91

ترجیہات درست نہیں۔۔۔۔ شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم:انعام الحق راشد
بہاولپور

وزیراعظم عمران خاں نے مشیراطلاعات فردوس عاشق اعوان کو فون کرکے ان کی طبعیت کا پوچھا توکسی کو اس بات پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے کہ وزیراعظم نے ملک بھرکے دیگر مریضوں کوفون کرکے طبعیت کا حال کیوں نہ پوچھاکہ ان کا رویہ تمام پاکستانیوں کے ساتھ مساوی ہونا چاہئے۔ اسی طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بھی اپنی سابق سیاسی خدمات کے حوالہ سے منفرد رویہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔بہر کیف مشیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے طبیعت سنبھلتے ہی عمران خاں کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہوئے پہلا بیان دے دیا ہے کہ سابق حکمرانوں کو پائی پائی کا حساب دینا ہوگا۔

حقیقت میں ملک متعدد مسائل کا شکارہے۔ یہ سابق حکمرانوں کی نااہلی یا موجودہ حکومت کی، ملک سیاسی افراتفری کا شکارنظرآتاہے۔ملکی حالات انتظامی صلاحیتوں کے متقاضی،فیصل آباد میں ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹ بند ہونے سے ہزاروں افراد بے روزگار اورحکومتی پالیسی پر ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے،ملک کے مختلف شہروں میں ہڑتالوں کی کالیں،تاجران پریشان،صنعتکار بے یقینی کا شکار،امپورٹراورایکسپورٹرپزلر(Puzzler)،مہنگائی کا اژدہا پھن پھیلائے غربت کے زہرکو عوام پر چھڑک رہا ہے۔پریشانی اپنی حدود کو تیزی سے بڑھا رہی ہے۔نہ چاہتے ہوئے بھی مایوسی کا گناہ جڑ پکڑنے کی کوشش کررہاہے۔

پاکستان کے متعدد دانشور،بڑے بڑے نامور اینکر،بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے بظاہر ہیرے،حکومت اور اپوزیشن مشکلات کے حل کے منصوبوں پر گفت و شنید کرنے کی بجائے شخصیات پر گفتگو کرنے میں مصروف ہیں۔وزیراعظم عمران خاں اور قومی خزانہ سے کروڑوں کی مراعات لینے والی ٹیم سابق حکمرانوں کو چور چور کہنے میں مصروف،آج کی اپوزیشن حکمرانوں کو نااہل اور سلیکٹڈ کہنے اورثابت کرنے میں مصروف،رہبروں و رہزنوں کے لاکھوں نہیں کروڑوں پیروکار اپنے اپنے لیڈروں کو مسیحا اور مخالفین کو چور ثابت کرنے کے لئے جھوٹے سچے دلائل کے علاوہ گالم گلوچ میں مصروف ہیں۔

وزیر اعظم عمران خاں کو سوچنا ہوگا، آخر کوئی تو وجہ ہے کہ عمران خاں کی قابلیت،انتظامی صلاحیت اور تبدیلی کی وکالت کرنے والے شاہد لطیف چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ گذشتہ حکومتوں کی کارکردگی کا رونا روئیں کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی کا۔عمران خاں نے جو سبز باغ دکھائے تھے وہ نظرنہیں آرہے۔عوام کا آج بھی مسئلہ مہنگائی،بیروزگاری اور کرپشن ہے۔انہوں نے عمران خاں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ چھوڑوں گا نہیں،این آر اونہیں دوں گاکی گردان چھوڑیں کارکردگی دکھائیں۔سینئرتجزیہ کارمظہرعباس نے یاد دلا رہے ہیں کہ آپ تو کہتے تھے کہ ہماری ساری پالیسیاں تیارہیں لیکن اس کے برعکس حکومت ہرمعاملہ میں کنفیوژن کا شکارہے۔

تجزیہ کار سلیم بخاری کہہ اٹھے کہ عمران خاں نے عوام سے جھوٹے وعدے کئے اور عوام کی امیدوں کو اس مقام پر لے گئے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے سخت ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔رؤف کلاسرا نے کہا کہ اگر سابقہ ادوار میں حالات ٹھیک ہوتے تو آپ کو حکومت کس نے دینا تھی۔انہوں نے عمران خاں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اگر مسائل کا علم نہیں تھا یا نہیں ہے تو آپ قصوروارہیں۔امتیاز عالم کہنے لگے ہیں کہ ملک کی اقتصادی حالت جتنی بری آج ہے پچھلے تیس سالوں میں کبھی نہ تھی۔

حیرانگی نہیں ارشاد بھٹی جیسا تجزیہ کاریہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ اس ملک میں اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔اور عمران خاں کے ساتھ 22 سال جو گذارے،اس میں وعدے،دعوے،توقعات دھوکہ ثابت ہوئیں۔وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فریب کیا گیا، جھوٹ بولا گیا،مجھ سے منزل چھین لی گئی۔مہنگائی نے ادویات خریدنے کی سکت چھین لی۔علی احمد کرد نے کہنے لگے ہیں کہ مہنگائی اتنی ہوگئی کہ ایک ہزار روپے کا نوٹ لے کر اگربازار جاؤں تو صرف سبزی لے کرواپس آجاتاہوں۔مجاہد بریلوی نے کہا کہ عمران خاں نے لولا لنگڑا اقتدار لے کر اپنے سیاسی تابوت میں آخری کیل خود ٹھوک لی ہے۔

ان حالات میں عمران خاں حکومت کو نہ صرف سوچنا ہو گا بلکہ حالات کی حقیقت کا ادراک بھی کرنا ہوگا کہ ہم نے دنیا بھر سے قرضے اور امداد حاصل کرلیں۔آئی ایم ایف سے مشکل ترین شرائط پرقرضے کے حصول کا معاہدہ بھی کرلیا۔لیکن صنعتوں کا جال بچھانے کی طرف ابھی گامزن تو دور کی بات منصوبہ بندی بھی نہیں کی گئی ہے۔عوام کو ریلیف دینے کی خواہشات کے باوجود عوام سے ہی قربانیاں مانگی جا رہی ہیں۔غریب اور مقروض ملک میں وزیروں اور مشیروں کی ایک بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے۔اوریہ وزراء و مشیران تعمیراتی کاموں اورمنصوبوں پر مشاورت کرنے کی بجائے سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے کرنے کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔

کراچی کے تاجران کہتے ہیں کہ تاجران کو ریلیف دیں،پریس کانفرنس میں جواب دیا جاتا ہے کہ میں این آر اوکسی صورت نہیں دوں گا۔بتایا جا رہا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے دل کھول کرخزانہ لوٹا، نواز اور زرداری نے غیرملکی دوروں پرتین ارب اسی کروڑ روپے خرچ کئے۔نواز شریف اپنے چار سالہ دور حکومت میں ساڑھے نو ماہ بیرون ملک رہے۔سابق حکمرانوں ان ہی شاہ خرچیوں اور اللو تللو کی وجہ سے ہی تو بظاہر عوام آپ کو حکومت میں لائے تھے۔آپ کو ان کی ناکامیاں بتانے کی بجائے عوام کو سہولیات کی فراہمی،ترقیاتی منصوبوں اور صنعتی ترقی کے حوالہ سے عوام کو بتائیں۔ جبکہ حکومت یہ کررہی ہے کہ سابق حکمرانوں نے قومی خزانہ لوٹا ہے جو عوام کو ٹیکس کی مد میں بھرنا پڑے گا۔

عوام کو یہ سوچنے سے کوئی کیسے روک سکتا ہے کہ سابق حکومت کے خاتمہ تک ڈالر 102 روپے کا تھا آج اس کا راستہ بھی نہیں جا سکا ہے،کوئی ہے جو مصنوعی طورپرہی سہی،ڈالرکو ایک سو روپے کے اندرلاسکے۔سونا 54 ہزار روپے تولہ تھا آج 84 ہزار روپے کی حد کو چھورہا ہے۔پٹرول پینسٹھ روپے لٹرتھا آج114 روپے لٹرہے۔چینی سینتالیس روپے کلوتھی 74 روپے کلوہوگئی ہے۔دالیں،سبزیاں،بجلی، گیس،کون سی ایسی بنیادی اشیاء ضروریہ ہیں جو چھ سو روپے مزدوری کرنے والے مزدورکی دسترس میں رہ گئی ہو۔

موجودہ حکومت نے موچی اور نائی پر بھی ٹیکس لگادیا ہے۔لیکن عوام کسی سہولت کی فراہمی کی بات کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ سابق حکمران کرپٹ تھے،چورتھے۔آپ کو اچھے دنوں کا انتظارکرنا پڑے گا۔ عمران خاں اوران کی ٹیم سابق حکمرانوں کی نالائقیوں اور نااہلیوں کا چورن آکر کب تک بیچتے رہیں گے۔عمران خاں کو حکومتی کارکردگی کے حوالہ سے بھی کچھ سوچنا،کچھ کرنا پڑے گا۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ حکومت کی ترجیہات درست نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں