48

فضائی مہمانوں نے سانپ کی تصویر والی شرٹ پہننے پر 10 سالہ بچے کو پرواز میں سوار نہ ہونے دیا

جوہانسبرگ (ویب ڈیسک) عام طور پر ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جب کسی فضائی کمپنی کی جانب سے کسی خاتون کو نامناسب لباس زیب تن کرنے پر طیارے میں سفر کرنے سے روکا جاتا ہے۔

مگر جب ایک بچے کو اس کی ٹی شرٹ کی وجہ سے پرواز میں سوار ہونے سے روکا جائے تو یہ کچھ عجیب ضرور لگتا ہے۔

مگر جنوبی افریقہ میں یہ واقعہ پیش آیا جہاں جوہانسبرگ ائیرپورٹ پر 10 سالہ بچے کو ائیرپورٹ سیکیورٹی عہدیداران نے اس کی قمیض پر ایک سانپ کی تصویر کی وجہ سے طیارے پر سوار ہونے سے روک دیا۔

نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق اسٹیو لوکاس اپنے خاندان کے ساتھ دادا کے پاس ویسٹرن کیپ جارہا تھا جب ائیرپورٹ پر سیکیورٹی حکام نے اس کی ماں مارگا کو ہدایت کی کہ بچے کا سانپ والا کھلونا اور سانپ کی تصویر والی قمیض لے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اور اس کی وجہ ایسی بتائی گئی جس جو دنگ کردینے والی ہے۔

حکام کے بقول قمیض پر سانپ کی تصویر دیکھ کر دیگر مسافر یا عملے کے اراکین ذہنی بے چینی یا تشویش کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اس ہدایت پر بچے نے قمیض الٹ کر پہن لیا اور پھر طیارے پر سوار ہوگیا۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ لباس پر اکثر مسافرں کو روکا جاتا ہے مگر ان میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے اور انہیں روکنے کی وجہ اکثر لباس کو نامناسب قرار دیا جانا ہوتی ہے۔

جیسے رواں سال جون میں اسپین سے برطانیہ جانے کی خواہشمند ایک خاتون کو ‘قابل اعتراض’ لباس پہننے پر پرواز سے نکال دیا گیا۔

31 سالہ ہیریٹ اوسبورن اسپین کے شہر مالاگا سے لندن کا سفر کررہی تھیں اور ان کے لباس پر مسافروں کے اعتراضات کے بعد جب فضائی عملے نے لباس بدلنے کو کہا۔

برطانیہ کی سب سے بڑی بجٹ ائیرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خاتون نے ایسا لباس پہن رکھا تھا جس سے جسم ظاہر ہورہا تھا اور مسافروں کے اعتراض کے بعد جب ہیریٹ کو اضافی قمیض پہننے کے لیے دی گئی۔

ایزی جیٹ کے ترجمان کے مطابق ‘ہم تصدیق کرتے ہیں کہ 23 جون کو ایک مسافر اس وقت سے سفر کرنے سے قاصر رہی کیونکہ اس کا رویہ ٹھیک نہیں، اس خاتون کے لباس پر مسافروں کے اعتراض پر عملے کے نرمی سے ایک اور قمیض پہننے کی درخواست کی، جس پر وہ راضی بھی ہوگئی، تاہم خاتون کی جانب سے عملے کے ایک رکن کے ساتھ شرانگیزرویہ اختیار کیا گیا’۔

ترجمان کا کہنا تھا ‘ہمارے کیبین اور زمینی عملے کو ہر طرح کی صورتحال کے تجزیے کی تربیت دی گئی ہے اور وہ حالات کے مطابق فوری اور مناسب اقدام کرتے ہیں، ہم اپنے عملے کے ساتھ کسی طرح کا دھمکی آمیز یا بدسلوکی پر مبنی رویہ برداشت نہیں کرتے’۔

دوسری جانب 31 سالہ خاتون نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عملے کا رویہ ایسا تھا جیسے اس کا لباس کم عمر مسافروں کے لیے نامناسب ہے۔

اس سے قبل رواں سال مارچ میں بھی ایک برطانوی فضائی کمپنی تھومس کک ائیرلائن کی پرواز میں ایک 21 سالہ خاتون کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔

تھومس کک ایئرلائن کے عملے نے 21 سالہ ایملی او کانر کو بولڈ اور مختصر لباس پہن کر طیارے پر سوار ہونے پر جھاڑا تھا۔

عملے نے لڑکی کے لباس کو نامناسب اور دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا قرار دیا تھا اور ان پر دباﺅ ڈالا تھا کہ وہ خود کو کسی کوٹ سے ڈھانپ لیں۔

بعدازاں مسافر لڑکی کو لباس کی وجہ سے جہاز سے اتارے جانے کی دھمکی دیے جانے کی خبر وائرل ہونے کے بعد ایئرلائن کمپنی نے ایملی او کانر سے معذرت کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں