69

محفلِ مُسالمہ دھنوٹ … شعور میڈیا نیٹ ورک

از قلم: شاہد مختار جامی
دھنوٹ،تحصیل کہروڑ پکا ضلع لودھراں

ادب اپنے زمانہ کی پوری تصویر اور تاریخ کا صحیح عکاس ہوتاہے ہم کسی بھی زبان کے ایک دورکے ادب کو پڑھ کر اُس عہدکے لوگوں کے اعتقادات، عملی سطح اور ان کے عملی فنون کا پورا پورا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ادب کی تر ویج وفروغ میں ادیب و نقیب، شاعرو نقاد، افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈرامہ نگار نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا۔ادب کی اشاعت و فروغ اور ادبی برتری حاصل کرنے کے لیے ادبی سمینار و کانفرنس، تھیٹر و ڈرامہ اور ادبی،شعری محافل مؤثر ذرائع ہیں۔یونانی،عربی اور برصغیر کے ادباء نے انہی ذرائع کو بروئے کار لا کر اپنے اپنے ادب کی نگہبانی و فروغ کو یقینی بنانے کیلئے کاو شیں کیں۔

ایسے ہی ادبی ورثہ دھنوٹ کے نوجوانوں نے بکھرے ہوئے قیمتی موتی اکٹھے کر کے ایک لڑی میں پرو کر اسے ادبی ورثہ دھنوٹ کا نام دیا جو کہ دھنوٹ کے نوجوانوں میں ادبی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ادبی ورثہ دھنوٹ کے زیرِ انتظام ہر سال کی طرح اِس سال بھی محرم الحرام کی مناسبت سے آر بی ہوٹل دھنوٹ میں محفل ِ مُسالمہ کا انعقاد کیا گیا۔لودھراں کے معروف شاعر جناب عبید بخاری محفل ِمسالمہ کی صدر جبکہ میلسی سے تشریف لائے ہوئے خوبصورت لہجے کے شاعر جناب یاسر عباس فراز مہمان ِ خصوصی تھے۔

محفل ِ مسالمہ کے مہمانان ِ اعزاز سماجی و قلمی شخصیت اللہ ڈتہ انجم، علمی و ادبی شخصیت جناب جاوید اقبال ثاقب اورناچیز”شاھد مختار جامی“تھے جبکہ محفل کے سرپرست پیر سید شفقت رضا شاہ تھے۔نظامت کے فرائض چیئرمین ادبی ورثہ دھنوٹ جناب رانا سرفراز طاہر اور جنرل سیکرٹری جناب رانا ساجد شام نے انتہائی خوبصورتی سے سر انجام دئیے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔بعد از حمدگلہائے عقیدت بحضورسرورِ کونین حضرت محمد ؑﷺ پیش کئے گئے۔

معزز مہمان شعراء کرام میں لودھراں سے تشریف لانے والے جناب عبید بخاری، صابر علی صابراور میلسی کے معروف شعراء کرام جناب یاسر عباس فراز، توقیر عباس توقیر، جناب مُحسن عباس تھے۔جبکہ میزبان شعراء کرام میں رانا سرفراز طاہر چئیرمین ادبی ورثہ دھنوٹ،کنور واجد علی صدر ادبی ورثہ، رانا ساجد شام جنرل سیکرٹری ادبی ورثہ، شوکت عباس شاہ کوآپریٹو سیکرٹری،محمد صدیق شاہ اورناچیزراقم”شاھد مختار جامی“ نے محفلِ مسالمہ میں شرکت کی اور اپنا کلام پیش کیا۔

جناب عبید بخاری نے اپنے صدارتی خطبہ میں شعراء کرام کے کلام کو سراہا اور ادبی ورثہ دھنوٹ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا.شعری نشست کے بعد مہمانانِ اعزازمحترم جاوید اقبال ثاقب اور اللہ ڈتہ انجم نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی محافل وقت کی اہم ضرورت ہیں اور نوجوانوں کو ایسی محافل میں بھر پور شرکت کرنی چاہیئے۔محفلِ مسالمہ کی با برکت محفل بہت باذوق رہی خصوصاً ادبی ورثہ دھنوٹ کے شعراء کرام بہت باکمال کلام تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی محافل کا انعقاد کر کے جہاں نوجوان شعراء کواپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں وہاں اہلِ دھنوٹ پاکستان بھر کے شعراء کرام کے کلام سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ادبی ورثہ دھنوٹ کے لیے ڈھیروں دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔مہمانانِ خصوصی نواب رئیس اور راؤ محمد سلیم نے کہا کہ ماشاء اللہ بہت ہی خوبصورت محفل رہی جس میں شعراء کرام نے نہایت خوبصورت انداز میں شہدائے کربلا سے عقیدت کا اظہار کیا۔محفل ِ مسالمہ میں علمی، ادبی، سیاسی، سماجی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔محفل کے بعد تمام شرکاء میں لنگر ِ حُسینی تقسیم کیا گیا اس متبرک و بابرکت محفل کا اختتام دوپہر دو بجے ہوا۔شعراء کرام کا نمونہ کلام پیشِ خدمت ہے۔

غموں سے ہیں مرے اچھے مراسم
سو عیدوں سے میری بنتی نہیں ہے
حسین ابن علی کی نسل سے ہوں
یزیدوں سے میری بنتی نہیں ہے
(عبید بخاری)

خوشی سے جھومتا پھرتا ہے فتوحات کا دل
حُسین جیت کے بیٹھا ہے کائنات کا دل
علی کا نام ہے اے شام آسرا دل کا
علی کے نام سے ڈرتا ہے مشکلات کا دل
(رانا ساجد شام)

جہان ِ غم میں بہت شاد کام ہوں میں تو
حُسین ابن ِ علی کا غلام ہوں میں تو
انہیں کا ذکر ہے بس مجھ کو جاری رکھے ہوئے
یہ سانس ختم ہے ورنہ تمام ہوں میں تو
(شوکت عباس شاہ)

یہ بات طے ہے مسلمان دو طرح کے ہیں
یزید ایک طرف ہے حُسین ایک طرف
(یاسر عباس فراز)

یقین جانیئے جنت میں جا نہیں رکھتے
جو لوگ نسبت ِ آل عبا نہیں رکھتے
ھم اپنی زیست میں کرب و بلا کے صدقہ میں
کوئی بھی کرب کو ئی بھی بلا نہیں رکھتے
(توقیر عباس توقیر)

حق پہ کٹوانا گوارا ہے مجھے سر طاہر
پر یزیدوں کی میں بیعت نہیں کرنے والا
(رانا سرفراز طاہر)

فرات تُم اپنی طغیانیوں پہ ڈوب مرو
تُم نے سادات کو مارا ہے پیاسا کر کے
(صابر علی صابر)

بقا ، فنا کا مسئلہ تو کربلا میں حل ہوا
حسین تھے حسین ہیں یزید تھا جو مرگیا
(کنور واجد علی)

آپ ہی جلوہ گر ، مسند ِ صبر پر
آپ نے حق کی خاطر دیا اپنا سر
آپ ہی سے ہیں منسوب صبر و رضا
اے حسین ابن ِ حیدر شہ ِ کربلا
(شاہد مختار جامی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں