6

زینب اورفرشتہ کیس،رات گئی بات گئی … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: انعام الحق راشد

بہاولپور

کیا اس بات کو بھلایا جا سکتا ہے کہ قصور کی معصوم زینب جب اغواء ہوئی تواس معاملہ پرکاررائی بظاہرغیر ضروری سمجھی گئی۔لیکن جب پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے زینب کے اغواء کو ایک اہم موضوع بنا دیا تو مقامی پولیس نے معصوم زینب کی گمشدگی کی رپورٹ لکھنا مجبوری سمجھا۔قانون کے نفاذ اور عوام کو تحفظ کا احساس دلانے کے بظاہردعووں کے نام پر قومی خزانہ سے لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے ادارے کے ملازمین نے معصوم زینب کی گمشدگی کوکسی بکری کے گم ہوجانے جتنی بھی اہمیت نہ دی تھی۔

بعد ازاں تحقیقات و شواہد سے ثابت ہوا کہ ننھی و معصوم زینب ہی نہیں اس طرح کے متعدد واقعات میں جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی شخصیات اور پولیس کی پشت پناہی وآشیرباد حاصل رہی۔اگرننھی زینب پر تشدد کے بعد قتل کرنے کے واقعہ کو میڈیامیں جگہ نہ ملتی تو کوڑے کے ڈھیرپرسے پائی جانیوالی زینب کی لاش انسانی شکل میں پھرنے والے بھیڑیوں کا زینب کو قتل کے بعدکوڑے کے ڈھیرپرپھینکنا آوارہ کتوں کی خوراک بنانے کی کوشش تھی۔

پھرایسا ہی ایک واقعہ دس سالہ فرشتہ نامی معصوم بچی کی گمشدگی اورپانچ روز بعد ویرانے سے اس کی ملنے والی لاش نے بے حس معاشرہ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔پولیس اورتھانہ کا کردار یہاں بھی سوالیہ نشان بنا رہا۔علاقہ ڈی ایس پی فارغ اورایس پی کو معطل کردیاگیا۔ملک دشمن عناصرنے اس سانحہ کو پاک فوج کے خلاف دشنام طرازی اور الزامات کے لئے استعمال کیا۔پولیس اہلکاروں نے یہاں بھی روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرچہ کے اندراج میں ملزمان سے بارگینگ کرنے والی دفعات لگا کراس واقعہ کو بھی چارپیسے بنا نے جیسی کارروائی بنا دیاتھا۔جسے سازشی عناصر نے ملک اور پاک فوج کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔پاک فوج نے اس سازش کو ناکام بنادیا۔

حیران کن نہیں جھنجھوڑ دینے والی بات ہے کہ 2018 میں بچیوں کے اغواء،ان سے زیادتی اور بعد ازاں قتل کے تین ہزار سے زیادہ واقعات بذریعہ میڈیا منظرعام پرآئے۔اورنہ جانے کتنے ایسے ہوں گے جو اپنی عزت بچانے اور بدنامی کے ڈرسے خاموشی اختیار کرچکے ہوں ایسی درندگی کے ان تمام واقعات میں جس میں کمسن،معصوم ننھی و نو عمرلڑکیوں کو اغواء کے بعد درندگی اور قتل کا انفرادی طورپرواویلا ہوتا رہا متعدد میں اغواء کار،زانی اور قاتل مجرمان کو سزائیں بھی ہوگئیں۔

میڈیا ایسی خبروں کو مجرمان کو سزا دینے کے لئے چالیس چالیس منٹس کے متعدد پروگرام کرتارہا۔میڈیا کے پریشر کی وجہ سے متعدد واقعات کی ایف آئی آر درج ہوئیں لیکن ان تمام پروگراموں کے دوران اگرٹی وی سکرین پر یہ پٹی بھی چلتی رہتی کہ،، زناقرض ہے جو زنا کرنے والے کی ماں،بیوی یا بیٹی کو اداکرنا پڑتا ہے۔(شرع میں شرم نہیں)۔ بے پردگی اورعریانی بے حیائی کی طرف لے جاتی ہے اور بے حیائی زنا کے پھیلنے کی وجہ بنتی ہے۔

سورۃ النساء کی مختلف آیات کا ترجمہ اورپردہ کی اہمیت و ضرورت سے متعلق آگاہی ان پروگرامزکے دوران ہی بتائی جاتی۔تو ایسے واقعات کے پھیلاؤ کے سامنے کچھ بند باندھاجاسکتا تھا۔علاوہ ازیں تفریحی پروگرامز کے نام پرماڈلز اوراداکاراؤں کا اسلامی حدود سے تجاوزاورڈراموں کے نام پر نوجوان نسل کو عشق،معشوقی،والدین سے بغاوت اور شادی شدہ خواتین کو اپنے حقوق کے نام پر طلاق لینے کے ماحول کا پرچاربھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسلامی حمیت کے خلاف ہے جس کی تشہیراور پھیلاؤ پر کسی قسم کی کوئی پابندی لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ہے۔

کیا کوئی بتا سکتاہے کہ پاکستان کی آج کی نوجوان نسل کے ہیرو کون ہیں۔نوجوان بچیوں کو کن خواتین کی تقلیدکرنی چاہئے۔کسی نے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو بتایا کہ فلمی دنیا،اداکاراؤں اورماڈلز قابل تقلید نہیں ہوتی۔ہم نے انگریزوں کی نقالی میں انگریزی لباس پہن لئے،احساس کمتری کے شکارانگریزی تعلیم کو توضروری سمجھتے ہیں قرآن کی تعلیم کو اہمیت نہیں دیتے۔انگریزوں کی نقالی میں مگر یہ نہیں سیکھنا چاہتے جیسے انگلش فلم میں سگریٹ نوشی کے سین میں,,Smooking kills,, سکرین پر لکھا نظرآجاتاہے۔

کیا ہمارا میڈیا کسی بغیردوپٹہ آنے والی لڑکی کی تصویرپرلکھ سکتا ہے کہ،، پردہ دین اسلام کی تعلیم اورعورت کی زینت ہے،،۔

ہم ایسی قوم بن چکے کہ مقصد حیات بھول چکے۔بچوں کو انگریزی تعلیم،مخلوط نظام تعلیم کے ذریعے دلوا کربے پردگی کو اعتماد کا نام دے کرخود کودھوکہ دے رہے ہیں۔کیاعمران خاں حکومت میٹرک تک تعلیم میں ہرکلاس میں پانچ پارے حفظ یاناظرہ پڑھنے کو قانون کا حصہ بنا سکتی ہے۔کیا تمام تعلیمی ادارے طالبعلموں کو چھ کلمے زبانی یاداور بنیادی اسلامی اصولوں سے آگاہی دے سکتے ہیں۔اگر جواب نہیں میں ہے توزینب،فرشتہ اور ایسے ہونے والے واقعات پر ماتم پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

معاشرہ کی تکمیل اور ا صلاح کے لئے نوجوان نسل کو جدید تعلیم ضروردیں لیکن مقصد حیات،اسلامی اقدار،سورۃ النساء کا ترجمہ و اسلامی طریقہ زندگی،جزاوسزا،گناہ و ثواب کا تصوربھی نوجوان نسل کے ذہن میں بٹھانا ضروری ہے۔مخلوط نظام تعلیم،انگریز ممالک کے سلیبس،انگریزوں کی نقالی،ٹی وی سکرین پر اسلامی حدود سے باہر کی ڈرامہ بازی،کونفیڈنس کے نام پر بے پردگی،لڑکا اور لڑکی کی دوستی کی تربیت جیسا ماحول کسی طورپربھی اسلامی معاشرہ کی عکاسی نہیں کرسکتا۔ایسے اقدامات کا پرچارکہیں اسلامی معاشرہ کو آہستہ آہستہ قتل کرنے کی ساز ش تو نہیں۔نوجوان نسل کی تربیت اورطریقہ تربیت ترتیب دینا اشد ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں