68

خصوصی افراد سے یکجہتی کا عالمی دن … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

خصوصی افراد کا عالمی دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 14 اکتوبر 1992 کو منظور ہونے والی قرار داد نمبر 47/3 کے تحت ہر سال تین دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر میں خصوصی افراد کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا، معاشرے میں خصوصی افراد کی افادیت پر زور ڈالنا،خصوصی افراد سے اظہار یکجہتی کرنا اور لوگوں میں احساس بیدار کرنا کہ وہ خصوصی افراد کو بھی معاشرے کا حصہ سمجھیں۔

ایک معذور فرد کا حق ہے کہ اُسے مواقع میں برابری ملے، یعنی ایک ایسا عمل جس کے ذریعے ماحول، گھر، ذرائع آمدورفت، تعلیم، کام کے مواقع اور صحت سے متعلق سہولتیں حاصل ہوں، اُسے کھیل ،تفریح اور تہذیبی زندگی کے تمام مراحل سے لطف اندوز ہونے کے مواقع دستیاب ہوں۔ اس ضمن میں اُن تمام چیزوں یا عوامل کو دور کیا جائے جو ان شعبوں میں بھرپور شرکت کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہوں۔ پاکستان کے آئین کی رُو سے بھی تمام شہریوں کے یکساں حقوق ہیں۔

صحت، روزگار، تعلیم اور دیگر تمام شعبوں میں کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہے۔ ایک خصوصی فرد بھی اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک عام شہری جیسے حقوق رکھتا ہے۔ یہ اُس کا وہ بنیادی حق ہے، جو اُسے آئین ِ پاکستان کی رو سے حاصل ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں اس وقت ہر دس میں ایک شخص معذور ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں 80 سے90 فیصدخصوصی افراد کوزندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا تناسب پچاس سے ستر فیصد ہے اوران میں سے80 فیصد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے خصوصی افراد کے مطابق پاکستان میں خصوصی افراد کی تعداد میں سالانہ 2.65 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔خصوصی افراد کو روزمرّہ کے معمولات سرانجام دینے کیلئے معاشرے میں بے حد مشکلات کا سامنا ہے۔ کیونکہ عموماً لوگ انہیں ترس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں نامکمل انسان سمجھتے ہیں۔

1981ء میں خصوصی افراد کے بارے میں قانون سازی کی گئی اور ملازمتوں میں ان کے لیے دو فیصد کوٹہ رکھا گیا۔2002ء میں خصوصی افراد کے لیے ایک اور نیشنل پالیسی بنائی گئی۔2006ء میں نیشنل پلان آف ایکشن برائے خصوصی افراد متعارف کروایا گیا۔جس کے تحت پورے معاشرے کو معذور دوست بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس پلان کے تحت عمارتوں، مساجد، پبلک مقامات پر خصوصی افراد کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ تھا۔لیکن اس پلان پر جزوی طور پر عمل ہوا۔ 2009ء میں معذور افراد کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ پالیسی کا اعلان ہوا۔ خصوصی افراد کو ڈیوٹی فری گاڑیاں درآمد کرنے کی خوش خبری بھی سنائی گئی لیکن ان میں سے کسی بھی پالیسی پر مکمل عمل درآمد کی نوبت نہ آسکی۔

حکومت کے طرف سے قائم کئے گئے اداروں میں خصوصی بچوں کی ہر ممکن مدد کی جاتی ہے۔کوشش ہوتی ہے کہ سب سے پہلے یہ جانا جائے کہ ایسی کون سی چیز ہے جس کی مدد سے بچہ اپنی سننے، دیکھنے یا بولنے کی صلاحیت کی محرومی پر قابو پا سکتا ہے۔ پھر اس کے رجحان کے مطابق اسے تعلیم دی جاتی ہے۔ بچوں کو صرف تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ انہیں عملی زندگی میں بغیر سہارے کے اپنے بل بوتے پر جینا بھی سکھا یا جاتا ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر کی طرف سے ڈسٹرکٹ اسسمنٹ بورڈبرائے خصوصی افراد کی جانچ کے بعدخصوصی افراد کو خصوصی سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے اور پھر نادرا کی جانب سے خصوصی افراد کو مخصوص شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔حکومت کی طرف سے ضلعی سطح پرایک کمیٹی موجود ہے۔ جوخصوصی افرادکے مسائل اور ان کے حل کیلئے کوشاں رہتی ہے۔

پا کستان میں معذور افراد کی تعداد ڈیڑھ سے پونے دوکروڑ کے لگ بھگ ہے جو مختلف نوعیت کے مسائل سے دو چار ہیں۔ جن میں بیروزگاری، قانون ساز اداروں میں نمائندگی کا نہ ہونا، سفری مسائل، مفت علاج معالجے کی عدم دستیابی، انتہائی حساس خصوصی افراد کے لئے باقاعدگی سے وظائف کا نہ ہونا۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی رعائتی سفری سہولت کا نہ ہونا قابل ذکر ہیں۔خصوصی افراد کی سہولت کیلئے خصوصاً عمارتوں میں ریمپ تعمیر کرنے کا پابند کیا جائے۔نئے تعمیر ہونے والے اور پرانے سکولوں کی عمارتوں میں ریمپ بنانے لازمی قرار دیئے جائیں تاکہ دور دراز علاقوں میں مقیم وہ خصوصی بچے جن کی خصوصی بچوں کے ادارے تک رسائی ممکن نہ ہوتو وہ وہیل چیئر پر ان نزدیکی سکولوں میں پڑھائی کیلئے جا سکیں یا سکول میں زیرِ تعلیم کسی طالب علم کے وہیل چیئر استعمال کرنے والے والد یا سرپرست کی پہنچ سرپرستِ ادارہ تک رسائی ممکن ہو سکے۔

نئی عمارتوں اور واش رومز کی تعمیر کے دوران اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے کہ خصوصی افراد کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ افسوس ہے کہ ریلوے ا سٹیشن پر بھی خصوصی افرادکے لیے سہولت نہیں ہے۔ ہسپتالوں میں خصوصی افراد کیلئے علیحدہ کاؤنٹر ہونا چاہیئے۔ ایک بات غور طلب ہے کہ ”کزن میرج“ معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے جس کے بارے میں آگاہی دینے کیلئے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے بڑے پیمانے پرآگاہی مہم شروع کی جائے۔ اس حوالے سے معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز کو چاہیئے کہ اس آگاہی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور میڈیا پر بھی خصوصی آگاہی مہم چلائی جائے۔ خصوصی افرادکو معاشرے میں مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ لہٰذا خصوصی افرادکے حوالے سے معاشرتی روّیوں میں تبدیلی کیلئے تعلیمی نصاب میں مضامین شامل کئے جائیں۔ خصوصی افراد میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ٹیکنیکل مہارت رکھنے والے خصوصی افرادکو کاروبار کیلئے آسان شرائط پر بلا سود قرضہ دیا جائے۔

بدقسمتی سے حکومت کو ابھی تک معذور افراد کی مکمل تعداد ہی معلوم نہیں۔گزشتہ حکومت نے مردم شماری کے فارم میں معذور افراد کا خانہ شامل کیا مگر اس میں معذوری کی قسم یا نوعیت کی کوئی تفصیل نہیں تھی۔لہٰذا ایسی صورت میں ان کی بحالی کے مؤثر اقدامات کیسے کئے جاسکتے ہیں؟ جب خصوصی افراد کی تعداد اور معذوری کی نوعیت معلوم نہیں تو پھر ان کی تعلیم، صحت و دیگر سہولیات کے لیے بجٹ کیسے مختص کیا جائے گا؟۔ اگر حکومت کے پاس خصوصی افراد کے حوالے سے اعداد و شمار ہوں گے تو پھر ان کی روشنی میں اقدامات کرنے میں مدد ملے گی۔

خصوصی افراد کے حوالے سے چند اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ حکومت اگر انہیں دیگر سہولیات نہیں دے سکتی تو کم از کم ان کی معذوری ختم کرنے کے لیے مدد فراہم کرے۔اس کے لیے تمام معذور افراد کا علاج مفت ہونا چاہیے اور جسے مصنوعی بازو، ٹانگ، وہیل چیئر، کان کا آلہ یا کسی اور سہولت کی ضرورت ہے اسے سرکار کی جانب سے مفت دی جائے۔ یہ حکومت کا بہت بڑا قدم ہوگا اور اس سے خصوصی افراد کو ریلیف ملے گا۔معائنے میں معذوری کی تصدیق ہونے کے بعد اس کا فوری علاج ہونا چاہیے۔ شدید قسم کے معذور جو بستر سے اٹھ نہیں سکتے۔

حکومت کو چاہیے کہ انہیں بیت المال سے خوراک، علاج و دیگر اخراجات ادا کرے۔ خصوصی افراد کی بحالی کے لئے خصوصی افراد سے مشاورت کرتے ہوئے ان کے لئے پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔بلا شبہ سرکاری طور مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنے اورمزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ کیونکہ صرف خدمت کارڈ یا نوکریوں کا اعلان کر دینا ہی کافی نہیں ہے۔ ان پر عملدرآمد بھی اہم ہے۔ کیونکہ ان افراد کی بحالی کے لئے جن اقدامات کا اعلان کیا گیا۔وہ اس نوعیت کے نہیں تھے کہ جن سے ان کی زندگیوں میں انقلاب آ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مقیم خصوصی افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انسانوں کی خدمت قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر معاشرے کی توجہ سے محروم افراد کی خدمت کو شعار بنا لیا جائے تو اس سے بڑھ کر نیکی اور کیا ہو گی؟ضرورت اس امر کی ہے کہ خصوصی افراد سے لاتعلقی اور بے گانگی کے احساس کو ختم کرنے کے لیے معاشرے کو ”معذور دوست“ بنانے کے اقدامات کا آغاز کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں