154

اگلے جنم موہے بیٹیا نہ کیجو… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

یوں تو پورے ملک میں عورت پر مظالم کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں تاہم سرائیکی وسیب میں یہ روّش سب سے زیادہ ہے۔رواجوں کے نام پر عورت پر ظلم و ستم،زیادتی حتیٰ کہ قتل و غارت گری ایک معمول بن چکا ہے۔ شاہد ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو گا کہ کوئی ایسی خبر شائع نہ ہوئی ہو کہ عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔تشدد سے مراد صرف جسمانی تشدد ہی نہیں بلکہ کسی کو کسی کام سے روکنے،کیلئے جسمانی طاقت کا استعمال،ایک ایسا روّیہ اور عمل جو کسی کو نقصان پہنچائے،طاقت کے زور پر نا انصافی یابد سلوکی اور تااثرات وجذبات کا زبر دستی اظہار بھی تشدد کہلاتا ہے۔یہ تشدد کسی کو قابو میں رکھنے کا ایک بھیانک ہتھیار ہے۔

خواتین کے خلاف گھریلو تشدد انسانی حقوق کی شرمناک خلاف ورزی ہے۔گھریلو تشدد کی بہت سی عام شکلیں ہیں۔مثلاً بیوی کو گالم گلوچ، توہین آمیز سلوک،ڈرانا دھمکانا،خوف زدہ کرنا،ذہنی اذیت دینا،زدو کوب کرنا،ڈانٹ ڈپٹ پھنکار، بد چلنی کا الزام و دیگر کسی شکل میں بے عزت کرنا وغیرہ۔پاکستان میں صوبہ سندھ،بلوچستان اور سرائیکی وسیب میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے گھریلو تشدد کے ساتھ ساتھ پنچائتی فیصلوں اور حکومتی اداروں کے کارندوں کی صورت میں بھی عورتوں کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی ہیں۔ جہاں نہ صرف باپ کے جرم کی سزا بیٹیوں یا بھائیوں کے جرم کی سزا بہنوں کو دی جاتی ہے بلکہ رشتہ نہ دینے پر تیزاب گردی، ذاتی دشمنی پر بچیوں یا عورتوں کا اغواء،جاگیر داری نظام کے تحت غریب اور کمزور لوگوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔

اگر کہیں سے اس تشدد کے خلاف کوئی خدا ترس آواز اٹھتی ہے تو یہ کمزور آواز طاقتور ہاتھوں میں دب جاتی ہے۔سکول جاتی بچیوں کو یا خواتین کو پبلک مقامات پر گھورنا،آوازے کسنا،بیہودہ اشارے کرنا،پیچھا کرنا یا مختلف طریقوں سے تنگ کرنا وغیرہ تمام مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بعض اوقات تو عورتوں کے مجازی خدا خوشگوار ماحول میں ازراہِ مزاح دوسری شادی کرنے کی بات کرتے ہیں اور بیوی سے مزاح ہی مزاح میں دوسری شادی کے اجازت نامے کیلئے دستخط یا انگوٹھا لگوا کر اپنی مرضی کی تحریر لکھ کر اس دستاویز کو استعمال کرتے ہیں۔

جائیداد بچانے کیلئے قرآن سے شادی کر کے بھی ہمیشہ کیلئے اسے زندہ درگور کر دیا جاتا ہے۔

آج بھی پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورتوں کی صورت حال انتہائی پسماندہ ہے۔نہ صرف بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ طرح طرح کے تشدد کا شکار ہیں۔خاندانی رسم ورواج،جنسی تشدد،غیرت کے نام پر قتل کاروکاری، وِنی،وٹہ سٹہ وغیرہ جیسے واقعات نے خواتین کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔معمولی معمولی بات پر سوٹے کلہاڑیاں اور بندوقیں چل جاتی ہیں۔قتل وغارت گری کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔مگرجب سامنے پھانسی کا پھندا نظر آتا ہے تو صلح کیلئے معصوم بچیوں اور خواتین کو قربانی کیلئے پیش کر دیاجاتا ہے۔ محض شک کی بنیاد پر بچیوں اور خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔پہلے تو غریب والدین جہیز کی ڈیمانڈ پوری نہ کرسکنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بیٹی کے سر میں چاندی دیکھنے پر مجبور ہو تے ہیں۔

اگر شوہر لالچی ہو تو خصوصاً جہیز کم لانے پر کسی کے جگر کے ٹکڑے کا جینا دوبھر کر دیتا ہے۔بیٹے کو جنم نہ دینے پر عورت کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ حیایتاتی سائنس اس کو نہیں مانتی۔عورتیں خصوصاً بچیاں سماجی پریشر کی وجہ سے تولیدی صحت کے مسائل بتا نہیں پاتیں یا وسائل نہ ہونے کی بنا پر تولیدی صحت کے مسائل گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ذرائع ابلاغ نے عورتوں کے حسن اور جسمانی نمائش کو اشتہار بازی کیلئے استعمال کیا۔ذرائع ابلاغ کا یہ کردار بچوں یا بچیوں کی نفسیات پر بُرا اثر ڈالتا ہے کہ وہ عورت کو اس روپ کا حقدار سمجھتے ہیں اور معاشرے میں اس طرح کے روّیئے پنپنا شروع ہو جاتے ہیں۔

مردوں کے معاشرہ میں جہاں ورغلانے والا بھی مرد ہوتا ہے اور ایک مرد ہی کسی عورت پر الزام لگا کر اسے وِنی یا کاروکاری کی بھینٹ چڑھاتا ہے یا نیلام کرنے کیلئے لا کھڑا کرتا ہے۔اور تو اور اس عورت کو خریدنے والا بھی ایک مرد ہوتا ہے۔روزانہ تقریباً ہزاروں بے گناہ خواتین فٹبال کی طرح ٹھوکروں کی زد میں آکر اپنی عزت و نفس،انا اوروقار سب کچھ کھو دیتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں روایات کے مطابق عورت کا اپنی جائیداد سے حصہ مانگنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں روایات کے مطابق عورت کا اپنی جائیداد سے حصہ مانگنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔اگر کوئی اپنا حصہ مانگنے کی جرأت کر بھی لے تو اسے اپنے میکے سے قطع تعلق پر مجبور ہونا پڑے گااور عورت اس قطع تعلق کی بنا پر اپنے آپ کو ہمیشہ کیلئے عدم تحفظ کا شکار محسوس کرتی ہے۔اس لئے وہ ان جذباتی رشتوں کی جدائی برداشت کرنے کی بجائے جائیداد سے محرومی کو ترجیح دیتی ہے۔جائیداد بچانے کیلئے قرآن سے شادی کر کے بھی ہمیشہ کیلئے اسے زندہ درگور کر دیا جاتا ہے۔

آجکل موبائل کا منفی استعمال خصوصاً نوجوان نسل میں بہت زوروں پرہے اور یہ نوجوان نسل کیلئے بہت حساس مسلئہ بنا ہوا ہے۔ٹیلیفونک دوستی”جان نہ پہچان۔۔۔میں تیرا مہمان“سبز باغ دکھا نے والوں کو کسی کی بچی سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔

دولت و عزت کے لٹیرے طرح طرح کے حربے استعمال کر کے وبالِ جان بن جاتے ہیں۔نتیجہ یہ کہ حوّازادی پوری زندگی جہاں رہے گی ذلیل و خوار ہوتی رہے گی۔ہمیشہ گنہگار ٹھہرائی جاتی رہے گی۔اپنے پرائیوں کے طعنے تیر بن کر اس کے جسم و جان پر برستے رہیں گے۔زمانہ جاہلیت میں تو بچیوں کو ایک ہی مرتبہ زندہ درگور کر دیا جاتا تھا مگر آج تو اسے سسک سسک کر ہر پل مرنا پڑتا ہے۔لڑکیاں سقراط نہیں مگر انہیں زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے۔لمحہ لمحہ سسکنے کے باوجود ان کی ہمت کہ وہ زخمی دل وجان کے ساتھ جیتی ہیں۔

اگر ہم غور کریں تو ہمیں دین ِ اسلام میں نکاح،شادی سمیت خواتین کے تمام حقوق و فرائض بارے بتا دیا گیا ہے۔اور جو تحفظ عورت کو دینِ اسلام نے دیا ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔ہماری دین سے دوری ہی اس کا نتیجہ ہے کہ مسلمان عورت در در کی ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہے۔در اصل بات روّیوں کی ہے۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ ہے۔تاہم خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلئے پولیس سمیت دیگر تمام انتظامی اداروں،عوام اور علمائے دین کا اپنا کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر انصاف بر وقت نہ ملا تو انصاف کی روح مجروح ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین ہمارے معاشرے کے کمزور طبقہ کو انصاف بھی نہیں مل پائے گا توایسے میں حوّاکی بیٹی کی خدا سے التجا ہو گی کہ ”اگلے جنم موہے بیٹیا نہ کیجو“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں