217

انسدادِ منشیات میں نوجوان نسل کا کردار… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: محمد احمد نواز
پی ایچ ڈی اسکالر(میڈیا اسٹڈیز)

اگرہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ایک بھیانک حقیقت نظر آتی ہے کہ ہر گلی محلے میں زرد چہرے،لاغر جسم مٹی سے اٹّے بال بکھیرے سینکڑوں لوگ زندہ لاشوں کی طرح جگہ جگہ پڑے نظر آتے ہیں چلتی پھرتی یہ زندہ لاشیں سیگریٹ،افیون، گانجا، چرس، مارفین، ہیروین، الکحل اورانجکشن مختلف طریقوں سے اپنے جسموں میں انڈیلتے رہتے ہیں یہ زندہ لاشیں اپنے خیالوں اور اپنی دنیامیں گم رہتے ہیں اس دنیاکے وہ خود مالک اور خود ہی رعایا ہوتے ہیں ان سے وابستہ والدین کی امیدوں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں.

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کےمطابق اس وقت دنیا بھر میں 20 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد منشیات کا استعمال کر رہے ہیں. پاکستان کے اعداد وشمار بھی تشویشناک ہیں. اقوام متحدہ کے ہی اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ جیسی موذی لت میں پڑے ہوئے ہیں. حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد نوجوان طلبا وطالبات کی ہے.

پاکستان میں نشہ استعمال کرنیوالوں میں ایک بڑی تعداد نوجوان طلبا وطالبات کی ہے.

بعض اوقات تو اللہ تعالیٰ سے دعاؤں،مَنّتوں اورمُرادوں کے نتیجے سے حاصل ہونے والی ایسی اولادوں کے منہ میں اپنی والدہ کے دودھ کی خوشبو بھی ابھی باقی ہوتی ہے کہ وہ نشے کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ایسے میں ان کا والد اس دنیا سے رخصت ہو جائے یاان کی بیوہ ماں لوگوں کے گھروں کا فرش دھوئے یا برتن مانجھے انہیں کیا؟ا نہیں تو صرف اپنے نشے سے غرض رہتی ہے۔

نشہ بذاتِ خود ایک سماجی برائی ہے اس سے مزید برائیاں جنم لیتی ہیں جن میں چوری،ڈکیتی اور قتل وغارت جیسے واقعات شامل ہیں نشئی انسان نشہ حاصل کرنے کیلئے ہر جائزو ناجائزذرائع استعمال کرتا ہے اور یوں وہ معاشرے کا مجرم بن جاتا ہے یہ لعنت اس کی امنگوں، تخلیقی صلاحیتوں یہاں تک کہ عزتِ نفس کو بھی تباہ کرکے رکھ دیتی ہے۔

نسشہ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں یہاں تک کہ عزتِ نفس کو بھی تباہ کرکے رکھ دیتا ہے.

منشیات کا کسی قوم میں پایا جانا تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہے معیشت کی تباہی،قوائے بدنیہ کی بربادی،روح کیلئے سامانِ موت،ملک و ملت کا ستیاناس وغیرہ یہ تمام مضرات نشہ ہی کی بدولت وجود میں آتی ہیں یہ تمام خیالی و ذہنی دلائل پر منحصر نہیں بلکہ اس پر واقعاتی شواہد موجود ہیں کہ بڑی بڑی سلطنتوں وخاندانوں کے چراغ اسی نحوست کی وجہ سے گل ہوئے ان مضرات کو نوجوان تعلیم یافتہ محسوس کر سکتے ہیں اورزیورِ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ نسلیں ہی کروٹ بدل سکتی ہیں ورنہ بفرمانِ علامہ اقبال ؒ

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا                کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

اقبال مرحوم شیوخ سے مایوس ہوکر یوں بھی گویا ہیں کہ

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں                ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف

اسی لئے توعلامہ مرحوم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ”جوانوں کو پیروں کا استاد کر دے“

دقیا نوسی حکومت کا خاتمہ ہویا دنیا کی کسی بھی چھوٹی بڑی برائی کا خاتمہ نوجوان نسل کے گرم خون اور گرم نوا پر منحصر ہے نشہ ام الخبائث میں سے ہے قوم کے وجود سے اس کا قلع قمع کرنا با کردار نوجوان نسل پر مبنی ہے منشیات کی بڑھتی ہوئی مرض کو دو طرح سے روکناہے وعظ و تبلیغ سے اور تعزیراتی سزاؤں سے ہر دو طریق سے کام لینا نہایت ناگزیر ہے تعزیراتی سزاؤں کا تحقق سچی گواہی سے ہے عدالت میں سچی گواہی باکردار شخصیت سے متوقع ہے اگر گواہ لالچ،خوف اور مراعات وغیرہ کا شکار ہو جائے تو اس ام الخبائث کے امراض کا انسداد نا ممکن ہے بلکہ ہر برائی کا انسداد مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ آئے دن برائیوں کی داغ بیل خوفناک طریقوں سے ڈالی جا رہی ہے۔

مملکت ِخدا داد پاکستان کو سرخ و سیاہ آندھیاں اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش میں مصروف ہیں غیر ملکی ایجنٹ اپنے آقاؤں کے نظریات کو عام کرنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور اپنے اس مشن کو تندہی سے انجام دے رہے ہیں نوجوانوں کو دین سے دور لے جانے کے مختلف طریقے آزمائے جا رہے ہیں تعلیمی اداروں میں طلبأ کو نشہ کا عادی بنایا جا رہا ہے دوسری جانب ہیروئن ہماری نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اس صورت میں یہ زیب نہیں دیتا کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے مقابلے سے گریز کیا جائے۔

سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹی کے اساتذہ طالب علموں کونشے کے نقصانات سے مکمل آگاہی دیں

لہٰذا اس کیلئے نوجوان طبقے کا وجود ناگزیر امر ہے بلا شبہ طالب علم کسی بھی قوم کیلئے معمار کی حیثیت رکھتے ہیں اساتذہ طالب علموں کیلئے رول ماڈل ہوتے ہیں سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹی کے اساتذہ طالب علموں کونشے کے نقصانات سے مکمل آگاہی دیں تاکہ وہ فیشن یا سٹیٹس سیمبل کے طور پر سگریٹ یا نشے کی عادت کو اپنانے کی بجائے خود بھی نشے کی لعنت سے دور رہیں اور دوسروں کو بھی اس سے دور رہنے کی تلقین کریں کیونکہ بجھی ہوئی چنگاری ایک نہ ایک دن ضرورشعلہ فشاں ہوتی ہے.

بزرگ نوجوانوں کو ذمہ داریاں سونپتے ہوئے ہچکچاتے ہیں تو صرف اور صرف ان کی نااہلی کی بدولت مگر ناامیدی گناہ ہے ہمیں نو جوانوں سے ہمیشہ پُر امید رہنا چاہیئے اس کی رگوں میں خون بجلیاں بن کر دوڑتا ہے اور وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کا عظم رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ انبیا و رسُل اور ہر دور کے مصلحین کی انقلابی پکار پر نوجوانوں نے ہی سب سے زیادہ توجہ دی ہے علامہ محمد اقبال نے بھی اپنی شاعری کے ذریعے ایک لا زوال پیغام دیا ہے. انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کیا ہے قوم کا مستقبل،معماراور عظیم سرمایانوجوانوں سے بے حد توقعات وابستہ کرتے ہوئے انہیں اسلاف کے کارناموں،شان وشوکت اور ان کے جاہ وجلال سے آگاہ کرتے ہوئے خود داری اور بہادری کا درس دیا ہے.

ناامیدی گناہ ہے ہمیں نوجوانوں سے ہمیشہ پُر امید رہنا چاہیئے

موجودہ دور میں منشیات کی روز بروز بڑھتی ہوئی وباء کی روک تھام اور سدِباب کیلئے ہر ذی شعورفرد کواپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانا ہوں گی اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہ وبأاور لعنت ہمارے گھرانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور بروز قیامت ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے آ ج کے نوجوان کی ذمہ داری ہےکہ وہ ملکی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیلئے دن رات ایک کر دے ملک سے فحاشی، بدمعاشی اور نشہ کی لعنت کا قلع قمع کریں۔

اس قوم کوشمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں