85

“باتوں میں اس کی زاویے سارے غزل کے ہیں ” … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اشہر صدیقی

والد سے محبت کا جذبہ بھی اتنا ہی قوی اور سچا ہے جتنا ماں سے محبت کا جذبہ۔۔۔۔۔۔۔ہم سب بہن بھائی اپنے آپ کو والد کا چہیتا سمجھتے ہیں۔کیونکہ شفیق باپ وہ ہوتا ہے جو سب بچوں کو برابر کا پیار دے اورکسی کو یہ احساس نہ ہو کہ مجھے کم پیار ملا ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ ماں کا پیار تو سب کو نظر آتا ہے، ماں کے لئے سبھی لوگ دعا کرتے ہیں۔ باپ کی محبت کو محسوس کرتے ہوئے بھی عام طور پر اس کا ذکر نہیں کیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔ شاید والد کی جانب سے ہونے والی روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ حائل ہوتی ہے۔والد کی زندگی ہمارے لئے کھلی کتاب کی مانند ہوتی ہے۔ اس کتاب کی ایک ایک سطر، ایک ایک لفظ زندگی بھر کے تجربات کا نچوڑ ہوتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ والد کے تجربات کو نظر انداز کرتے ہوئے اولادخود تجربہ کرتی ہے۔ باپ کی کمائی کی حقدار بننے کے لئے اولاد تیار ہے لیکن اس کے دیگر تجربات، اصول اورزندگی کی حقدار بننے کے لئے تیار نہیں۔ میرے والدایک شاعر بھی ہیں اور معلم بھی۔ کسی نے کہا تھا

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا
میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائی میں

باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتاہے۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سہولیات ِزندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔والد ایک ذمہ دار انسان ہے جو اپنی خون پسینے کی کمائی سے گھر چلاتا ہے۔ و الد ایک مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی خاندان کی نگرانی کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اولاد کو اپنے والدین کے حق میں رحمت و مغفرت کی دعا بھی سکھائی ترجمہ اے میرے رب میرے والدین پر رحمت کاملہ نازل فرما جس طرح کہ انہوں نے میرے ساتھ رحمت کا معاملہ کیااوروالد کی خدمت و ا حترام سے د نیا اورآخرت میں کامیابی ملتی ہے۔والد اس صادق رشتے کا نام ہے،جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ باپ کی عظمت سے کوئی بھی انسان، دین، مذہب، قوم اور فرقہ انکار نہیں کر سکتا۔ باپ کا رشتہ ہر غرض بناوٹ اور ہر طرح کے تقاضے سے پاک ہوتاہے۔

مجھے اپنے والد گرامی سیبے انتہا پیار ملا۔ زندگی میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ مجھے اپنے والد کے ساتھ کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔ ہر موقع پر میرے والد نے میرا ساتھ دیا۔ بطور دوست، غمگسار اور محبوب۔۔۔۔ جب بھی مجھے کوئی تکلیف محسوس ہوئی تو سب سے پہلے جس نے میرے کندھے پر تھپکی دی اور میرا حوصلہ بڑھایا۔ وہ ہاتھ کسی اور کا نہیں بلکہ میرے والد کا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی میں اپنی زندگی سے ناامید ہو جاتا ہوں۔ مجھے اپنی زندگی بے مقصد سی معلوم ہونیلگتی ہے۔ اس وقت میرے والد کی شخصیت ہی اس جہان میں میرے لئے واحد کشش ہوتی ہے۔جو نہ صرف میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں بلکہ مجھے مایوسی کا مکمل شکار ہونے سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مجھے نوید صدیقی کا بیٹا ہونے پر فخر ہے۔ انہوں نے ہر قسم کے حالات میں میرے بہترین دوست کا کردار ادا کیا۔ میں نے اپنے والد کو ہمیشہ اچھا دوست، بڑا بھائی اور مشفق استاد جیسے روپ میں پایا۔ آج میری شناخت میرے قالد کی سبب ہے۔ ان کی مترنم آواز میرے کانوں میں گونجتی ہے اور میرا حوصلہ بڑھاتی ہے۔

جو زمانے میں ہمت نہ ہارے۔۔ اپنی تقدیر خود جو سنوارے
اس جہاں میں اسی کے ہمیشہ۔۔۔کامیابی قدم چومتی ہے
ہم نے مانا جہاں میں بہت روگ ہیں
جو دکھوں سے لڑیں وہ بڑے لوگ ہیں
تم کو جینا ہے تو سر اٹھا کے جیو
اپنے سارے غموں کو بھلا کے جیو
مسکرا کے جو ہر پل گزارے۔۔ اپنی تقدیر خود جو سنوارے
اس جہاں میں اسی کے ہمیشہ۔۔۔کامیابی قدم چومتی ہے

خدا کا شکر ہے کہ انہوں نے زندگی میں کبھی غصے کی نگاہ سے نہ دیکھا۔ کیونکہ میری جوانی اور لڑکپن سانس کی بیماری میں گزرا۔ دو، تین دفعہ تو ڈاکٹرز نے جواب دے دیا۔میری پریشانی کی وجہ سے کئی مرتبہ انہیں نم آنکھوں کے ساتھ دیکھا۔ میں ان کا اکلوتا فرزند ہوں۔ اپنے والد کے بارے میں عقیدت و احترام اور محبت کے جذبات کو چند سطروں میں سمویا نہیں جا سکتا۔ مجھے کچھ عرصے کے لئے لاہور رہنے کا اتفاق ہوا۔واحد پسر ہونے کی وجہ سے گھر میں عجیب سی کیفیت ہوگئی۔ میرا سفر سے واپس آنا تو راستے تک چلے آنا، بے تابی سے انتظار کرنا، رخصت کرتے ہوئے خصوصی طور پر ساتھ جانا، گاڑی میں سوار ہونے تک موجود رہنا ان کے لئے عام سی بات تھی جبکہ میرے لئے ان کی یہ تکلیف نا قابلِ برداشت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بنا تیرے، میرے ہمدم میں کچھ بھی کر نہیں سکتا
جو تم ہو ساتھ میرے تو، زمیں کو آسماں کر دوں

میرے والد کی فطرت میں دوسروں کے لئے جینا شامل ہے۔ میرے والد آج کل کے زمانے کے لئے ان فٹ ہیں۔ شائد یہ بات سب کو عجیب لگے کہ ایک بیٹا اپنے والد کو موجودہ دور کے لئے ان فٹ کہہ رہا ہے۔ جی ہاں! جناب۔۔۔۔۔ آج کل ہر جگہ رشوت ستانی، بے ایمانی، دھوکہ دہی اور جھوٹ جیسی بیماریاں عام ہیں۔ وہاں ایک ایسا شخص جو سچائی، ایمان داری اورراست بازی کے اصولوں پرکاربند ہو اوردوسروں کو بھی یہ ہی درس دے وہ ان فٹ ہی ہوگا۔

مجھے یہی کہنا ہے کہ اولاد کو چاہیے کہ بے شک والدین کے حقوق پورے نہیں ہو سکتے لیکن والدہ کے ساتھ والد کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں، والد کو ناراض نہ کریں کیونکہ کہ ان کی ناراضی میں ہی اللہ تعالی کی ناراضی ہے۔ دعا ہے کہ ان کا سایا مجھ پر ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ماں باپ کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور جن لوگوں کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہوگئے، اللہ ان کے درجات بلندکرے اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں