179

عزم و ہمت کی پیکر دیہاتی خواتین … شعور میڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

عورت بحیثیت مجموعی انسانیت کا نصف اور معاشرے کا وہ ناگزیر عنصر ہے جس کی گود قوموں کی پرورش کرتی ہے۔جوں جوں انسان نے ترقی کی منازل طے کیں معاشرے کا ڈھانچہ اور ان کے مزاج بھی بدلتے رہے۔ شہروں اور دیہات کی تقسیم ہو گئی اور یوں عورت کے لیے بھی کلچر بدلتا رہا۔ آج بھی جب ہم حقوق اور مسائل کی بات کرتے ہیں تو شہر کی عورت اور گاؤں کی عورت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہیں کہ کس کو کس درجے کے مسائل کا سامنا ہے اور کون ان سے زیادہ احسن طریقے سے نبرد آزما ہو رہی ہے۔ کس کو حقوق مل رہے ہیں اور کس کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔

دیہاتی عورتوں کا عالمی دن دنیا میں پہلی مرتبہ 2008ء میں منایا گیا تھا۔

شہروں کی ایک اپنی زندگی ہے۔ تعلیم‘شعور اور آزادی بھی ہے تاہم دیہی عورت خواہ دنیا کے کسی بھی علاقہ اور معاشرے کی ہو۔ اس کی زندگی ایک جہد ِ مسلسل ہے اور وہ ہر حوالے سے معاشرتی گھٹن اور جبر کا شکار ہے۔پاکستان زیادہ تر زرعی معیشت والا ملک ہے جہاں دیہی علاقوں میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ لیکن برابر محنت کے باوجود یہ کروڑوں دیہی خواتین اپنے حقوق کے حصول میں مردوں سے بہت پیچھے ہیں۔پاکستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں خواتین کی بڑی تعداد گھر کے کاموں سمیت دیگر کاموں میں اپنے خاندان کا ہاتھ بٹاتی نظر آتی ہیں۔پاکستانی دیہات میں رہنے والی زیادہ تر خواتین کو ”ورکنگ ویمن“ بھی کہا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود دیہاتی خواتین مردوں سے اپنے حقوق حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں.

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 15اکتوبر دیہاتی عورتوں کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 15اکتوبر دیہاتی عورتوں کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دیہاتی عورتوں کو خراج تحسین پیش کرنا اور بطور مزدوران کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے کہ ملکی تعمیروترقی میں دیہی خواتین کا کیا کردار ہے، پاکستان میں دیہاتی خواتین کس طرح سے زندگی بسر کررہی ہیں اور ان کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔ دیہاتی عورتوں کا عالمی دن دنیا میں پہلی مرتبہ 2008ء میں منایا گیا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد دیہات میں رہنے والی خواتین کی ان کوششوں کا اعتراف کرنا ہے کہ جن کی بدولت معاشرے اور معیشت میں بہتری پیدا ہورہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں تیز رفتار ترقی اور سماجی مساوات کو یقینی بنانے کے لیے خواتین خاص طور پر دیہی علاقوں کی محنت کش خواتین کو ان کے جملہ طبی، تعلیمی اور قانونی حقوق دیئے جانے کی اشد ضرورت ہے۔بطور کھیت مزدوراس کے کردار اور فلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔کوئی ایسا قانون نہیں کہ جس سے ان کی مشکلات اور ان کے استحصال کا خاتمہ ہو سکے۔دن بھر کے سارے کاموں اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عورتیں مختلف بیماریوں یعنی عام الرجی، ڈسٹ الرجی، قے آنے کی شکایت، اعصابی دباؤکا شکارہونا،عورتوں کے بچے نومولود ہی مر جانایاعورتوں کے مردہ بچے پیدا ہونا وغیرہ۔

ماہرین عمرانیات کے مطابق کھیتوں میں کام کرنے، مویشی پالنے اور بچوں کی پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری بھی چلانے والی ان خواتین کو اکثر نہ تو جائیداد میں کوئی حصہ دیا جاتا ہے، نہ ہی کوئی زمین ان کی ملکیت ہوتی ہے.

تعلیم میں بھی وہ بہت پیچھے رہ جاتی ہیں اور طبی سہولیات سے تو ان کی ایک بہت بڑی اکثریت محروم رہتی ہے۔پاکستان میں خواتین خصوصاً دیہی علاقوں کی خواتین کے بارے میں عوام اور میڈیا کی سطح پر کیا تاثر پایا جاتا ہے؟ اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں بہتر صنفی نمائندگی کے موضوع پر کام کرنے والے محمد اقبال خان کے مطابق ملک کے ایک بڑے حصے میں زراعت کے شعبے میں خواتین بہت محنت کرتی ہیں لیکن انہیں نہ تو ان کی محنت کا معقول معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی ان کی خدمات کو کھلے دل سے تسلیم کیا جاتا ہے۔

حتیٰ کہ بعض دیہاتوں میں دور دراز پانی بھرنے کی ذمے داری روایتی اور ثقافتی طور پر عورت پر عائد ہے اور 8 سال کی بچی سے لے کر 50 سالہ عورت تک یہ ذمہ داری صرف صنفِ نازک ہی ادا کرتی ہے۔ مرد روایتی اور ثقافتی طور پر اِس ذمہ داری سے آزاد ہیں۔ عورت کی زندگی کے اِس منظر کو دیکھ کر حبیب جالب یاد آجاتے ہیں جنہوں نے شاید ایسے ہی حالات دیکھ کر کہا ہوگا کہ

وہ جس کی روشنی کچے گھروں تک بھی پہنچتی ہے                نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں

وہ نیا سورج تو جانے کب نکلے لیکن عورت کی زندگی کا یہ منظرنامہ پاکستان کے تقریباً ہر گاؤں میں یکساں نظر آئے گا۔ اکثر دیہاتوں اور قبیلوں میں بسنے والی عورت پر آج بھی دور جاہلیت کے رسم و رواج کا اطلاق کیا جاتا ہے۔پاکستانی معاشرے میں عورت کی مظلومیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کی تعلیم یافتہ عورت کے مقابلے میں دیہات میں بسنے والی عورت کو قانونی، معاشی و معاشرتی سہولیات میسر نہیں۔

آج جبکہ عالمی زرعی ایجنڈا اپنی تمام تر خرابیوں سمیت جنوبی ایشیاء کے ممالک کی زراعت کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے پر تول رہا ہے اور آزاد تجارت کی وجہ سے مقامی منڈیوں کی تباہی کی پیشین گوئیاں کی جا رہی ہیں۔

ان حالات میں پاکستانی کھیت مزدور عورتیں مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گی۔جو پہلے ہی مصائب میں گھری ہوئی ہیں۔دیہی خواتین سمیت معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کی کفالت اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کا اولین فرض ہے۔حکومت کو عورتوں کے وہ تمام شرعی حقوق مثلا زمینوں اور جائیداد میں وارثت کا مکمل حق،حق مہر کی مکمل ادائیگی، عورتوں پر جبر اور مار پیٹ جیسی جاہلانہ حرکت، کم عمر بچیوں کی شادیاں وغیرہ جیسے واقعات کی فوری روک تھا م کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دیہاتی عورت کو صنعتی مالکان کے استحصالی جبر سے بچانے کے لیے وہ تمام اقدامات کرنے ہوں گے اور اس کے لیے قوانین سازی کرنی ہو گی تا کہ دیہاتی عورت کی عزت نفس بحال ہو سکے اور وہ اپنے کردار اور مقام پر فخر کر سکے جو اُسے ابتدائے آفرنیش سے حاصل رہا ہے.

مشکلات کے باوجوددیہات میں بسنے والی خواتین  ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ سرگرم ِ عمل رہتی ہیں۔

بہر حال بے شمار مشکلات کے باوجوددیہات میں بسنے والی خواتین دیہی وسیب کے ہر شعبے اور دہقانی زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ سرگرم ِ عمل رہتی ہیں۔کھیتی باڑی،گلہ بانی،سینا پرونا،کھانا پکاناالغرض ہمارے دیہات میں گھرداریوں اور ڈیرے داریوں کے تمام تر بھرم وجودِ زن سے ہی قائم ہیں۔ اکثر دیہاتی خاندان عورت کی تعلیم کے ہی مخالف ہیں اور رہی سہی کسر حکومت کی نام نہاد تعلیمی پالیسیاں پورا کر دیتی ہیں۔ جس سے دیہاتوں کی اکثر خواتین تعلیم کے زیور سے محروم رہتی ہیں۔

دیہات میں شرح خواندگی شہریوں کی نسبت کم سہی لیکن ہمارے دیہی سماج کی ساری بہاریں ان نیم خواندہ خواتین کے دم سے ہیں۔دیہاتی بود وباش، زراعت اور لائیو سٹاک کے تمام شعبے ہماری خواتین کی محنتوں اور بے پایاں خدمات کا نتیجہ ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہماری بظاہر پسماندہ مگر درحقیقت عزم و ہمت کی پیکر دیہاتی خواتین کا کردار ہماری زندگی میں ہمارے لئے لائق صد ستائش و افتخار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں