب سے ان کے متعلق دریافت کیا۔ والد صاحب کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے ہمسائے میں مقیم صدیقی خاندان کے قریبی عزیز ہیں۔ اس خاندان سے ہمسائیگی سے بڑھ کر تعلق تھا۔ ان کے افراد بھی تدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔ بچوں اور خواتین کا دن میں کئی بار ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ یوں میرے لئے اب نوید صدیقی اجنبی نہیں رہے۔ بلکہ قدرتی طور پر ایک قلبی لگاؤ پیدا ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ملنے سے زیادہ “زندہ شاعر ” کو دیکھنے کااشتیاق بھی۔ مقامی اخبار میں نے سنبھال کر رکھ لیا جس میں ان کے یہ اشعار شائع ہوئے تھے:

بہت ممکن ہے کم اپنا خسارا کر لیا جائے
جو ملتا ہے اگر اس پر گزارا کر لیا جائے
نشاں منزل کا کھو جائے تو رک جانے سے بہترہے
سفر اک اور رستے پر دوبارہ کر لیا جائے

وقت گزرتا رہا اور اس فیملی سے قریبی تعلق کے باوجود نوید صدیقی صاحب سے ملاقات ممکن نہ ہو پائی البتہ ان کا نام اور کلام سننے اور پڑھنے میں آتا رہا۔ اس دوران میں یہ ستم بھی ہوا کہ مقامی اخبار “مقبول” ہو گیا۔ اور اشتہارات کی برکت سے ادبی سلسلے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اداریہ غائب ہوا بلکہ بعض اوقات خبریں بھی۔ کالج میں پہنچنے تک اخبارات کے ذریعے ان کی نظم و نثر مجھ تک پہنچتی رہی اور ملاقات کی خواہش پنپتی رہی. میں شہر میں مقیم ان کے خاندان کے لوگوں کو آتے جاتے بغور دیکھا کرتا اور ان کی شکل و صورت کا موازنہ اپنے دماغ میں موجود اس خاکے سے کیا کرتا جو اخبارات میں چھپی دھندلی سی تصویر نے میرے ذہن پر نقش کیا تھا لیکن خواہش کے باوجود میں انھیں کہیں دیکھ سکا نہ ملنے کی کوشش ہی کر سکا.

بی ایڈ کرنے کے دوران میں تدریس اردو کے استاد محترم حنیف راحل نے جب انور گل مرحوم کے اشعار سناتے ہوئے ان کا بھی تذکرہ کیا تو دل میں جہاں یہ کسک پیدا ہوئی کہ انور گل مرحوم کی ہمسائیگی میں رہتے اور ان سے واقف ہونے کے باوجود ان سے بالمشافہ ملاقات سے محروم رہا وہاں صدیقی صاحب سے ملنے کی خواہش پھر سے بیدار ہوئی. بہاول پور کے ہم جماعت محبوب عالم نے جب ان کے اشعار سنائے تو میں نے پہلی فرصت میں ان کی تلاش کا فیصلہ کیا. اشعار یہ تھے:

لاکھ اختلاف کر
بات صاف صاف کر
ہے مرے خلاف تو
کچھ مرے خلاف کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منحرف یار بھی ہوسکتا ہے
پشت سے وار بھی ہو سکتا ہے
باہرآ سکتا ہے اندر کا فساد
ضبط دشوار بھی ہو سکتا ہے……

عاشورہ محرم کی تعطیلات قریب تھیں کہ میں نے,جو فیس بک کا نیا یوزر تھا,نوید صدیقی کی آئی ڈی دیکھی.ان سے اسی وقت رابطہ کیا اور تعارف کے بعد ملاقات کا وقت لے لیا.

میری خوشی کا اب کم از کم ایک” ٹھکانہ” تھا.اپنے دوست عثمان حمیدسے ذکر کیا اور اسے ساتھ چلنے پر راضی پایا. مکان کا پتا معلوم نہ تھا اور ہم پیدل تھے سو مقررہ وقت سے بہت زیادہ تاخیر کے ساتھ ان کے دولت کدے پر پہنچے. انھوں نے دروازے پر استقبال کیا وقت اور وعدے کے پابند صدیقی صاحب کی پیشانی پر انتظار کی تکلیفکے اثرات مجھے شرمندہ کررہے تھے۔ زندہ شاعر میرے ذہن میں موجود خاکے سے کہیں زیادہ تندرست وتوانا نکلا.یوم عاشور تھا ہمیں کسی قسم کی جلدی نہیں تھی سو جی بھر کے ان سے گفتگو کی اگرچہ ان کی سنجیدہ گفتگو اور علم وفضل کا رعب بار بار ہمیں پٹخنیاں دیتا رہا. نہ چاہتے ہوئے جانے کی اجازت چاہی تو انھوں نے انورگل کا مجموعہ کلام “آنکھیں اگنے لگتی ہیں ” ہمیں تحفتاً عنایت کیا. اس “منافع” پر ہماری ملاقات کی خوشی دوگنی ہوگئی.

اس پہلی ملاقات کے بعد صدیقی صاحب کے ساتھ مل بیٹھنے کااشتیاق بڑھ گیا جو اب تک بڑھتا ہی چلا جاتا ہے. مجھے ان سے ملاقات میں ہمیشہ وقت کی تنگی کا احساس رہتا ہے.تعلیم و تدریس ‘نفسیات سماجی رویے ‘معاشرتی شعور ‘ادب ‘تاریخ ‘مذہب اور دیگر موضوعات پر ان سے گفتگوہوئی اور انھیں کسی تعصب میں مبتلا نہیں پایا. انصاف پسندی کے ساتھ جستجوئے علم وعمل میں مشغول رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی “اکسانے”کے سزاوار ہیں۔صدیقی صاحب کی شخصیت میں وہی خصوصیات ہیں جو ان کے کلام میں پائی جاتی ہیں. ان کوجاننے والے ہرشخص کی رائے میں خواہ وہ میری طرح ان کا عقیدت مند ہو یا شاگرد, ہم جماعت اور دوست ہو یا ہم پیشہ ساتھی ‘حبیب ہو یا رقیب، ان کے متعلق بہت سے پہلوؤں سے یکسانیت پائی جاتی ہے۔

ان کی شخصیت مصلحت پسندی، ریاکاری، موقع پرستی، خود نمائی اور منافقت جیسے رائج الوقت لوازمات سے عاری ہے۔ ایسی ” خصوصیات ” کے حاملین کو زیادہ عرصہ تو کجا کم عرصے کے لئے بھی نوید صدیقی گوارا نہیں کرسکتے۔ البتہ نوید صدیقی اپنے علم و فن اور مقام کے باوصف ایسے لوگوں کے عزائم کی تکمیل کی ایک ضرورت ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بعد از تجربات یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ ایسے افراد کو کم از کم اپنی حد تک ناکامی سے دوچار کرتے رہیں گے۔ بہت سے دوست انہیں سخت مزاج، کٹھور اور سر پھرا نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ کہتے بھی ہیں لیکن میں نے ہمیشہ انہیں خلیق، متواضع اور بااخلاق پایا۔ وہ دوستوں اور ملنے جلنے والوں میں ایک خاص حد سے زیادہ گھلنے ملنے اور بے تکلفی سے پرہیز کرتے ہیں۔

ایک حساس شاعر اوردرد مند ادیب دیگر عام افراد سے یقینا مختلف ہوتا ہے اور اس کو اپنے رویے اور کردار کے حوالے سے میرے خیال میں کچھ رعایت دی جانی چاہئے۔ ایک بار کہا تھا:

“نو ید صدیقی کی گفتگو عام طور پر مخاطب کو کسی قدر الجھاؤ کا شکارکردیتی ہے.اکثر اوقات ان کے اٹھائے گئے نکات کا بھر پور ابلاغ نہیں ہو پاتا.اپنے مخصوص رویے کی وجہ سے ان کا ایساتاثر پیدا ہو چکا ہے کہ احباب ان کی گفتگو کے دوران دعا کرتے ہیں کہ خیریت ہی رہے.اور اگربات اشارے کنائے میں ہو تو سمجھیے غلط فہمی کا جنم یقینی ہے. اسی باعث نوید صدیقی کو اپنے ہنسی مذاق کی بھی وضاحت پیش کرنا پڑتی ہے.

بعض اوقات ان کی گفتگوماحول کوبوجھل کردیتی ہے۔کبھی کبھی تو وہ اپنے رویے سے سامنے والے شخص کو زچ کرنے پر تلے نظرآتے ہیں. نوید صدیقی کی حد سے زیادہ مثالیت پسندی(آئیڈیلزم) بعض نسبتاً بہتر اور قابل قبول چیزوں کو رد کردیتی ہے جس سے حوصلہ افزائی تو ایک طرف رہی اکثر اوقات مزا کرکرا ہو جاتا ہے تاہم کبھی کبھی وہ گنجائش نکالتے ہوئے اپنے نکتہ نظر میں لچک پیدا کرنے میں کام یاب ہوبھی جایا کرتے ہیں۔ ” بقول نوید صدیقی

ہم بھلے آدمی ہیں، سو ہر بار
بس ہمارا قصور ہوتا ہے

نوید صدیقی جیسے صاحبِ علم و فضل لوگ میرے شہر کی حقیقی شناخت ہیں۔ انہوں نے معاشرے کی بہتری اور علم و ادب کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ یکم جنوری ان کا یومِ پیدائش ہے۔ اس موقع پر ان کی صحت و سلامتی اور عمر میں برکت کے لئے دعا گو ہوں۔ (یاد داشتوں سے مقتبس)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں