50

پشاورہائی کورٹ: ایف بی آر کو ٹیکسٹائل ملز کیخلاف کارروئی روکنے کا حکم

پشاور (ویب‌ ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کو 3 ٹیکسٹائل ملز کے خلاف کام کرنے کرنے سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس احمد علی نے یہ بھی ہدایت کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 65-بی کی ترمیم شدہ دفعات کے مطابق تینوں ٹیکسٹائل ملوں کو دستی طور پر یا ای پورٹل / کمپیوٹر سسٹم میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ اپنا ریٹرن جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔

جدون ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ اور دو دیگر ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر کی گئی درخواست میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 65 بی میں فنانس ایکٹ 2019 کے تحت کی گئی ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے ذریعے ٹیکس سال 2019 کا قرضہ 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا ہے اور اس کا اطلاق درخواست گزاروں پر بھی ہوا تھا۔

درخواستگزاروں کے وکیل قاضی غلام دستگیر کا کہنا تھا کہ ٹیکس مراعات کی اسکیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور 2010 میں سیکشن 65-بی شامل کرنے کے بعد متعارف کرائی گئی تھیں جس میں وقتاً فوقتاً ترمیم کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکشن 65-بی میں 2 مراعات دی گئی تھیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پہلی مراعات کے مطابق موجودہ صنعت میں سرمایہ کاری کا 10 فیصد ٹیکس قرضے کے طور پر دیا جانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دی گئی مراعات کا مقصد موجودہ پلانٹس کو ٹیکس قرضوں کے تحت وسعت دینا تھا تاکہ صنعت اپنی مشینری کو بین الاقوامی معیار پر جدت سے آراستہ کرسکے’۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور اس سے فائدہ اس وقت مل رہا تھا جب پلانٹ اور مشینری 30 جون 2010 سے 30 جون 2015 تک قرضوں پر لے کر لگائی گئی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس شق کو وقتاً فوقتاً فنانس ایکٹ 2018 کے تحت بڑھایا گیا اور اس سے فائدہ 30 جون 2021 تک اٹھایا جاسکتا تھا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ فنانس ایکٹ 2019 کے تحت سیکشن 65 بی میں دو اہم طریقوں سے ترمیم کی گئی، پہلی ٹیکس قرضوں کو 10 فیصد سے کم کرکے 5 فییصد کیا گیا اور دوسری اس کی مدت کو کم کرکے 30 جون 2019 کیا گیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ جہاں فنانس ایکٹ 2019 کا اطلاق یکم جون 2019 سے سے ہوا ان ترامیم کا بھی اطلاق ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکشن 65 بی کے تحت ٹیکس مراعات پر انحصار کرنے والے درخواست گزاروں نے یکم جولائی 2018 سے 30 جون 2019 کے درمیان متعدد پلانٹس اور مشینریز میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اپنی ٹیکسٹائل مل کو جدت اور وسعت سے آراستہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اب ان نئی مشینریز کے نصب کیے جانے کی تاریخ سے ٹیکس قرضوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں آتے ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ایف بی آر سمیت فریقین ترمیم شدہ سیکشن 65-بی کی غلط تشریح کر رہے ہیں اور پلانٹ اور مشینریز جو 30 جون 2019 سے قبل لگائی گئی تھیں پر بھی کم کیے گئے 5 فیصد ٹیکس کا اطلاق چاہتی ہیں۔

وکیل نے عدالت نے اپنے وکیل کو غیر ترمیم شدہ سیکشن 65 بی کے تحت ریٹرنز فائل کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں