177

ہر دلعزیز ٹیچر”محمد عزیز ملک“ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

پہلا مدرسہ ہر ایک کیلئے ماں کی گود ہوتی ہے جہاں وہ مختلف اشیا اور ان کے ناموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا سیکھتا ہے۔ لیکن بعد کی زندگی میں اسے ان لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے جو تعلیم و تربیت کے مختلف مراحل سے گزار کر اسے عملی زندگی میں قدم رکھنا سکھاتے ہیں۔ تمام والدین کے پاس اتنا وقت اور صلاحیتیں نہیں ہوتیں کہ وہ تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں بچوں کو شامل کرنے کے قابل بنا سکیں۔ لہٰذا انھیں معلم کی خدمات درکار ہوتی ہیں۔معلم کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری اللہ پاک نے رکھی ہے۔یعنی”معلم“ کو جو مقام مذہب دین اسلام میں دیا گیا ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں وہ مقام اس کو دیا گیا ہو۔ جس مذہب کی ابتداء ہی لفظ اقراء سے ہو،اس میں پڑھنے اور پڑھانے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اللہ نے اس کائنات کے لوگوں کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے جو انہیں حق اور ہدایت کی تعلیم دیتے،اچھے اور برے میں فرق کرنا سکھاتے اور اس دنیا میں نت نئے چیلنجز کا کس طرح سامنا کرنا ہے اس کی تربیت فرماتے تھے۔ دینِ اسلام میں معیاری تعلیم ہی وہ ہے جس کے نتیجے میں انسان خودشناسی اور خدا شناسی سے ہمکنار ہو۔ اسی علم کی بدولت انسان کو وہ مقام ملا جو فرشتوں کو بھی نہ ملا۔ بلکہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔حدیث مبارکہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آسمان و زمین کی تمام مخلوقات، بلوں میں رہنے والی چیونٹیاں، پانی میں رہنے والی مچھلیاں اس شخص کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی سیکھاتا ہے۔ (ترمذی)

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ بہترین صدقہ یہ ہے کہ انسان علم سیکھے اور اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے(ابن ماجہ)۔استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کہتے ہیں کہ استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں۔کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے۔

ایسی ہی ایک ہر دلعزیز شخصیت گورنمنٹ ہائی سکول لِنجاری اڈا بستی لائلپور تحصیل کہروڑ پکا ضلع لودھراں سے ریٹائرمنٹ لینے والے ٹیچر محمد عزیز ملک ہیں۔جو مورخہ 31 مارچ 1965 ء میں ارائیں فیملی سے تعلق رکھنے والے کاشتکار، مذہبی لگاؤ سے سرشارحاجی ملک اللہ وسایا کے گھرموضع جمرانی واہ بستی ڈھوری والا میں پیدا ہوئے۔ابتداء میں حافظ عبدالرحمٰن(جو کہ نابینا تھے)سے بسم اللہ شریف پڑھ کر ناظرہ قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کی۔1970ء میں گورنمنٹ پرائمری سکول لِنجاری میں پہلی کلاس میں داخلہ لیا۔سکول میں ٹیچرمحترم حبیب اللہ صاحب نے پہلا سبق دیا اور ہاتھ میں قلم پکڑنا اور لکھنا سکھایا۔

5سالوں میں اس سکول میں حبیب اللہ،سید وزارت حسین شاہ بخاری،عاشق حسین اور رانا نثار احمد نے انتہائی محنت سے پڑھایا۔گورنمنٹ پرائمری سکول لِنجاری کلاس پنجم کے طلباء کا امتحانی سنٹر گورنمنٹ مڈل سکول امیر پور سادات میں امتحان ہوا۔1975ء میں گورنمنٹ پرائمری سکول لِنجاری سے پانچویں کلاس کا امتحان پاس کیا۔ 1976ء میں گورنمنٹ ہائی سکول دھنوٹ میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا۔میاں فخر احمد قریشی جبلہ،میاں غلام مصطفیٰ قریشی جبلہ،ملک امیر بخش،سید نادر عباس شاہ،فضل احمدو دیگر اساتذہ کی تدریس میں انتہائی محنت کی بدولت 1981ء میں ملتان بورڈ کے امتحان میں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیااور ایس ای کالج بہاولپور میں داخلہ لے لیا۔ مگرناگزیر حالات کی بنا پرتعلیم کو خیر باد کہنا پڑا۔ گھریلو معاشی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بلیو سٹار گھی ملز بہاولپورمیں کلرک کی ڈیوٹی سرانجام دینے لگے۔

1983ء میں محکمہ تعلیم میں بطور ان ٹرینڈ پی ٹی سی ٹیچر گورنمنٹ پرائمری سکول پلہ ہمشیرہ تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور”مرکز اُچ شریف“ میں تعیناتی ہوئی۔ ناگزیر حالات،نئی نئی ملازمت اور پڑھانے کے شوق کی وجہ سے انتہائی محنت و لگن سے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہا۔طلباء بھی محنت سے پڑھتے اور اچھے نمبروں سے پاس ہوتے تو سربراہِ ادار ہ و افسران کی طرف سے تعریفی کلمات اور پھر احساسِ ذمہ داری کی بنا پرمزید محنت سے درس و تدریس یہ سب تمام عرصہئ ملازمت کے دوران رگ رگ میں رچی بسی رہیں۔دورانِ ملازمت1989ء میں محکمہ تعلیم کی طرف سے پی ٹی سی کا امتحان پاس کیا۔

10جنوری 1991ء میں بہاولپور ڈویژن سے ملتان ڈویژن میں گورنمنٹ پرائمری سکول سبز کوٹ مرکز کہروڑ پکا میں تبادلہ ہوااور ٹھیک دو ماہ بعد10مارچ1991میں پھر تبادلہ مادرِ علمی ادارہ گورنمنٹ مڈل سکول لِنجاری میں ہوا۔جس ادارہ میں قلم پکڑنا سیکھا اسی ادارہ میں بطور ٹیچر تعیناتی کسی اعزاز سے کم نہ تھی۔سربراہِ ادارہ ہذا محمد اقبال خان کو انتہائی محنتی اور شفیق پایا۔ 2013ء میں ادارہ ہذا کوہائی کا درجہ دے کراسے گورنمنٹ ہائی سکول لِنجاری اڈا لائلپور کا نام دے دیا گیا۔اللہ وسایا خان بلوچ ادارہ ہذا کے ہیڈ ماسٹر تعینات ہوئے۔جوکہ ہمیشہ اساتذہ،طلباء کے والدین،معززینِ علاقہ وعوام کے رابطہ میں رہتے۔اور اس سکول کی تعمیر و ترقی میں اہم کردارادا کیا۔

سکول میں فزیکل ٹیچر(پی ای ٹی) نہ ہونے کی بنا پر یہ ذمہ داری محمد عزیز ملک کے کندھوں پر ڈال دی گئی۔ 2008ء سے 2019ء تک اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔ہر سال سکولوں کے سالانہ ٹورنامنٹس میں طلباء کی شرکت کو یقینی بناتے رہے۔گورنمنٹ ہائی سکول لِنجاری اڈا لائلپور میں کھیلوں کا گراؤنڈ نہ ہونے کے باوجوداس ادارہ کے طلباء تحصیل، ضلع اورڈویژن سطح پر کھیلوں میں حصہ لیتے اور نمایاں پو زیشن لے کر سکول کا نام روشن کرتے رہے۔

کھیلوں کے ساتھ ساتھ دیگر ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی طلباء کو شریک کرنے میں محمد عزیز ملک نے کوئی کثر اٹھا نہ رکھی۔ادارہ ہذا کے طلباء محمد عزیز ملک کی نگرانی میں 2008 سے 2015تک ہر سال سکاؤٹ کیمپ گھوڑا گلی مری میں شرکت کر کے نمایاں پوزیشن حاصل کرتے رہے۔شوگر کی وجہ سے صحت اکثر خراب رہنے لگی تو اپنے فرائضِ منصبی درس و تدریس میں حرج محسوس کرنے لگے۔ان کے دل میں خیال آیا کہ فرائضِ منصبی پوری طرح ادا نہ کرسکنے سے طلباء کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ جبکہ تنخواہ پوری لینے پر بروزِ قیامت حساب کیسے دوں گا، تو ملازمت سے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا۔تاکہ ان کی جگہ کوئی نوجوان ٹیچر تعینات ہو کر ان بچوں کے مستقبل کو بہتر طریقے سے سنوارے گا اور جولائی 2019میں ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی۔

ادارہ کے اساتذہ محمد حنیف،سعید احمد،طاہر کمال،محمد عرفان،دین محمد،سہیل عمران،مقبول شفیع،امجد شاہ، عبدالغفور، طاہر جمیل، منور حسین بھی،محمد طارق،محمد حسین،جمشید احمد،شعیب حسین،فیض احمد فیضی،رانا اللہ دتہ نے الواداعی تقریب کی روایت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محمد عزیز ملک کے اعزاز میں ایک پر وقار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا اساتذہ اور طلباء نے ان کی کارکردگی کو سراہا۔بلاشبہ ایسے محنتی اور دیانت داری سے اپنے کارہائے نمایاں سرانجام دینے والے ملازمت سے ریٹائر ہو کر رخصت ہو جاتے ہیں مگر لوگوں کے دلوں سے رخصت نہیں ہوتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں