89

مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی۔۔۔ شعورمیڈیا

از قلم: خضر کلاسرا

پچھلی حکومتوں میں ایسے منصوبے اور وارداتوں کو کاغذوں میں متعارف کروایاگیاکہ نظام میں بہتری خاک آنی تھی، مرض بڑھتاگیا ،جوں جوں دوا کی صورتحال چل رہی ہے۔ماڈل ٹاون سانحہ سے لیکر سانحہ ساہیوال تک کی بھیانک کاروائی کے بعد اس بات کا یقین پختہ ہوچلاہے کہ نظام صرف نعروں میں بدلتاہے ،عملی طورپر سیلبس وہی چل رہاہے جوکہ پچھلے چھوڑ کر جاتے ہیں۔تبدیلی کے پرچار میں بھی ساہیوال میں وہی ہواہے جوکہ نوازلیگی قیادت کے خادم اعلی کے طاقت کے نظام میں ماڈل ٹاون سانحہ میں ناقابل یقین قتل وغارت ہوئی تھی۔

سانحہ ساہیوال کی کاروائی میں اندازہ کریں، ایک خاندان کو چوک میں دن دیہاڑے گولیوں سے بھون دیاگیاہے،کار میں بچوں اور عورتوں کی موجودگی کو بھی لمحہ بھر کیلئے آڑے نہیں آنے دیاگیا بلکہ بچوں اور عورتوں کی موجودگی میں کاروائی کو اور تیزکرکے بدترین قتل وغارت کی مثال قائم کی گئی ۔ادھر حکومت اور اس کے وزیروں، مشیروں نے اندھے وا، محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی) کی کاروائی کے حق میں وہ قلابے ملائے ہیں کہ ان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتاہے لیکن وہ ہیں کہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے ایک کے بعد ایک بیان داغنے میں ایکدوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ میں پیچھے مڑ کر دیکھنے پر تیار نہیں ہیں۔ قوم توساہیوال سانحہ میں صدمہ میں تھی ہی لیکن حکومت کی سانحہ ساہیوال پر کی گئی، بیان بازی کی واردات نے دکھی خاندان اورقوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک پاشی کا کام کیاہے۔

لوگوں کو ابھی تک اس بات پر یقین نہیں آرہاہے کہ حکومت ایسے قاتلوں کی صفائیاں پیش کرنے کیلئے کیوں بے چین تھی جوکہ پورے ملک میں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد خوف پھیلانے اور پولیس نظام کو زمین بوس کرنے کے مرکزی کردارتھے۔ابھی تک سمجھنے کی کوشش ہورہی ہے کہ آخر وزیروں،مشیروں کی فوج ظفر موج سارے کام چھوڑ کر محکمہ انسداد دہشت گردی کیلئے اپنی خدمات بلامعاوضہ کیوں فراہم کررہی تھی ؟ اتنے بڑے سانحہ پر آخر محکمہ انسداد دہشت گردی کی قیادت کیلئے سہولت کار کا کردار کیوں اداکیاگیاہے؟

قیامت خیز سانحہ پر ان کو اتنی دیر قانون کا سامناکرنے سے کیوں دور رکھاگیاہے؟ ایسے دوسرے سانحہ سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اس راز سے پردہ اٹھناچاہیے اور قوم کو ان سارے سوالوں کا جواب ملنا چاہیے جوکہ ساہیوال سانحہ کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔راقم الحروف نے جیسے ابتداء میں عرض کیاہے کہ پچھلی حکومتوں نے کاغذی کاروائیوں میں پولیس سمیت دیگر محمکوں بالخصوص تعلیم کے شعبہ میں بھی بہتری کی بجائے بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور کوئی اس بات کی ذمہ داری لینے پر تیارنہیں ہے کہ نوازلیگی دور حکومت میں جب تخت لاہور پر شہبازشریف براجمان تھے،اسوقت پنجاب میں محمکہ تعلیم میں ڈویثرنل ڈائریکڑ(ای ای) بنانے کا شاہی حکم صادر ہواجبکہ پہلے موجود نظام میں کوئی ایسی خرابی نہیں تھی کہ ایک اور اتھارٹی بناکر تعلیم کے شعبہ کو ایک اور الجھن میں ڈالنے کا فیصلہ لیاجاتا۔

بہرحال ان ڈویثرنل ڈائریکٹروں کیلئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسروں کے دفاتر سے عملہ کی پوسٹیں ختم کرکے وہاں پر موجود ضروری عملہ کو ڈویثرنل ڈائریکٹر آفس پہنچے کا حکم جاری ہوا۔ادھر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسیروں اور یونین کے لوگوں کی ایک نہ سنی گئی کہ یہاں کے ضروری عملہ کو دوسری جگہ بھیجنے سے ان کا کام متاثرہوگا، یوں معاملہ پہلے دن ہی الجھ گیا تھا لیکن کس کی مجال تھی کہ شاہی حکم کے سامنے آواز اٹھاتا۔پنجاب کے دیگر ضلعوں میں اس شاہی حکم سے کیا کھلواڑ ہواہے، اس بارے میں بھی وقت کیساتھ پتہ چلتاجائیگا لیکن راولپنڈی میں جو کچھ ہواہے، وہ کچھ یوں راقم الحروف تک پہنچاہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) راولپنڈی جوکہ سات تحصیلوں کے تقریبا 450 سکولوں،جن میں 44 ہائر سیکنڈری سکولز ہیں،کے معاملات کو دیکھتاہے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راولپنڈی میں یکم جنوری 2017 تک جب کاغٖذوں میں ڈویثرنل ڈائریکٹر بنانے کا فیصلہ نہیں ہواتھا،اس وقت جو منظور شدہ پوسٹیں تھیں، انکی تعداد 60 تھی، جن میں ایک ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، تین ڈپٹی ایجوکیشن آفسیرز، پانچ اسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز ،ایک بجٹ اینڈ اکاونٹس آفیسر، ایک سیکشن سپرپیڈنٹ، پانچ اسٹنٹس،پانچ سنیئر کلرک ،بارہ جونئیر کلرک ،کلاس فور بائیس اور ایک ڈرائیور شامل تھے۔ لیکن شہبازشریف کے ڈویثرنل ڈائریکٹر(ای ای) بنانے کی کاروائی کے بعد یوں ہواکہ 38 پوسٹیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راولپنڈی سے ختم کردی گئیں اور یہاں حکم صادر ہواکہ بائیس ملازمین کیساتھ کام چلایاجائے۔یوں جہاں ساٹھ پوسٹوں کیساتھ کام چلانے میں دشواری تھی،وہاں ملک عدالت کے مطابق اب بائیس کے سٹاف کیساتھ معاملات چلانے کے بعد کیاصورتحال ہوسکتی ہے ؟

اس بات کو سمجھنے میں کسی بڑی سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔جو اصل نقط ہے جوکہ ملک عدالت نے اس صورتحال پر آخر میں بتایا اور راقم الحروف حیرت زدہ رہ گیا وہ یہ تھاکہ ڈویثرنل ڈائریکٹر (ای ای)بنانے کا فیصلہ کاغذی کاروائی ثابت ہوا مطلب آج تک صرف اتنا ہواہے کہ راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سمیت پنجاب بھر کے اہم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسروں کے دفاتر میں پوسٹوں کو ختم کرکے ڈویثرنل ڈائریکٹر کے نام پر ملازمین کو ادھر بلالیاگیا تھا لیکن ادھر انکی کاروائی کاغذوں تک محدود رہی اور یوں جانے والے ملازمین نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے رہے ہیں۔اب ان میں سے کوئی کہیں دن پورے کررہاہے اور کوئی کہیں اپنی نوکری بچانے کے چکر میں ہے جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راولپنڈی کے دفترسمیت دیگر پنجاب کے دفاتر پوسٹوں کے خاتمہ کے بعد مشکلات حل کرنے کی بجائے خود سٹاف کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکارہوچکے ہیں ۔افسوس ناک صورتحال یوں ہے کہ تبدیلی کی دعویدار تحریک انصاف کی حکومت کے پاس بھی وقت نہیں ہے کہ وہ اس اہم ایشوپر کوئی فیصلہ لے اور پنجاب بالخصوص راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے دفاتر میں سٹاف کی کمی وجہ سے جاری صورتحال سے تعلیمی نظام کو جو خطرات درپیش ہیں، ان سے بچاجاسکے ۔

واردات کی یہ کہانی تو اہم تھی لیکن جاتے جاتے ضلع راولپنڈی کے تعلیمی نظام کیساتھ جو ایک اور بھیانک صورتحال چل رہی ہے اس کے بارے میں ایک اور کہانی بھی پڑھ لیں، اسوقت جب پڑھے لکھوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں دھکے کھارہی ہے،والدین اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے بعد بچوں کو تعلیم اس لیے دلاتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر ان کے بڑھاپے کا سہارابنیں گے لیکن یہ تو اسوقت ہوگاجب ان کو روزگار ملیگا، بڑی دیر سے یہ کہانی سننے کو ملتی رہی ہے کہ پوسٹیں نہیں ہیں، نوکریاں کہاں سے دیں۔باقی اداروں میں کیاصورتحال ہے، اس بارے میں تو بات کبھی اور وقت میں کریں گے لیکن اسوقت آپ کو بتاتے چلیں کہ ضلع راولپنڈی کے 40کالجز میں لیکچررز،پروفیسرز کی 500پوسٹیں خالی ہیں اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی 400سیٹیں خالی ہیں۔مجموعی طورپر راولپنڈی کے چالیس کالجز میں 900پوسٹیں خالی ہیں ۔

کالج میں لیکچررز کی آخری بھرتی تین سال قبل ہوئی تھی اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی آخری بھرتی آٹھ سال قبل 2010میں ہوئی تھی ۔ادھر پتہ چلاہے کہ ضلع راولپنڈی کے ان کالجز میں لائبریرینزکی بھی 60 فیصد سٹییں گزشتہ پندرہ سال سے خالی پڑی ہیں۔مستقل لائبریرینز نہ ہونے کی وجہ سے لائبریریوں کا نظام کلرکوں کے کنٹرول میں دے دیاگیاہے۔ضلع بھرکے کالجز جدید اور نئی کتب کا نظام بھی ختم ہوچکاہے۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال سے کالجز کو سرکاری طورپر لائبریریوں کو کتب نہیں دی گئی ہیں۔ آپ سمجھدار ، اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں جب اتنی بڑی تعداد میں لیکچررز اور پروفیسروں کی پوسٹیں ایک ضلع کے کالجوں میں خالی ہونگی اور ادھر نان ٹیچنگ اسٹاف اتنا کم ہوگا اور لائبریریوں کو کلرک چلارہے ہونگے تو تعلیم کا کیا حال ہوگا، اس کو سمجھنے کیلئے کوئی بڑی عرق ریزی کی ضرورت نہیں ہے۔کاش حکومت کے وزیر، مشیر جوکہ انسداد دہشت گردی کے قاتل اہلکاروں کو بچانے کیلئے اتنی جلدی میں تھے کہ قانون اور اخلاقیات کو بھی پیچھے چھوڑگئے ہیں ، وہ تعلیم کے شعبہ کو بچانے کیلئے آگے آتے اور تعلیم کے زور پر معاشرہ میں اتنا شعور پیداکرتے کہ سانحہ ماڈل ٹاون سے لیکرسانحہ ساہیوال جیسے واقعات کا بھیانک دور ہمیشہ ،ہمیشہ کیلئے بند ہوجاتا۔رہے نام اللہ کا۔ 

۔لوگوں کو ابھی تک اس بات پر یقین نہیں آرہاہے کہ حکومت ایسے قاتلوں کی صفائیاں پیش کرنے کیلئے کیوں بے چین تھی جوکہ پورے ملک میں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد خوف پھیلانے اور پولیس نظام کو زمین بوس کرنے کے مرکزی کردارتھے۔ابھی تک سمجھنے کی کوشش ہورہی ہے کہ آخر وزیروں،مشیروں کی فوج ظفر موج سارے کام چھوڑ کر محکمہ انسداد دہشت گردی کیلئے اپنی خدمات بلامعاوضہ کیوں فراہم کررہی تھی ؟ اتنے بڑے سانحہ پر آخر محکمہ انسداد دہشت گردی کی قیادت کیلئے سہولت کار کا کردار کیوں اداکیاگیاہے؟ قیامت خیز سانحہ پر ان کو اتنی دیر قانون کا سامناکرنے سے کیوں دور رکھاگیاہے؟ ایسے دوسرے سانحہ سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اس راز سے پردہ اٹھناچاہیے اور قوم کو ان سارے سوالوں کا جواب ملنا چاہیے جوکہ ساہیوال سانحہ کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔

راقم الحروف نے جیسے ابتداء میں عرض کیاہے کہ پچھلی حکومتوں نے کاغذی کاروائیوں میں پولیس سمیت دیگر محمکوں بالخصوص تعلیم کے شعبہ میں بھی بہتری کی بجائے بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور کوئی اس بات کی ذمہ داری لینے پر تیارنہیں ہے کہ نوازلیگی دور حکومت میں جب تخت لاہور پر شہبازشریف براجمان تھے،اسوقت پنجاب میں محمکہ تعلیم میں ڈویثرنل ڈائریکڑ(ای ای) بنانے کا شاہی حکم صادر ہواجبکہ پہلے موجود نظام میں کوئی ایسی خرابی نہیں تھی کہ ایک اور اتھارٹی بناکر تعلیم کے شعبہ کو ایک اور الجھن میں ڈالنے کا فیصلہ لیاجاتا۔

بہرحال ان ڈویثرنل ڈائریکٹروں کیلئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسروں کے دفاتر سے عملہ کی پوسٹیں ختم کرکے وہاں پر موجود ضروری عملہ کو ڈویثرنل ڈائریکٹر آفس پہنچے کا حکم جاری ہوا۔ادھر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسیروں اور یونین کے لوگوں کی ایک نہ سنی گئی کہ یہاں کے ضروری عملہ کو دوسری جگہ بھیجنے سے ان کا کام متاثرہوگا، یوں معاملہ پہلے دن ہی الجھ گیا تھا لیکن کس کی مجال تھی کہ شاہی حکم کے سامنے آواز اٹھاتا۔پنجاب کے دیگر ضلعوں میں اس شاہی حکم سے کیا کھلواڑ ہواہے، اس بارے میں بھی وقت کیساتھ پتہ چلتاجائیگا لیکن راولپنڈی میں جو کچھ ہواہے، وہ کچھ یوں راقم الحروف تک پہنچاہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) راولپنڈی جوکہ سات تحصیلوں کے تقریبا 450 سکولوں،جن میں 44 ہائر سیکنڈری سکولز ہیں،کے معاملات کو دیکھتاہے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راولپنڈی میں یکم جنوری 2017 تک جب کاغٖذوں میں ڈویثرنل ڈائریکٹر بنانے کا فیصلہ نہیں ہواتھا،اس وقت جو منظور شدہ پوسٹیں تھیں، انکی تعداد 60 تھی، جن میں ایک ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، تین ڈپٹی ایجوکیشن آفسیرز، پانچ اسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز ،ایک بجٹ اینڈ اکاونٹس آفیسر، ایک سیکشن سپرپیڈنٹ، پانچ اسٹنٹس،پانچ سنیئر کلرک ،بارہ جونئیر کلرک ،کلاس فور بائیس اور ایک ڈرائیور شامل تھے۔ لیکن شہبازشریف کے ڈویثرنل ڈائریکٹر(ای ای) بنانے کی کاروائی کے بعد یوں ہواکہ 38 پوسٹیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راولپنڈی سے ختم کردی گئیں اور یہاں حکم صادر ہواکہ بائیس ملازمین کیساتھ کام چلایاجائے۔یوں جہاں ساٹھ پوسٹوں کیساتھ کام چلانے میں دشواری تھی،وہاں ملک عدالت کے مطابق اب بائیس کے سٹاف کیساتھ معاملات چلانے کے بعد کیاصورتحال ہوسکتی ہے ؟

اس بات کو سمجھنے میں کسی بڑی سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔جو اصل نقط ہے جوکہ ملک عدالت نے اس صورتحال پر آخر میں بتایا اور راقم الحروف حیرت زدہ رہ گیا وہ یہ تھاکہ ڈویثرنل ڈائریکٹر (ای ای)بنانے کا فیصلہ کاغذی کاروائی ثابت ہوا مطلب آج تک صرف اتنا ہواہے کہ راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سمیت پنجاب بھر کے اہم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسروں کے دفاتر میں پوسٹوں کو ختم کرکے ڈویثرنل ڈائریکٹر کے نام پر ملازمین کو ادھر بلالیاگیا تھا لیکن ادھر انکی کاروائی کاغذوں تک محدود رہی اور یوں جانے والے ملازمین نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے رہے ہیں۔اب ان میں سے کوئی کہیں دن پورے کررہاہے اور کوئی کہیں اپنی نوکری بچانے کے چکر میں ہے جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راولپنڈی کے دفترسمیت دیگر پنجاب کے دفاتر پوسٹوں کے خاتمہ کے بعد مشکلات حل کرنے کی بجائے خود سٹاف کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکارہوچکے ہیں ۔افسوس ناک صورتحال یوں ہے کہ تبدیلی کی دعویدار تحریک انصاف کی حکومت کے پاس بھی وقت نہیں ہے کہ وہ اس اہم ایشوپر کوئی فیصلہ لے اور پنجاب بالخصوص راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے دفاتر میں سٹاف کی کمی وجہ سے جاری صورتحال سے تعلیمی نظام کو جو خطرات درپیش ہیں، ان سے بچاجاسکے ۔

واردات کی یہ کہانی تو اہم تھی لیکن جاتے جاتے ضلع راولپنڈی کے تعلیمی نظام کیساتھ جو ایک اور بھیانک صورتحال چل رہی ہے اس کے بارے میں ایک اور کہانی بھی پڑھ لیں، اسوقت جب پڑھے لکھوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں دھکے کھارہی ہے،والدین اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے بعد بچوں کو تعلیم اس لیے دلاتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر ان کے بڑھاپے کا سہارابنیں گے لیکن یہ تو اسوقت ہوگاجب ان کو روزگار ملیگا، بڑی دیر سے یہ کہانی سننے کو ملتی رہی ہے کہ پوسٹیں نہیں ہیں، نوکریاں کہاں سے دیں۔باقی اداروں میں کیاصورتحال ہے، اس بارے میں تو بات کبھی اور وقت میں کریں گے لیکن اسوقت آپ کو بتاتے چلیں کہ ضلع راولپنڈی کے 40کالجز میں لیکچررز،پروفیسرز کی 500پوسٹیں خالی ہیں اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی 400سیٹیں خالی ہیں۔مجموعی طورپر راولپنڈی کے چالیس کالجز میں 900پوسٹیں خالی ہیں ۔کالج میں لیکچررز کی آخری بھرتی تین سال قبل ہوئی تھی اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی آخری بھرتی آٹھ سال قبل 2010میں ہوئی تھی ۔

ادھر پتہ چلاہے کہ ضلع راولپنڈی کے ان کالجز میں لائبریرینزکی بھی 60 فیصد سٹییں گزشتہ پندرہ سال سے خالی پڑی ہیں۔مستقل لائبریرینز نہ ہونے کی وجہ سے لائبریریوں کا نظام کلرکوں کے کنٹرول میں دے دیاگیاہے۔ضلع بھرکے کالجز جدید اور نئی کتب کا نظام بھی ختم ہوچکاہے۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال سے کالجز کو سرکاری طورپر لائبریریوں کو کتب نہیں دی گئی ہیں۔ آپ سمجھدار ، اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں جب اتنی بڑی تعداد میں لیکچررز اور پروفیسروں کی پوسٹیں ایک ضلع کے کالجوں میں خالی ہونگی اور ادھر نان ٹیچنگ اسٹاف اتنا کم ہوگا اور لائبریریوں کو کلرک چلارہے ہونگے تو تعلیم کا کیا حال ہوگا، اس کو سمجھنے کیلئے کوئی بڑی عرق ریزی کی ضرورت نہیں ہے۔کاش حکومت کے وزیر، مشیر جوکہ انسداد دہشت گردی کے قاتل اہلکاروں کو بچانے کیلئے اتنی جلدی میں تھے کہ قانون اور اخلاقیات کو بھی پیچھے چھوڑگئے ہیں ، وہ تعلیم کے شعبہ کو بچانے کیلئے آگے آتے اور تعلیم کے زور پر معاشرہ میں اتنا شعور پیداکرتے کہ سانحہ ماڈل ٹاون سے لیکرسانحہ ساہیوال جیسے واقعات کا بھیانک دور ہمیشہ ،ہمیشہ کیلئے بند ہوجاتا۔رہے نام اللہ کا۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں