85

پاکستان اور غذائیت کی کمی کا چیلنج

ازقلم: ثاقب نفیس گوجر (وہاڑی)


اگر غذا میں غذائیت کی کمی ہو تو بچوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پہلا مسئلہ بچوں کا قد ان کی عمر سے کم ہوتا ہے اور ان میں ذہنی اور جسمانی طاقت کی کمی ہوتی ہے۔ دوسرا مسئلہ ان میں قوت مدافعت کی کمی کا پیدا ہونا اور کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جانا ہے اور بینائیت کی کمی۔ تیسرا مسئلہ ہڈیوں کا کمزور ہونا جس سے بچے کی ہڈیاں بہت کمزور ہوتی ہیں اور ان کا پیٹ بڑھا ہوا ہوتا ہے۔پاکستان اس وقت غذائیت کی شدید کمی کا شکار ہے۔اس وقت ہمارے ملک میں آدھے سے زیادہ بچے اور خواتین غذائیت کی کمی کاشکارہیں۔58%گھروں میں غذا کی کمی ہے ۔اس کی وجہ سے 40%بچے اپنی عمر کے لحاظ سے چھوٹے قد کے ہیں اور جسمانی اور ذہنی نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔یہ صورتحال ہمارے مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔


اس کی پہلی وجہ غربت ہے۔ غربت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو مناسب خوراک میسر نہیں ہے۔لوگ صرف روٹی پوری کرنے کیلئے سارا دن کام کرتے ہیں اور بمشکل شام تک روٹی پوری کرتے ہیں۔بچے اورخواتین بھی ان کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں ایسی صورتحال میں ان کیلئے غذائیت کے بارے میں سوچنا ناممکن ہے۔ دوسری وجہ معیاری غذا کی عدم دستیابی ہے۔مارکیٹ میں دستیاب غذائی اجناس کا معیار اچھا نہیں ہے اور معیاری اشیاء قیمت میں بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں،جس کی وجہ سے زچگی کے دوران بہت سی خواتین موت کا شکار ہو جاتی ہیں کیونکہ ان میں خوراک کی کمی کی وجہ سے بہت زیادہ جسمانی کمزوری ہوتی۔ اسی طرح بچوں میں بھی کام کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور پڑھنے میں دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔ بڑے لوگوں میں کام کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے نا صرف ان کی کمائی میں فرق پڑتا ہے بلکہ کام کرنے کا دورانیہ بھی کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ملک کی مجموعی آمدنی میں فرق پڑتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی آمدنیپہلے سے کم ہونے میں ایک وجہ یہ بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اوسط عمر دوسرے ممالک کی نسبتا بہت کم ہو رہی ہے۔


نیوٹریشن کی کمی کو پورا کرنے کیلئے جہاں عوام کو آگاہی کی ضرورت ہے وہاں خوراک سے وابستہ لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ خوراک پیدا کرنے کے کام کا آغاز کسان سے ہوتا ہے اسی طرح وہ خوراک منڈی سے ہوتی ہوئی ملز تک پہنچتی ہے۔ان تمام لوگوں کو خوراک میں موجود ضروری اجزاء پورا کرنے کیلئے آگاہی کی ضرورت ہے۔یہ تمام لوگ مل کر عوام کو معیاری غذا فراہم کر سکتے ہیں۔


ان مسائل سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان اور غیر سرکاری ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ جن کی کوششوں سے گلہڑ کی بیماری پر قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستانی قوانین کے تحت گھی اور خوردنی تیل میں وٹامن اے اور وٹامن ڈی کی مخصوص مقدار کا شامل کرنا ضروری ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی اس کی مکمل نگرانی کر رہی ہے تاکہ وٹامن اے اور ڈی کی خاص مقدار گھی اور خوردنی تیل میں شامل ہو۔ ایسی ملز جو اس میں کوئی کوتاہی کر رہی ہوں ان ملز کو جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ ان تمام معاملات میں گھی ملز اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کو تکنیکی معاونت نیوٹریشن انٹرنیشنل مہیا کر رہی ہے۔فوڈ فورٹیفیکشن پروگرام کا مقصد آٹا ، گھی اور خوردنی تیل میں غذائیت کی کمی کو پوراکرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں