45

دو دیوانے …. شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: نذیر خالد
سابق ڈائریکٹر انفارمیشن وریذیڈنٹ ڈائریکٹر
بہاولپور آرٹس کونسل، بہاولپور

ویل ویل۔۔۔۔
پنوں زادہ شاد اور دیوانہ بلوچ
کے نام کی ویل   ۔۔۔

دیکھا جائے تو قرض تو میرے اوپر ان صدارتوں،مہمان خصوصی اور مہمان اعزازکے طور پر کی جانے والی عزت افزائی کے بھی بہت ہیں جو بہاولپور میں مختلف علمی ادبی اور سماجی تقریبات میں شمولیت کرنے پر میرے حصے میں آتی ہے،ان کا حساب ذرا لمبا اور پرانا ہے کبھی وقت نکالوں گا اور دوستوں کی اس محبت کا تذکرہ بھی شکریے کیساتھ ضرور کروں گا لیکن اس وقت میں ان اہل قلم احباب کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہا ہوں جو مجھے اپنی کتابوں کے تحفے سے نوازتے ہیں۔ابھی جولائی میں جب بہاولپور آنے کا اتفاق ہوا تو دو دوستوں جن میں روح ادب پنوں زادہ شاد صاحب اور دیوانہ بلوچ صاحب شامل ہیں،نے اپنے تازہ مجموعے بطور تحفہ دیئے اور اگر کتاب کے ساتھ ذرا سی بھی دلچسپی ہو تو میں سمجھتا ہوں اس سے بڑا تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جن دونوں احباب کا حوالہ میں نے دیا ہے، وہ دونوں دیوانے ہیں،ایک نے اپنے دیوانہ ہونے کا اعلان کر رکھا ہے اور دوسرے دیوانے نے کبھی اعلان نہیں کرناہے بلکہ اپنے عمل سے بتانا ہے کہ دیوانہ کیا ہوتا ہے،لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو دنیادار نہیں ہوتا،ہوشیاریاں چالاکیاں اور کسی کے ساتھ دھوکہ دہی نہیں کرتا وہ دیوانہ ہی تو ہے۔

روح ادب پنوں زادہ شاد صاحب

روح ادب پنوں زادہ شاد صاحب کے ساتھ میری میل ملاقات چار برس تو سمجھیں کہ تقریبا روزانہ کی بنیاد پر رہی ہے جب دن بھر ہم ایک ساتھ ہی ہوتے تھے کسی دعوت میں جائیں،اجلاس عام میں،علمی ادبی تقریب میں،بہاولپور شہر کے اندر یا کسی نواحی قصبے میں،ہم اور ہم سے مراد میں خود،جناب رحیم طلب اور پنوں زادہ صاحب ہیں۔اسی گزرے جولائی کے وسط میں میں بہاولپور دوستوں سے ملنے آیا تو پنہل سئیں نے اپنی تازہ شائع ہونے والی کتاب “پھل تے کنڈے ” مجھے عنایت کی ہے اور اس کتاب میں ان کی شخصیت کے حوالہ سے لکھا گیامیرا ایک مضمون بھی شامل ہے جو چند برس قبل شائع بھی ہو چکا ہے۔مزید انہوں نے اپنی مذکورہ بالا کتاب کے کور پر بیک سائیڈ پر میری ایک عدد رنگین تصویر بھی چھاپ دی ہے،جس کے لئے میں ان کا ممنون احسان ہوں،کتاب میں شامل کئے گئے کئی بڑے مقامی اہل قلم کی تحریریں شامل ہیں،میں نے ہمیشہ پنوں زادہ صاحب کی شاعری بارے بات کرنے سے پرہیز کیا ہے اس لئے کہ میں شاعر نہیں اور ان کی شاعری کے بارے میں بہت پختہ شاعروں،ادیبوں اور نقادوں کی آرا آ چکی ہیں تو میری دخل اندازی یا رائے زنی بے معنی ہے،یہی وجہ ہے کہ میں نے جب بھی ان کے بارے میں بات کی ہے تو ان کی شخصیت کے حوالہ سے ہی کی ہے اور اپنے آپ کو وہیں تک محدود رکھا ہے۔

مجھے ایک بات سے تھوڑا اختلاف رہا ہے اور وہ یہ کہ 2006 میں پنوں زادہ صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ اپنی جو تاریخ پیدائش بتاتے تھے اس حساب سے ان کی عمر تب بھی ایک سو دو سال سے زائد بنتی تھی ،جناب نواز کاوش نے ان کا جو سوالا جوابا انٹرویو کیا اور جو اس کتاب میں بھی شامل کیا گیا ہے اس میں پہلے سوال کے جواب میں ہی انہوں نے اپنی جائے پیدائش چنی گوٹھ اور سن پیدائش 1904 بتایا اور اب موجودہ وقت میں ان کی عمر ان کے بتائے ہوئے سن پیدائش کے مطابق 115 سال بنتی ہے،میں تب بھی یہ ماننے سے انکاری تھا اور اب بھی انکاری ہوں اس لئے کہ 2006 میں ان کے تمام اعصاب کسی نوجوان سے بڑھ کر کام کرتے تھے،ان کی حرکات وسکنات،ان کی نظر،ان کے ہاتھ کی گرفت،بول چال،کھانا پینا،حافظہ،بذلہ سنجی، مستعدی،پیدل چلنے کی رفتار وغیرہ جوانوں والی تھی اور اگر ان کی بات کو سچ تسلیم کرلیا جائے تو پھر یہ ایک اور انوکھی صٖفت ان کے ساتھ شامل سمجھئے۔ ویسے انہوں نے ایک حوالہ جو ایک حسینہ کا دیا ہے اپنی اوائل عمری کا جو طوطوں کے کٹے ہوئے ڈوکے اور کھجوریں چن چن کر انہیں کھلاتی تھیں اس سے ماننا پڑتا ہے کہ ان کی عمر اتنی طویل ہو سکتی ہے کیونکہ طوطے کے کٹے ڈوکے کھانے سے بے دریغ بولنے اور طویل عمری کی خوبیاں از خود پیدا ہو جاتی ہیں۔پنوں زادہ صاحب کے ساتھ ہماری بے تکلفی اور کھلے مذاق والی دوستی رہی ہے ہمارا باہمی پیار زندہ و سلامت ہے اسی لئے کئی بار وہ حدیں پھلانگ جاتے ہیں جو تکلفاتی دوستی میں چھوئی بھی نہیں جا سکتیں، ہم ان کی خوشیوں کے علاوہ ان کی تکلیفوں اور مشکلات کے وقت کے بھی دوست رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس ایک سوپندرہ سالہ نوجوان کے ساتھ اس ستر سالہ بوڑھے کی اب تک نبھ رہی ہے۔

بہت خوشی و اطمینان کا امر یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو اپنی اس چار روزہ زندگی میں جو کام لازمی کرنے چاہئیں،پنوں زادہ صاحب وہ تمام کام کر چکے ہیں جن میں فلسفیوں کے بقول کم از کم ایک شادی،ایک بچہ پیدا کرنا،کم از کم ایک درخت لگانا،ایک گھر بنانا اور ایک کتاب لکھنا شامل ہیں۔پنوں زادہ صاحب اللہ کے فضل سے ایک شادی کر کے اسے کامیابی کے ساتھ عمر کے 115ویں سال تک نبھا رہے ہیں،خود حیات ہیں تو اپنی شریک حیات کو بھی مرنے نہیں دیا،ایک بچے کے بجائے کھلے ہاتھ کے ساتھ کئی بچے پیدا کئے ہیں شجر کاری بھی خوب کی ہے انہوں نے فقط اپنا گھر ہی نہیں بنایا ہے ایک پوری بستی بسا دی ہے،رہی بات کتاب کی تو اب تک ان کی ایک درجن کتابیں چھپ کر سامنے آ چکی ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں،ایسا کام کوئی دیوانہ ہی کر سکتا ہے۔اس دیوانے کی چار پانچ مزید کتابوں کے مسودے بالکل تیار پڑے ہیں ان کے لئے جوں ہی کوئی مالی بندوبست ہو جائے گا وہ بھی ضرور شائع ہوں گی اس لئے کہ پنوں زادہ صاحب نے اپنے گھر والوں اور دیگر احباب کو بتا دیا ہے کہ مذکورہ مسودہ جات میں سے جب تک ان کی آخری کتاب شائع نہیں ہو جاتی تب تک وہ مریں گے ہرگز نہیں۔ یہ عمدہ بات ہے کوئی تارگٹ تو فکس ہونا چاہیئے نا؟ اور جب ان کی وہ پانچویں کتاب چھپ رہی ہو گی تب ممکن ہے ان کے ہم عمر جنگلی جانور، طویل العمر چرند و پرند کب کے موت کے منہ میں جا چکے ہوں گے اوریوں اپنی طویل عمری کے اعتبار سے یہ گنیز بک ورلڈ ریکارڈ میں بھی جا سکتے ہیں،ہم تو نہ ہوں گے ممکن ہے ہمارے پوتے دوہتے یہ منظر دیکھ پائیں۔

دیوانہ بلوچ صاحب اور ان کا تازہ مجموعہ “سوچ غریباں دی “

یہ موقع میرے لئے غنیمت تھا کہ جس روز میں بہاولپور پہنچا اس کے دو روز بعد بہاولپور آرٹس کونسل کے رشیدیہ ہال میں دیوانہ بلوچ صاحب کی کتاب “سوچ غریباں دی ” کی تعارفی تقریب بہت شاندار انداز میں منعقد ہو رہی تھی۔،مزید دلچسپی میرے لئے یہ تھی کہ ،ملتان سے پیارے دوست،جنوبی پنجاب کے دانشور جناب ظہور دھریجہ صاحب تشریف لا رہے تھے۔رات نو بجے کے لگ بھگ ہال میں پہنچے تو ہال بھرا ہوا تھا اور ہمارے دیوانے دوست کے بلاوے پر فقط مقامی ہی نہیں دیگر شہروں ملتان،لودھراں،احمد پور شرقیہ،بہاولنگر اور لاہور سے احباب آئے ہوئے تھے، دیوانوں کے رنگ دحنگ بھی اپنے ہوتے ہیں،ایک شعر اپنے محترم دوست اور معروف شاعر شعیب بن عزیز صاحب سے سناتھا نامعلوم ان کا اپنا شعر ہے یا کسی دوسرے شاعر کا،شعر تھا۔۔۔۔۔دل بھی دیوانہ کہاں ہے یارو۔۔۔۔۔۔دل بھی سو مصلحتیں دیکھتا ہے ۔۔۔۔لیکن ہمارا دیوانہ بلوچ مصلحتیں دیکھنے والا دیوانہ نہیں ہے ورنہ وہ اپنے مجموعہ کلام کا نام کوئی شاعرانہ انداز کا رکھتا،اگر بازار میں کسی جنرل سٹور کا نام غریباں دی ہٹی رکھ دیا جائے تو وہاں معاشرے کے غریب لوگ جوق در جوق آئیں گے لیکن اس کے برعکس اگر شعری مجموعے کا نام سوچ غریباں دی ہو گا تو اس مجموعہ کو خریدنے یا خرید کر پڑھنے کی خواہش کوئی کم ہی کرے گا لیکن شاعر کی جرات کو داد دینی چاہئے کہ انہوں نے اس امر کی پرواہ ہی نہیں کی اور پوری جرات کے ساتھ اور اپنی مکمل دیوانگی میں یہی نام اپنے مجموعے کا رکھا ہے جو اپنے دل کو اچھا لگا بھلے اس سے مالی نقصان ہوتا رہے۔

دوسری بات یہ کہ جب تک کتاب نہ پڑھیں یا اس میں دیا گیا بہت سا کلام سن نہ لیں اس نام کی تفہیم ہی نہیں ہوتی۔ در حقیقت اس مجموعے میں آپ اور میرے جیسے عام لوگوں کے وہ جذبات دیئے گئے ہیں جو وہ ظالم سماج،جھوٹے اور لالچی حکمرانوں اور خاص کر ہمارے ہی ووٹ لے کر ایوانوں میں جا بیٹھنے والے سیاست دانوں کے دوغلے، گھٹیا ،بے اصول رویوں اور برتاؤکے بارے میں غریب عوام کے جذبات کی منظوم ترجمانی ہے۔عام شاعر یہ احتیاط کرتے ہیں کہ اپنی بات کو لوگوں کی بات اور جذبات کہہ کر پیش کرتے اور خود بچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہاں اس دیوانے کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے عام لوگوں کے جذبات و احساسات اور گلوں شکووں کو اپنا بنا کر پیش کرنے کی جرات دکھائی ہے ،ان کی اس جرات پر انہیں سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔

مذکورہ تقریب میں لاہور سے وہاں شرکت کرنے والامہمان ہونے کے ناطے مجھے بھی سٹیج پر چند کلمات کہنے کا موقع دیا گیا جبکہ میں ڈہنی طور پر اس کے لئے تیار نہ تھا کیونکہ مقررین میں میرا نام شامل نہ تھا اور نہ ہی میں نے یہ مجموعہ پڑھ یا دیکھ رکھا تھا میں تو اچانک وہاں پہنچا تھا۔ وقت کی شدید قلت کی بنا پرمیں نے وہاں بھی دو ایک جملے ہی بولے تھے اور یہ کہا تھا کہ معاشرے کا ہر طبقہ مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے دھندے میں لگا ہے علمائے کرام ہوں،جج صاحبان ہوں،ہمارے وکلاء ہوں کہ اساتذہ کرام، سیاستدان ہوں یا حکمران، سب کے سب مصلحت بین ہیں اور یوں سارا معاشرہ مصلحت کوشوں سے بھر گیاہے ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا اور اس بات پر فخر کرناچاہئے کہ اس نے ہمیں ایک دیوانہ بھی دیا ہے جو مصلحتوں کو نہیں دیکھتا۔ میں شاعری کی پرکھ یا تبصرہ کے اہل نہیں تاہم قارئین کرام کے ذوق اور تسکین کے لئے چند اشعار دیوانہ صاحب کے درج کرنے لگا ہوں،اچھے شعر اور اچھے سر کی وکالت کی ضرورت نہیں رہتی اچھی خوشبوکی طرح۔

نظم بئی مان ۔۔۔ تیڈے نعرے لا تیکوں ووٹ ڈتے جند اساں تئیں تو وار ڈتی
ساڈے فنڈ تے تھی بئی مان گیؤں ساکوں کوں الٹاکر خوار ڈتی
وڈے ظلم کیتے نی ڈیکھ گھنی وڈیاں مرضاں نال علیل تھیسیں
جیویں ساکوں آن ذلیل کیتی،ایویں ہک ڈینہہ آپ ذلیل تھیسیں

نظم فٹ پاتھ : توں ست کھانے کھا سمدا ہیں،اسان بکھیں نبھیندے پیؤں
کجھ سٹ تے پتھر دیگڑی وچ اساں بال معصوم رہیندے پیؤں
کھا فنڈغربا ء دے خش پھردیں اساں رت دے نیر وہیندے پیؤں
کڈی آ غربا ء دا حال پچھیں،جو کیجھے بھوگ بھگیندے پیؤں
ساڈے حال تے غور دیوانہ کر، نہ تیڈے توں زر منگدے ہئیں
نسے ہن فٹ پاتھ تے رہ سگدے بس پنج مرلے گھر منگدے ہئیں

آخر میں ان کے دو اشعار جن میں پورے پاکستان اور بہت سے ہندوستانیوں اور کئی دیگر ممالک کے انصاف پسند لوگوں کے جذبات کی خوبصورت ترجمانی ہے:

اسلام دا علم بلند راہوے ساڈے ملک دا چمن آباد ہووے
دیوانہ محنت کر سگدوں نہ منگدے ہئیں امداد ہووے
ساڈی زندگی سکھ دے نال نبھے، بھاویں کول نہ ڈھیر جائیداد ہووے
ہر دل دی دھڑکن آہدی ہے کشمیر شالا آزاد ہووے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں