44

سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے سے متعلق درخواست گزشتہ روز قابل سماعت قرار دیئے جانے کے بعد آج (بروز ہفتہ) درخواست پر سماعت کا آغاز ہوگیا۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے، علاوہ ازیں لیگی رہنما پرویز رشید اور احسن قبال بھی لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے۔

شہباز شریف کی قانونی ٹیم عدالت پہنچ گئی جہاں وہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے اپنے دلائل پیش کرے گی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کی درخواست پر سماعت کی۔

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل (اے اے جی) چوہدری اشتیاق اے خان جبکہ قومی احتساب بیور (نیب) کی جانب سے عدالت میں فیصل بخاری اور چوہدری خلیق الرحمٰن پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومتی میمورینڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟ جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ حکومت کے علم میں ہے نواز شریف کی صحت تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف حکومت کو بانڈز جمع نہیں کرانا چاہتے تو عدالت میں جمع کرا دیں۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کے وکیل بتائیں کہ کیا نواز ضمانت کے طور پر کچھ دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟

عدالت نے شہباز شریف کی قانونی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

بعدازاں درخواست گزار کی قانونی ٹیم نے اس معاملے پر مشورہ لینے کے لیے 15 منٹ کی مہلت مانگی۔

جس پر عدالت نے سماعت 15 منٹ تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے سے متعلق درخواست کی مخالفت کی تھی اور عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے جواب جمع کرایا تھا کہ مذکورہ معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کو سماعت کا اختیار نہیں۔

بعدازاں فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے وفاق اور نیب کا عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں