204

فریڈرک نومن فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دو روزہ ورکشاپ کی روداد

ازقلم: عبدالشکور حیدری ایڈووکیٹ
پی ایچ ڈی اسکالر (میڈیا اسٹڈیز)
ٹرینرز(PCSW)پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومین

ٹریننگ ورکشاپس حصول علم کا اہم ترین ذریعہ ہوتی ہیں سکول کالج یونیورسٹیوں میں جو علم سالہا سال میں حاصل ہوتا ہے وہ ٹریننگ ورکشاپس میں دنوں بلکہ گھنٹوں میں سیکھا جاتا ہے۔لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقدہ دورزہ ایک ایسی ہی ورکشاپ بعنوان”Delivering Democracy: Strengthing public servises for Good governance” میں شمولیت کا موقع ملا جو جرمن فلاحی ادارے فریڈرک نومن فاؤنڈیشن پاکستان اسلام آباد (FNF) اور فریڈم گیٹ پاکستان(FGP) کے زیر اہتمام تھی۔3تا4اگست 2019؁ء کو انعقاد پذیر ہونے والی اس ورکشاپ میں کنٹری ہیڈ فریڈرک نومن فاؤنڈیشن (FNF) Birgit Lamm Miss نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ ایڈ منسٹر یشن ہیڈ FNFاسلام آباد جناب محمد انور نے اس ورکشاپ کے انتظامات کو دیکھا ورکشاپ کا انتہائی مربوط انتظام ان کی محنت کا مظہر تھا۔

معروف رائٹر، سکالر اور ایکٹیوسٹ، انٹر نیشنل ٹرینر اور سنٹر فارپیس اینڈ سول سو سائٹی (CPCS)کے ایگزیکٹوڈائریکٹرجامی چانڈیو اس ورکشاپ کے ماڈیریٹر تھے۔جبکہ ساتھی ماڈیریٹر عاصمہ خان تھیں۔ جوایک ماہر تعلیم ہیں اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگو ئیجز (NUML) لاہور میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ورکشاپ کے شرکاء کا جو گروپ تشکیل دیاگیاتھا۔اس میں وکلاء،ٹرینرز،سول سوسائٹی کے نمائندگان، یونیورسٹی کے ٹیچرز اور سٹوڈنٹس، سیاستدان،پارلیمنٹ کے افسران اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 34خواتین و حضرات شامل تھے۔ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز کنٹری ہیڈ (FNF) اسلام آبادبر گٹ لم کی بات سے ہوا.

انہوں نے ورکشاپ کے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور (FNF) کا تعارف کروایا اور اس کے بعد ایڈ منسٹریشن ہیڈ FNF اسلام آباد محمد انور نے فریڈم گیٹ پاکستان FGP کا تعارف اور منعقدہ دو روزہ ورکشا پ کے اغراض و مقا صد بیا ن کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ کامقصد جمہوریت اورجمہوری رویوں کا فر وغ ہے ہم ایسے جمہوری معاشرے کے قیام کے لیئے کو شاں ہیں جس میں فرد کو رائے کی آزادی حاصل ہو۔

بعد ازاں میڈیم عاصمہ کرن پرویز نے شرکاء کا تعارف کرایا۔ جو اپنے طور پر ایک منفرد سٹائل تھا میڈیم عاصمہ نے اس ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں سے ان کی ورکشاپ سے وابستہ تو قعات کے بارے میں استفسار کیا تمام شرکاء نے اپنی اپنی تو قعات لکھ کر دیں جن کو ایک تختہ پر آویزاں کیاگیا۔

اس کے بعد جامی چانڈیو آئے انہوں نے اس ورکشاپ کے قوائد و ضوابط اور اخلاقیات طے کیں تاکہ ان پر عمل پیرا ہوکر ورکشاپ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاسکے۔جامی چانڈیو صاحب ایک باکمال شخصیت ہیں انہوں نے اپنے وسیع مطالعہ،تحقیق اور تجربے سے ورکشاپ کو چار چاند لگادیے۔انہوں نے جمہوریت اور اس کے تمام پہلوؤں پر ایک مربوط اور مؤثر انداز میں روشنی ڈالی جمہوریت کی تاریخ اور پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ جمہوریت کا حال اور مستقبل پر روشنی ڈالی اور تاریخ عالم سے اس کی بہترین مثالیں دیں انہوں نے کہا کہ جمہوریت فرد کو جہاں رائے کی آزادی دیتی ہے وہ اس پر ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے جامی چانڈیوصاحب کے بھرپور لیکچر کے بعد اوپن ڈسکشن اور سوالات و جوابات کا سیشن شروع ہوا۔جامی چانڈیو صاحب نے شرکاء کے تمام سوالات کے انتہائی مدلل انداز میں جوابات دیے اور شرکاء کو مطمئن کیا۔

لنچ بریک کے بعد ورکشاپ کا ایک بہترین عمل گروپ ورک اور پریزینٹیشن شروع ہوا۔گروپ ورک اور پریزنٹیشن سے شرکاء کو سوچنے اور ایڈیاز شیرنگ کا موقع ملتا ہے۔جو سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر بناتا ہے۔یقیناً شرکاء نے جمہوریت کو در پیشی چیلنجز پر بھرپور دلائل اکھٹے کیے اور اپنے اپنے گروپ ورک کو پیش کیا اور خوب داد وصول کی۔گروپ ورک کے تمام عمل کو عاصمہ پرویز صاحبہ نے دیکھا۔

گروپ ورک کے بعد جامی چانڈیو صاحب نے گڈ گورننس اور جمہوریت کے موضوع پر خوبصورت انداز میں لیکچر دیا اس دوران وہ شرکاء کی شرکت کو بھی یقینی بناتے رہے۔جامی صاحب کا انداز گفتگو اتنا مؤثر اور مسحور کن ہوتا ہے کہ شرکاء کو وقت کے گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔تمام شرکاء نے جامی چانڈیو صاحب کے سیشن کو انتہائی تن دہی کے ساتھ سنا اور اپنے سوالات کیے اور جامی چانڈیوصاحب نے ان سوالات کے علمی جوابات دئیے اس طرح سے ورکشاپ کے پہلے دن کا اختتام ہوا۔

رات کو Delivering Democracy: Strengthing public servises for Good governance کے ہی عنوان سے ایک ڈائیلاگ کا اہتمام کیا گیا تھا اس سیشن میں ورکشاپ کے تمام شرکاء کے علاوہ FNF کے ایلومینائی،سول سوسائٹی کے اراکین،صحافیان،سیاستدانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔ اس سیشن کی صدارت محترمہ برگٹ لم کنٹری ہیڈ FNFپاکستان نے کی۔جبکہ سٹیج پر موجود مقررین میں جناب فقیر محمد کھوکھر جسٹس ریٹائر سپریم کورٹ آف پاکستان،سابق صوبائی وزیر میاں مسعود احمد،جناب جامی چانڈیواور محمد انور کے علاوہ دیگر بھی شامل تھے۔

تمام مقررین نے جمہوریت اور جمہوری کلچر اور جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے گفتگو کی۔جناب جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بقاء کے لیے عدلیہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔جبکہ سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں مسعود احمد نے جمہوریت کے فروغ میں سیاستدانوں کے کردار پر بات کی۔اور کہا کہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا جمہوریت کی بقاء میں اہم کردار ہے۔انہوں نے جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے FNF کے کردار کی تعریف کی۔سیشن کے آخر میں محترمہ برگٹ لم نے پاکستان میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری معاشرہ کے ذریعے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل بے حد ضروری ہے جس میں تمام افراد کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔

ورکشاپ کے دوسرے روز کا آغاز گذشتہ روز کے کلکس سے ہوا۔میڈم عاصمہ کرن پرویز صاحبہ نے فرداً فرداً تمام شرکاء سے گذشتہ دن کی ورکشاپ کے اہم پہلو معلوم کیے۔

اس کے بعد جناب جامی چانڈیوصاحب نے پبلک سروس اور گڈ گورننس کے متعلق شرکاء کے ویوز سمیت ڈسکشن کی۔اس کے علاوہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کی اہمیت اور خدوخال کے متعلق گفتگو کی۔دوران گفتگو شرکاء کی شرکت اور سوال و جواب بھی جاری رہے۔اس کے بعد محترمہ عاصمہ کرن پرویز نے سٹیٹ آف پبلک سروسز ان پاکستان سے متعلق گروپ ورک کرایا اور تمام گروپس نے اپنی اپنی پریزنٹیشنز بھی دیں۔گروپ ورک اور پریزنٹیشن حصول علم کا ایک منفرد انداز ہے۔

وقفہ کے بعد جناب جامی چانڈیو صاحب نے پاکستان میں آئین کی تاریخ،آئین کے خدوخال اور آئین میں ہونے والی ترامیم سے متعلق بات کی۔جامی چانڈیو صاحب کا بات ذہن نشین کرانے کا انداز ہی کچھ نرالا ہے۔انہوں نے پاکستان میں بننے والے آئین اور ان کی اہمیت و افادیت اور ان میں خاص طور پر 1973؁ء کے آئین میں مختلف ترامیم کا ذکر کیا۔بالخصوص 18ویں ترمیم جو لبرٹی اور صوبوں کے اختیارات کے حوالے سے کافی اہم ہے۔اس پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

ازاں بعد جناب جامی چانڈیواور محترمہ عاصمہ کرن پرویز نے اختتامی ریمارکس دیے۔دونوں نے شرکاء کی ورکشاپ میں دلچسپی اور لرننگ کی تعریف کی۔

ورکشاپ کے آخر میں محترمہ برگٹ لم کنٹری ہیڈ (FNF) نے باہمراہ محمد انور،جامی چانڈیو اور محترمہ عاصمہ کرن پرویز ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔سب سے آخر میں محترمہ برگٹ لم نے اپنے الوداعی کلمات ادا کیے انہوں نے تمام انتظامیہ،ماڈیریٹرز اور شرکاء کی کامیاب ورکشاپ کی تعریف کی۔اور ا س طرح سے فریڈرک نومن فاؤنڈیشن پاکستان (FNF) اور فریڈم گیٹ پاکستان (FGP) کے زیر اہتمام ہونے والی دو روزہ ورکشاپ اپنے اختتام کو پہنچی۔تمام شرکاء دونوں اداروں کے بے حد مشکور رہے اورجمہوریت کے فروغ میں (FNF) کے کردار کی بے حد تعریف کی۔اس امید کے ساتھ واپسی ہوئی کہ تمام شرکاء اپنی ذات اپنے اداروں اور معاشرہ میں جمہوری اقدار اور جمہوری کلچر کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “فریڈرک نومن فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دو روزہ ورکشاپ کی روداد

اپنا تبصرہ بھیجیں