117

تعلیم میں کھیل کی اہمیت… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

جس طرح نصابی تعلیم ذہنی صلاحیتیں اور بہتر کردارپروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اسی طرح جسمانی تعلیم بھی نوجوانوں میں نظم ونسق، احساسِ ذمہ داری اور قائدانہ صلاحیتوں کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔پاکستان میں اگرچہ جسمانی تعلیم کی شرح ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کے اسکولوں میں فزیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے اسکولوں میں ہی مختلف کھیلوں کا انعقاد کروایا جاتا ہے تاکہ طلبہ کی کردار سازی کے ساتھ ساتھ ذہنی و جسمانی نشوونما ممکن ہوسکے۔ ان ممالک میں کھیل کوبچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذہنی اور عملی قابلیت میں اضافے کے لئے ایک تعلیمی آلہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ کوئی بھی طالب علم چاہے وہ کسی بھی جماعت میں ہو جب تک جسمانی طور پر فٹ نہیں ہوگا اس وقت تک وہ بہتر تعلیم حاصل نہیں کرسکے گااور جسم کو فٹ رکھنے کے لیے ورزش بے حد ضروری ہے۔

فٹنس کے حوالے سے یہ قول مشہور ہے کہ”جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوں تو ان کے ہسپتال ویران ہوں گے اور جس ملک کے کھیل کے میدان ویران ہوں تو ان کے ہسپتال آباد ہوں گے،،۔ اسکولوں میں بچوں کو صرف کتاب اور نصاب پر توجہ مرکوز رکھنے کا کہاجائے تو بہت جلد طلباء بوریت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کی توجہ پڑھائی پر مرکوزرکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کھیل کھیل میں پڑھایا اور سکھایا جائے۔ جب تک طلبہ پڑھائی کو انجوائے نہیں کریں گے سیکھ نہیں پائیں گے۔باڈی لینگویج کے ذریعے نظموں کی پرفارمنس کو بچے پسند کرتے اوراس پر بھرپور توجہ دیتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی نظمیں اورکہانیاں سنانے کے مزے لینا جیسی سرگرمیوں سے بچے کی توجہ بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

کھیل ہی کھیل میں سیکھنے کے عمل میں بچے نہ صرف اپنی سننے کی مہارت بڑھاتے ہیں بلکہ ان کی سوچ کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔کئی تجربہ کار اساتذہ سے بات کرنے پر علم ہوا کہ اس قسم کی سرگرمی کے بعد بچے نہ صرف تازہ دم ہوجاتے ہیں بلکہ آپ کی بات بہتر توجہ سے سننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔حالیہ تحقیق کے مطابق جسمانی ورزش سے بڑوں کی طرح، بچوں میں بھی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ کھیل کود سے بچوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے بہتر ہونے سے وہ اسکول میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ورزش سے انسان کے دل اوردماغ کی شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے اور یہ عمل انسان کی سیکھنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کی ذہنی صلاحیتیں بہترکرنے کا سبب بنتا ہے۔

بچے کھیل ہی کھیل میں ایک بڑا ذخیرہ الفاظ جمع کر لیتے ہیں۔ ان میں سے ایک کھیل اداکاری کا ہے۔ بچے ویسے بھی بلی بن کر دکھاتے ہیں، دادا ابو یا نانی اماں بن کر چلتے ہیں۔بعض بچے مختلف آوازیں نکال کر لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ان پہلو ؤں پر توجہ دی جائے تو اساتذہ اور والدین ایسی بہت سی سرگرمیاں ڈیزائن کرسکتے ہیں جن سے بچوں میں توجہ،باہمی ربط،تخلیقی سوچ،خود اعتمادی، دوسروں تک اپنی بات پہنچانے کی صلاحیت وغیرہ پروان چڑھتی ہیں اور یہ مہارتیں زندگی بھر ان کے کام آتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں چھوٹے بچوں کوکلاس روم میں مختلف کھیل زیادہ سے زیادہ کھیلائے جاتے ہیں۔

کھیل نوجوانوں میں نظم ونسق، احساس ذمہ داری اور قائدانہ صلاحیتوں کے لئے راہ ہموار کرتا ہے۔کھیل بچوں کی جسمانی نشوونما کے علاوہ کردار سازی، نفسیاتی تربیت اور فیصلہ سازی میں بھی معاون و مددگار ہوتے ہیں۔کھیل ہی صحت مند زندگی کی علامت،صحت و عافیت کے ضامن،نشوونما میں معاون اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ دوسری طرف شرمیلے بچوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے والدین یا ٹیچرز کے ساتھ محفوظ اور با اعتماد ماحول میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔ٹریڈ مل پر زیادہ فاصلہ طے کرنے پرگنیز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرانے والے ایتھلیٹ، کرسٹوفر برگ لینڈ جسمانی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی کتاب ’دی ایتھلیٹس وے‘ میں لکھتے ہیں ”بچوں کی پڑھائی پہ توجہ، یادداشت، بولنے کی صلاحیت، طرز عمل، اسکول میں حاضری، سبق مکمل کرنے، گھر پر کی جانے والی پڑھائی اور امتحان میں حاصل کردہ نمبروں پرورزش کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔“

نوجوان اس ملک کا سرمایہ ہیں انہیں مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جانا ضروری ہے۔کھیل جسمانی تعلیم اور کھیلوں کو بڑی کلاسوں میں خاص اہمیت حاصل ہے کیوں کہ بڑی کلاسز میں بچوں کو صحت مند رکھنا اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ بڑی کلاسز کے کھیلوں میں جوڈو، فٹ بال، ہاکی، کرکٹ، باسکٹ بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور اتھلیٹکس وغیرہ ہو سکتی ہیں جن کا باقاعدہ انعقاد مثبت نتائج کا ضامن ہے۔ کھیلوں سے بچوں کو حقیقی مسرت نصیب ہوتی ہے، ان کوغم سے نجات ملتی ہے، ان کی الجھنیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں، ان کے چہرے شگفتہ رہتے ہیں، ان کے جذبات کی تسکین ہوتی ہے اور بحیثیت مجموعی ان کی شخصیت کو ہم آہنگی کے ساتھ پروان چڑھانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ اگر انہیں کھیلوں میں مشغول رکھ کر اور مقابلے کی فضا پیدا کر کے ان کی طاقت کو مثبت رخ نہ دیا جائے تو وہ بے راہ روی کا شکار ہو کر اپنی صلاحیتوں کو برباد کر سکتے ہیں۔

جسمانی ورزش اور کھیل کو د سے احتراز کی وجہ سے کئی جسمانی اور ذہنی عوارض جنم لینے لگتے ہیں۔جسمانی تعلیم (کھیل کود) کے بغیر تعلیمی نصاب کو ادھورا کہاجاتا۔ماہرین تعلیم،نفسیات ومعالجین کے مطابق کھیل بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط اور طاقتور بناتے اور بچوں میں مختلف الجھنوں اور پریشانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں اور کھلاڑی مشکل سے مشکل حالات میں بھی ذہنی طو ر پر مفلوج نہیں ہو نے پاتے۔تجربہ کار اساتذہ اور ماہرین تعلیم کھیل کو صرف کھیل کے نظریے سے نہیں دیکھتے ہیں بلکہ کھیل کو ایک مفید مصروفیت اور اہم سرگرمی کے درجے میں رکھتے ہیں۔کھیل کے دوران بچوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کے ذریعہ بچوں میں اغلاط کی اصلاح کا جذبہ اور سیکھنے کا عمل فروغ پذیر رہتا ہے۔دوران کھیل حاصل ہونے والی کامیابیاں بچوں میں خوداعتمادی اور قلبی مسرت کے فروغ کا باعث ہوتی ہیں۔کھیل میں ناکامی بچوں میں صبر و تحمل اور قوت برداشت کو پروان چڑھاتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اساتذہ اور والدین بچوں کو کتاب پڑھنے، کمپیوٹر استعمال کرنے اور ریسرچ کرنے کی عادت ڈالیں۔ اسی پس منظر میں ڈرامے کو لٹریسی سکلز سکھانے میں اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔اس سے بچوں میں کتابوں اور زبان و بیان سے محبت نکھر کر پروان چڑھتی ہے۔ ایک تحقیق کے دوران طلباء کو تھیٹر میں ڈرامہ سیریز دکھائی گئی جس کے بعد ان کے امتحان میں زیادہ اچھی کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔ آج کی کارکردگی دیکھنے والی دنیا میں اگر بچہ اپنے خیالات کی پرواز کا مزا لینا جانتا ہے تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوگی جس کی مدد سے وہ روزمرہ کے ان گنت مسائل اور احساسات سے نبرد آزما ہو سکتا ہے۔کھیلوں کی نگرانی کے فرائض انجام دینے والے اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچوں میں اس احساس کو جا گزیں کریں کہ وہ جن کے ساتھ کھیل میں حصہ لے رہے ہیں وہ ان کے ساتھی اور دوست ہیں تاکہ ان میں حسد،عداوت،نفرت اور جلن کے جذبات نہ سراٹھا سکیں اور صحت مند مقابلہ کا جذبہ ان میں پروان چڑھے۔

جدید آلات (Modern Gadgets)کی وجہ سے بچوں کی جسمانی صحت کو بہت زیادہ خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ متعدد بیماریوں کے علاوہ موٹاپہ، سستی، کاہلی ودیگر مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔کمپیو ٹر،موبائل اور آئپیڈ سے ان کی دلچسپی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔بچے ان آلات کو اپنے سامنے سے ہٹانا بھی گوارہ نہیں کر تے جس کی وجہ سے وہ کسی دوسری جسمانی سرگرمی (کھیل کود) میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اور خود کو چاردیورای تک محدود کر تے جا رہے ہیں۔ یہ رجحان بچوں کی صحت کے لئے بہت ہی خطرناک،مضر، اور نقصان دہ ثابت ہوگا۔

ہماری نسل نو مختلف جسمانی عوارض و معذوریوں کا شکار ہوجائے گی۔یہ ملک و قوم کی بہترین صلاحیتوں اور سرمائے کا اتلاف ہوگا۔ہماری نسل نو جنھیں ہم آج بچوں سے تعبیر کررہے ہیں۔ یہی مستقبل میں معلم، مفکر، سائنسدان، سیاستدان، قانودان، ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر فرائض سر انجام دیں گے۔قوم کو ہمیشہ اچھے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو حق پرست،حق کے دائی،ذمہ دار قابل بھروسہ و لائق اعتبار،جذبہ انسانی رحمدلی و مروت اور خدمت خلق سے آراستہ و پیراستہ ہوں اورتعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل انسان میں یہ اوصاف پیداکرنے میں نمایا ں کردار انجام دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں