55

لاہورہائی کورٹ: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو علاج کی خاطر چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانیکی اجازت

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کو ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے اور غیر مشروط طور پر باہر جانے کے لیے دی گئی درخواست پر ان کے حق میں فیصلہ سنادیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عدالت عالیہ نے نواز شریف کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے حکومت کی جانب سے عائد کی گئی غیر قانونی شرط کو مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی ہے۔

شہباز شریف نے وکلا اور قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔

قبل ازیں صبح جب عدالت نے سماعت شروع کی تو اس میں ابتدائی دلائل کے بعد متعدد مرتبہ سماعت ملتوی کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلانے کی درخواست منظور کی تھی جس پر باقاعدہ سماعت کا آغاز آج صبح 11 بجے شروع ہونے تھی۔

تاہم سماعت کا آغاز تقریباً 30 منٹ تاخیر سے ہوا۔

سماعت کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی عدالت میں پیش ہوئے، علاوہ ازیں لیگی رہنما پرویز رشید اور احسن قبال بھی لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے۔

شہباز شریف کی قانونی ٹیم عدالت پہنچی اور نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے اپنے دلائل پیش کیے۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کی درخواست پر سماعت کی۔

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل (اے اے جی) چوہدری اشتیاق اے خان جبکہ قومی احتساب بیور (نیب) کی جانب سے عدالت میں فیصل بخاری اور چوہدری خلیق الرحمٰن پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومتی میمورینڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟ جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ حکومت کے علم میں ہے نواز شریف کی صحت تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف حکومت کو بانڈز جمع نہیں کرانا چاہتے تو عدالت میں جمع کرا دیں۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کے وکیل بتائیں کہ کیا نواز ضمانت کے طور پر کچھ دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟

عدالت نے شہباز شریف کی قانونی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

عدازاں درخواست گزار کی قانونی ٹیم نے اس معاملے پر مشورہ لینے کے لیے 15 منٹ کی مہلت مانگی۔

جس پر عدالت سماعت تقریباً ساڑھے بارہ بجے سماعت 15 منٹ تک ملتوی کردی۔

لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کا دوبارہ آغاز تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط لگائی جا سکتی ہیں؟ اور اگر ضمانت کے بعد ایسی شرائط لاگو ہوں تو، کیا اس سے عدالتی فیصلے کو تقویت ملے گی یا نہیں؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے عدالت کی رٹ قائم کرنے کے لیے شرائط لاگو کی ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے یا نہیں؟

حکومتی وکیل نے کہا کہ ہم نے شرائط اس لیے لاگو کیں تاکہ نواز شریف واپس آ کر پیش ہوں۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف بیرون ملک علاج کروانا چاہتے ہیں تو کروا سکتے ہیں مگر سابق وزیر اعظم عدالت کو مطمئن کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت مطمئن ہو تو ہمیں نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر اعتراض نہیں۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جب معاملہ عدالت میں ہو تو حکومت مداخلت نہیں کرسکتی اور ہم نواز شریف کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ سابق وزیراعظم جب بھی صحت مند ہوں ملک میں آجائیں گے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ہم عدالت میں تحریری حلف نامہ دے دیتے ہیں کہ نواز شریف صحت یاب ہوکر پاکستان آئیں گے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ نواز شریف کو واپس لائیں گے؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ہم نواز شریف اور شہباز شریف سے تحریری حلف نامہ لے لیتے ہیں وفاق اس دیکھ لے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ‘یہ تحریری حلف نامہ عدالت میں دیا جائے گا اور اگر حلف نامے پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو توہین عدالت کا قانون موجود ہے’۔

اس دوران شہباز شریف نے کہا کہ للہ نواز شریف کو صحت دے اور اللہ تعالی نواز شریف کو واپس لائیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف واپس آنے سے متعلق لکھ کر دیں، جس کے بعد عدالت نے ایک مرتبہ پھر سماعت تقریباً دوپہر سوا ایک بجے 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

نواز شریف اور شہباز شریف کی تحریری یقین دہانی کا ڈرافٹ عدالت میں پیش
بعدزاں امجد پرویز ایڈووکیٹ نے تقریباً 1 بج کر 45 منٹ پر نواز شریف اور شہباز شریف کی تحریری یقین دہانی کا ڈرافٹ تیار کر کے ججز کے چیمبر میں جمع کرادیا۔

ہاتھ سے لکھا ہوئی تحریری یقین دہانی کا ڈرافٹ دو صفحات پر مشتمل ہے

وکلا کی جانب سے جمع کرائے حلف نامے کے متن میں یقین دہانی کرائی گئی کہ نواز شریف صحت مند ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے اور اپنے عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔

ڈرافٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف پاکستان کےڈاکٹروں کی سفارش پر بیرون ملک جا رہے ہیں اور بیرون ملک میں موجود ڈاکٹر جیسے ہی اجازت دیں گے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر نواز شریف واپس آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

عدالت کی جانب سے بیان حلفی کی کاپی تقریباً پونے دو بجے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو فراہم کردی گئی۔

تاہم عدالت نے مقدمے کی سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی کردی۔

ساڑھے تین بجے تک شروع ہونے والی سماعت میں شہباز شریف کے وکیل نے نواز شریف کی یقین دہانی کا درافٹ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

وکیل نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے انڈر ٹیکنگ دی ہے کہ جیسے ہی نواز شریف صحت یاب ہوں گے واپس آئیں گے۔

جس پر عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ جی وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ڈرافٹ پر اعتراض اٹھا دیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس درافٹ پر اعتراض ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ڈرافٹ میں نہیں لکھا گیا کہ نواز شریف کب جائیں گے کب آئیں گے۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاص مدت کے لیے نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی اور25 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کیس کی مین اپیل بھی مقرر ہے۔

وکیل نے کہا کہ نواز شریف کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ نواز شریف ضمانتی بانڈ جمع کرائیں۔

جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ ہر کوئی جانتا ہے نواز شریف کی صحت خراب ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ڈرافت کے جواب میں حکومت نے بھی ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جب سمجھے گی کہ نواز شریف کی حالت ٹھیک ہے تو حکومت اپنا بورڈ ملک سے باہر چیک اپ کے لیے بھیج سکتی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ یہ چیک کرے گا کہ نواز شریف سفر کر کہ ملک میں واپس آ سکتے ہیں یا نہیں۔

حکومتی وکیل نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہا کہ اگر حکومت کو اینڈیمنٹی بانڈ جمع نہیں کرائے جاتے تو عدالت میں کرا دیں۔

جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت حکومتی شرائط سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہمارے خیال سے یہ درست نہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت دی اور حکومت نے شرائط عائد کیں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر نواز شریف کی صحت ٹھیک ہو جاتی ہے تو وفاقی حکومت کا بورڈ نواز شریف کا معائنہ کر سکتا ہے۔

بعدازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنا ڈرافٹ تیار کر کے فریقین وکلا کو دے گی اور اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے تقریباً 4 بجے نواز شریف کا نام ای ایل سی نکالنے پر مشتمل مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔

بعدازاں تقریباً 5 بجے عدالت کی جانب سے مجوزہ ڈرافٹ فریقین وکلا کو فراہم کردیا گیا جس کی تفصیلات تاحال منظر عام پر آنا باقی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے سے متعلق درخواست کی مخالفت کی تھی اور عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے جواب جمع کرایا تھا کہ مذکورہ معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کو سماعت کا اختیار نہیں۔

بعدازاں فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے وفاق اور نیب کا عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کیا تھا۔

گزشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنا جواب جمع کرادیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل (اے اے جی) چوہدری اشتیاق اے خان نے بتایا کہ جواب جمع کرادیا گیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے نواز شریف کو غیر مشروط طور پر ملک سے باہر جانے کی اجازت کی درخواست کی مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا

وفاقی حکومت نے عدالت میں اپنا موقف جمع کرایا کہ لاہور ہائی کورٹ کو درخواست کی سماعت کا اختیار بھی نہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے 45 صفحات پر مشتمل جواب میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائی کورٹ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرے۔

وفاق کے جواب میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے نواز شریف کو چار ہفتے کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی، بعد ازاں عدالت نے حکومتی موقف کی نقول مسلم لیگ (ن) کی وکلا ٹیم کو فراہم کردی تھیں۔

نواز شریف کا نام ای سے ایل سے نکالنے کے لیے درخواست میں ان کے بھائی شہباز شریف نے جمع کروائی تھی جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ ‘وفاقی حکومت کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی لیکن نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا’۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط رکھی جا رہی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔

خیال رہے کہ شہباز شریف نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور چیئرمین قومی احتساب بیورو کو فریق بنایا تھا اور موقف اپنایا تھا کہ نواز شریف نے علاج کے لیے بیرون ملک جانا ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا تھا کہ میں اور اسمبلی میں موجود 84 اراکین قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے بعد واپس آئیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکومتی 7 ارب کے ضمانتی کاغذ کی بنیاد پر نواز شریف کی توہین کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف یا شہباز شریف کو 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوں گے جس کے بعد انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت ہوگی’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘2010 کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کے قوانین اور 1981 کے آرڈیننس میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی سزا یافتہ شخص کو ای سی ایل سے اس وقت تک نہیں ہٹا سکتے جب تک اس کی کوئی ضمانت نہ حاصل ہو’۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ‘نواز شریف کی طبیعت اگر ٹھیک نہ ہو تو قیام میں توسیع کی درخواست بھی دی جاسکتی ہے’۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) نے اپنے قائد نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی شرط کا حکومتی فیصلہ مسترد کردیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون اور معاون خصوصی احتساب کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کو مشروط کرنے کا حکومتی فیصلہ عمران خان کے متعصبانہ رویے اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ نواز شریف کی عدالت سے ضمانت کے وقت تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے اور ضمانتی مچلکے جمع کرائے جاچکے ہیں لہٰذا ان کا نام ‘ای سی ایل’ سے نکالنے کو مشروط کرنا حکومت کا ناقابلِ فہم فیصلہ ہے اور عدالت کے اوپر ایک حکومتی عدالت نہیں لگ سکتی۔

واضح رہے کہ نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے کہ اس دوران نیب نے انہیں چوہدری شوگر ملز کیس میں تفتیش کے لیے اڈیالہ جیل سے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

نیب کی تحویل کے دوران ہی سابق وزیراعظم کی صحت بگڑی تو انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔

جہاں ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا اور انہیں علاج کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے 8 ہفتوں کے لیے خصوصی اجازت مل گئی جس کے بعد وہ ہسپتال سے جاتی امرا منتقل کردیے گئے۔

اس دوران سرکاری میڈیکل بورڈ نے بھی نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی تجویز دی تاہم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ وزارت داخلہ اور نیب کے مابین گھومتا رہا۔

بعدازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے لیکن وہ 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈ جمع کرائیں گے۔

مذکورہ حکومتی فیصلے کو مسلم لیگ (ن) نے مسترد کردیا اور لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست جمع کرادی۔

اور بالآخر لاہور ہائی کورٹ نے درخواست کو قابل سماعت قرار دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں