92

نصف صدی کی جدوجہد رائیگاں جائے گی؟ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم : نصیر احمد ناصر
صدر پریس کلب، بہاولپور

ڈالر کی اڑان کی ”برکتیں“ عوام، سیاستدان اور حکمرانوں کے درمیان سب سے زائد موضوع بحث بنا ہوا ہے، شاید ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کو اتنی شہرت ملی۔ آئے روز ایسی اڑان بھرتا ہے سب کو حیران کر دیتا ہے۔ اس پر تبصرہ بھر پور ہونا چاہئے، ضرور حصہ ڈالیں گے، لیکن بہاول پور میں ان دنوں سب سے زیادہ موضوع بہاول پور اور جنوبی پنجاب صوبہ پر بحث ہو رہی ہے۔ بہاول پور صوبہ بحالی کا مطالبہ تو نصف صدی پوری کرنے کو ہے، کہا جا سکتا ہے کہ مطالبہ کرنے والی ایک نسل دائمی زندگی سدھار چکی ہے یا عمر ضعیفی میں گزار رہی ہے۔ دوسری نسل اس کا دفاع کر رہی ہے۔

بلاشبہ اس کی بحالی کے لئے جو قربانیاں بزرگوں نے دیں اس کا تو حق ادا نہیں ہورہا پھر بھی مطالبے میں کمی نہیں۔ یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں خصوصاً حکمرانوں کا رویہ اس بارے افسوس ناک رہا۔ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں نے اس کے ساتھ مذاق ہی کیا اس تلخ حقیقت کا وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ برملا اظہار کر چکے ہیں، کہتے ہیں کوئی پارٹی بھی صوبہ بنانے میں سنجیدہ نہیں، سب لولی پاپ دے رہے ہیں۔

اگرچہ انہوں نے ان دنوں جارحانہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے، انہوں نے نہ صرف اسمبلی کے فلور پر بہاولپور صوبے کی بحالی کے مطالبے کو بھر پور انداز میں بیان کیا بلکہ اپنی جماعت ق لیگ کی لیڈر شپ کو بھی اپنا ہم نوا بنایا، یہاں تک کہا گیا کہ ق لیگ کی قیادت وزیر اعظم عمران خان سے بات چیت کرے گی۔ انہوں نے بہاولپور میں بھی صحافیوں سے بات چیت کی، ان کا موقف بڑا واضح تھا، یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اس مقصد کے لئے حکومت کو بھی خیر باد کہنا پڑا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے، شاہ محمود قریشی کے بیان کہ تین اضلاع پر مشتمل ڈویژن کو کس طرح صوبہ بنایا جاسکتا ہے، نامناسب قرار دیا۔

تقریباً سات دہائیاں بیت چکی ہیں، بہاول پور تین اضلاع پر مشتمل ڈویژن تھا، اور آج بھی یہی اعدادو شمار رکھتا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مزید مناسب ہوگا کہ جب سے پاکستان بنا اور ریاست بہاول پور اس کا حصہ بنی اس وقت سے اب تک یہ خطہ تین اضلاع پر مشتمل ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر آبادی نہیں بڑھی؟ نئے شہر آباد نہیں ہوئے؟ نئے اضلاع نہیں بن سکتے تھے؟ پنجاب بھر میں سب سے بڑے اضلاع اب بہاول پور ڈویژن میں ہی رہ گئے ہیں، ہر ضلع کا ہیڈ کوارٹر کی مسافت سیکڑوں کلومیٹر پر مشتمل ہے، ورنہ لودھراں سے شروع ہو کر اٹک تک چلے جائیں، ہر پینتیس چالیس کلو میٹر پر نیا ضلع استقبال کرے گا۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہاول پور کی آبادی اور رقبہ دنیا میں موجود بعض ممالک سے زیادہ نہیں؟ کیا ہمسایہ ممالک انڈیا، افغانستان، چین میں متعدد صوبے بہاول پور کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹے نہیں ہیں؟ اگر وسائل کی بات کی جائے تو تاریخ گواہ ہے کہ بہاول پور ہی وہ واحد خطہ تھا، جس نے اپنے وسائل پاکستان پر نچھاور کئے۔

موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے بہاول پور میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران بہاول پور صوبہ بحالی کا مطالبہ زور دار طریقے سے کیا تھا۔ لگتا ہے کہ باقی یو ٹرن کی طرح اس وعدے پر بھی یو ٹرن لے لیا گیا ہے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے ایم این اے میاں نجیب الدین اویسی نے بہاول پو ر صوبہ اور جنوبی پنجاب سے متعلق بل پیش کر رکھا تھا، اس کے بعد پی ٹی آئی کے ایم این اے، جن کا تعلق بھی بہاول پور سے ہے، سید سمیع الحسن گیلانی نے جنوبی پنجاب کا بل پیش کر دیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ بہرحال سمیع الحسن گیلانی کو یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا، لگتا ہے ان کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن بعض کردار سیاہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان پر سخت تنقید کی جارہی ہے، ماسوائے چند درباریوں کے۔

بہاول پو ر صوبہ بحالی پر کام کرنے والی تمام تحریکیں یکجا ہو چکی ہیں، البتہ وہ اہم یوتھیے بھی خاموش ہیں، جنہوں نے ماضی قریب میں بہاول پور صوبہ بحالی کے حق میں ریلیاں نکالیں، نعرے لگائے، سیاہ بینر اٹھائے، ان کو بھی چاہیئے کہ وہ خاموش نہ رہیں، اپنی دھرتی سے غداری نہ کریں۔ بہاول پور صوبہ گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام نواب سر صادق خان کی برسی بہاول پریس کلب کے اشتراک سے بھر پور انداز میں منائی جارہی ہے، جہاں سے جارحانہ پیغام دیا جائے گا۔ بہاول پور سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر سمع اللہ چوہدری کو بھی اپنے ماضی کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، اگر وہ بھی سمع الحسن گیلانی کی طرح غلطی کر بیٹھے تو ان کا نام بھی سیاہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا، اس کو اچھے الفاظوں میں یاد نہیں رکھا جائے گا۔

ماضی قریب میں پیپلز پارٹی کا کردار بھی اس وقت مثبت نظر آیا جب اس نے پنجاب اسمبلی میں بہاول پور صوبہ بحالی اور جنوبی پنجاب صوبہ کے حق میں پیش ہونے والی قرار داد کو ناصر سپورٹ کیا بلکہ متفقہ طور پر منظور کرانے میں کردار ادا کیا، اس اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، جو بلاشبہ بہاول پور صوبہ بحالی کے موقف کی تائید کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں