47

تبدیلی سرکار سے عوام کو جلد نجات مل جائیگی: امجد حسین

گلگت (ویب ڈیسک) پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدرامجدحسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جس طرح الیکشن کرانے کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ہے اسی طرح آرڈر2018 اورآرڈر2019 میں نگران حکومت کے لئے بھی کوئی قانون موجود نہیں ہے۔جب قانون ہی موجودنہیں تو نگران حکومت کیسے بنے گی؟

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرڈر2018کوزبردستی چلایاجارہا ہے جوغیرقانونی ہے۔اس وقت گلگت بلتستان میں قانونی لحاظ سے آرڈر2019نافذ ہوناچاہئے اور آرڈر2018کے تحت ہی کام ہوناچاہئے۔نگران حکومت کے لئے بھی اب سپریم کورٹ سے رجوع کرناپڑے گا۔ سپریم کورٹ جانے کے بعداب آرڈر2018اورآرڈر2019میں کسی قسم کی ترمیم بھی نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کامعاملہ سپریم کورٹ میں پھنساہوا ہے ۔جب تک یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ انتخابات نگران حکومت کے بغیر بھی ہوسکتے ہیں۔پوری دنیا میں نگران حکومت کے بغیرانتخابات ہوسکتے توگلگت بلتستان میں کیوں نہیں؟

2020میں تبدیلی سرکار سے بھی عوام کونجات مل جائے گی اس لئے وفاق اورگلگت بلتستان میں انتخابات ایک ساتھ ہوں گے۔انہوں نے کہااحتساب کے نعرے لگانے والوں کاگلگت بلتستان میں کوئی سیاسی وجود نہیں ہے۔گلگت بلتستان میں لوٹوں کی حکومت نہیں بن سکتی۔امجدایڈووکیٹ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی جانب سے عوام کے نام پر300ارب کے منصوبے آئے لیکن پیسے وزیراعلیٰ کی جیب میں چلے گئے۔عوام کے مفادمیں کوئی کام نہیں کیاگیا جوبھی کام ہوا اس کا براہ راست فائدہ وزیراعلیٰ کوپہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی اور احتساب بھی پیپلزپارٹی ہی کرے گی۔عوام باشعور ہیں سب کچھ جانتے ہیں اب تک جوبھی کام ہواہے پی پی کے دورمیں ہوا ہے۔پیپلزپارٹی نے ہی گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دےئے ہیں۔آئندہ بھی پی پی ہی عوام کے مسائل حل کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں