31

گلگت بلتستان کیلیے مزید میڈیکل سپلائی آج سے شروع ہوگی: چئیرمین این ڈی ایم اے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل افضل اور وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے درمیان گلگت بلتستان میں کرونا کی صورتحال کے حوالے سے ٹیلی فونک بات چیت ہوئی،وزیر اعلیٰ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے کرونا کے حوالے سے کردار کو سراہا اور گلگت بلتستان کے لئے مزید میڈیکل سپلائی جاری رکھنے کا کہا.

جس پر جنرل افضل نے گلگت بلتستان حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرا دی کہ آج سے میڈیکل سپلائی دوبارہ شروع ہوگی جس میں ابتدائی طور پر 10وینٹیلیٹر، 10ڈیجیٹل ایکسرے مشین ، 20بائی پیپ 3پی سی آر مشینیں گلگت بلتستان پہنچائی جائیں گی ،تین پی سی آر مشینیں گلگت استور اور سکردو میں نصب کی جائے گی جس پر وزیر اعلیٰ نے چیئر مین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی جنرل افضل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کرونا گلگت بلتستان میں قابو میں تھا لیکن وفاقی حکومت کے عدم تعاون اور گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے گلگت بلتستان میں کرونا کی صورتحال پھر سے مخدوش ہو چکی ہے.

اگر وفاقی حکومت گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ بروقت تعاون کرتی تو ہم بہت تیزی کے ساتھ کرونا فری ریجن کی طرف بڑھ رہے تھے صوبائی حکومت نے اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے کرونا کی روک تھام کے لئے بہترین انتظامات کئے لیکن جہاں وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں وہاں این ڈی ایم اے کے چیئرمین جنرل افضل اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان جنرل احسان محمودنے مثالی تعاون کیا جس پر گلگت بلتستان کی طرف سے ہم شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن سے سیکر ٹری سیاحت گلگت بلتستان آصف اللہ خان نے ملاقات کی ،آصف اللہ خان نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے لئے ترتیب دی گئی کرونا ایس او پیز کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی جس پر وزیر اعلی نے کہا کہ سیاحوں کو گلگت بلتستان آنے کی اجازت دینے سے قبل ہمیں ایس او پیز کو زمینی حقائق پر دیکھنا ہوگا کہ آیا جو ایس او پیز کاغذوں میں ترتیب دی گئی ہیں کیا ان پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہم کرونا کی اس خطرناک صورتحال میںکسی بھی غلطی کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں.

ہم اس حق میں نہیں ہیں کہ کرونا کی خطرناک صورتحال میں بغیر سوچے سمجھے گلگت بلتستان کو سیاحوں کیلئے کھولیں اس کے منفی اثرات تادیر رہیں گے ،وفاقی حکومت کو اس حوالے سے فیصلہ کرنے سے قبل تمام تر پہلوئوں کا جائزہ لینا ہوگا ،،اس صورتحال میں اگر کنٹرول سیاحت کی اجازت دینی بھی ہوگی تو اس کے لئے ہم ٹور آپریٹرز اور ہوٹل مالکان سے مشاورت کر کے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کیا ایس او پیز پر پورا عمل کیا جائے گا.

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا کسی ایمرجنسی کی صورت میںگلگت بلتستان میں کرونا کی اس صورتحال میں صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں میں اتنی گنجائش ہے کہ ہم اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کا بھی علاج کر سکتے ہیں اور کیا سیاحوں کے لئے قرنطینہ سنٹر بن چکے ہیں ۔ ان ایس او پیز اور تمام پہلووں کا جائزہ گلگت بلتستان کی کابینہ لے گی اور اس بات کا فیصلہ کابینہ کرے گی کہ کیا اس صورتحال میں سیاحوں کے لئے گلگت بلتستان آنے کی اجازت دے سکتے ہیں کہ نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں