38

دھنوٹ کا صحافتی سفر … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

صحافت ملک کا چوتھا ستون اور عظیم ترین مشن ہے مگر اس مشن کو چلانے کیلئے وہی اخباریا چائنل اپنی پالیسی کا صحیح اظہار کر سکتا ہے جوآزاد ہو اور معاشی طور پرحکومت یا کسی دوسرے ادارے کا محتاج نہ ہو آجکل پاکستان میں صحافت کا معیار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔الیکٹرانک سمیت نِت نئے طریقے اور بہتر کارکردگی سے پاکستانی صحافت خود کو بین الاقوامی سطح پر لانے میں برسرِپیکار ہے۔

رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی واقعات اور شخصیات پر آرٹیکل اور فیچر لکھنے کا رجحان بھی بڑھتا جا رہا ہے،۔تمام الیکٹرانک میڈیاو اخبارات کے قلمکار اور صحافی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں۔اسی حوالے سے ضلع لودھراں کے چوتھے بڑے شہر دھنوٹ کے صحافتی حلقوں نے بھی اپنے تائیں بھر پور کوشش کی ہے۔ پاکستان میں ریل کا سفراپنے وقت کا بہترین،تیز اور محفوظ سفر سمجھا جاتا تھا۔دیگر سامان کی طرح اخبارات بھی بذریعہ ریل گاڑی ریلوے اسٹیشن پر آتے تھے۔

1965ء سے پہلے دھنوٹ میں کہروڑ پکا کے مقامی شیخ دلشاد احمد اسٹیشن ماسٹرجمرانی واہ(دھنوٹ) تعینات تھے جو کہ اخبار پڑھنے کے شوقین ہونے کی وجہ سے روزنامہ نوائے وقت کے ایجنسی ہولڈر بھی تھے۔وہ اپنے طریقہ ئ کار سے اخبارات بھی تقسیم کرتے تھے۔ 31اکتوبر1965ء میں حکیم محمد سراج الدین فاروقی محکمہ صحت کی ملازمت سے ریٹائر منٹ لے کر دھنوٹ میں آباد ہوئے۔ چونکہ حکیم محمد سراج الدین فاروقی 1955ء میں ایس ای کالج بہاولپور میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کے تحت ہونے والے ادیب عالم کورس(نائٹ کلاس) کے سند یافتہ تھے۔

ریٹائر منٹ کے بعد انہوں نے اپنے مطب کے ساتھ ساتھ شعبہ صحافت کے ذریعے دھنوٹ کی ترقی کیلئے مسائل کو اجاگر کرنا اپنا فرض سمجھا۔انہوں نے 1966 ء میں روز نامہ کوہستان سے اپنی صحافت کا آغاز کیا۔روز نامہ امروز کے نمائندہ اور ایجنسی ہولڈر رہے۔ اورپھر روز نامہ نوائے وقت میں بطور نمائندہ بذریعہ ڈاک رپورٹنگ اور مسائل ڈائریاں ارسال کرتے جو کہ شائع ہوتی رہیں۔جنرل یحییٰ خان کے دور میں کچھ عرصہ کیلئے نوائے وقت پر پابندی لگی تو روزنامہ ندائے ملت کیلئے کام کرتے رہے۔نوائے وقت بحال ہونے پر دوبارہ نوائے وقت کی نمائندگی لے لی۔

عبدالقیوم قریشی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ان کی اصل رہائش دھنوٹ میں تھی۔مگر والدِ محترم کی بطورسینئر پوسٹ ماسٹر جہانیاں میں ڈیوٹی ہونے کی بنا پر ان کا زیادہ وقت جہانیاں میں گزارا۔1967ء میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی تو ان عمر 12 سال تھی۔جنگی حالات سے باخبر رہنے کیلئے انہیں اخبارات پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک تھا۔محکمہ ڈاک اور پھر محکمہ شناختی کارڈ میں ملازمت کی۔اخبارات میں دلچسپی اتنی بڑھی کہ اخبار کی ایجنسی لینے کی ٹھان لی۔موزوں جگہ قصبہ دھنوٹ کو سمجھا۔1978ء میں ملازمت چھوڑ کر دھنوٹ میں مستقل ڈیرے ڈال لیئے۔

1986ء سے روزنامہ مساوات لاہور کی ایجنسی لے کر کام شروع کیا۔ان دنوں ملتان سے روزنامہ نوائے وقت،روزنامہ امروز، روزنامہ آفتاب اور روز نامہ سنگِ میل شائع ہوتے تھے۔روز نامہ مساوات لاہور کی ایڈیٹر بینظیر بھٹو تھیں۔روز نامہ مساوات کا نمائندہ ہونے کے ناطے اپنے پریس کارڈ پر فوٹو چسپاں تو کرا لیا مگر اس پرکوّر اور دستخط نہ کرائے کیوں کہ اس کارڈ پرروزنامہ مساوات کی ایڈیٹر بینظیر بھٹو سے دستخط کرانے کی خواہش تھی۔مگر افسوس کہ ان کی یہ خواہش پایہ ئ تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔

روزنامہ مساوات کے بعد،روز نامہ وفاق اور پھر روزنامہ انصاف کی ایجنسیاں لیں۔ دھنوٹ میں روزنامہ نوائے وقت کے ایجنسی ہولڈر شیخ دلشاد احمد آف کہروڑ پکا کو سیکورٹی ادا کرکے نوائے وقت کی ایجنسی اپنے نام کرا ئی۔روزنامہ امروز کے ایجنسی ہولڈرحکیم سراج الدین فاروقی نے بھی ایجنسی چھوڑ دی توعبدالقیوم قریشی نے روز نامہ امروز کی ایجنسی بھی لے لی اور باقاعدگی سے اخبارات کا کام شروع کیا۔ عبدالقیوم قریشی کے والدِ محترم ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے کے بعدنمائندہ امروز دھنوٹ مقرر ہوئے۔ اُن دنوں 20عدد روزنامہ نوائے وقت،20عدد روزنامہ سنگِ میل کے ساتھ روزنامہ امروز اور روزنامہ آفتاب دھنوٹ وگردو نواح میں تقسیم کئے جاتے تھے۔

دھنوٹ سے مشرق کی طرف پیر جیون اسٹیشن پر اخبار کے تین قارئین اسٹیشن ماسٹر اسد اللہ،غلام فرید ہوٹل والا اور محمد نواز ہوٹل والاکو اخبارات تقسیم کرنے 7کلو میٹر کا سفر کرنا پڑتا۔روزنامہ وفاق اور روز نامہ انصاف کی ایجنسیاں لیں۔رانا محمد ارشد خاں روزنامہ انصاف کے نمائندہ مقرر ہوئے۔ عبدالقیوم قریشی نے دیگر اخبارات کی ایجنسیاں لینے اور سرکولیشن بڑھانے کے شوق کی بنا پرروز نامہ جنگ،روز نامہ خبریں ومختلف رسائل ماہنامہ کرن،ماہنامہ حجاب،ماہنامہ آنچل،ماہنامہ جاسوسی،ماہنامہ سسپنس، ماہنامہ سرگزشت،ماہنامہ شعاع،ماہنامہ پاکیزہ،ماہنامہ خواتین وغیرہ کی ایجنسیاں حاصل کیں۔

روزنامہ کارنامہ لودھراں کے ضلعی ایجنسی ہولڈر وڈسٹرکٹ رپورٹر مجید ناشاد کاآبائی تعلق بھی دھنوٹ کے نواحی موضع واہی نو سے ہے جودھنوٹ کے مسائل کو اجاگر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔ 1983 ء میں رفیق کتاب گھردھنوٹ کے مالک محمد صدیق بلوچ نے روز نامہ نوائے وقت اور 1991ء میں روز نامہ کارنامہ کی ایجنسیاں لے لیں۔ان کا بیٹا محمد رفیق بلوچ اور پھر عبدالطیف بلوچ بطور نمائندہ روز نامہ کارنامہ واخبار فروش کام کرتے رہے۔

1993ء میں بستی لائل پور کے مقامی رانا عالم شاکر اور دھنوٹ کے مقامی رانا محمد ارشد خاں اور بعد میں بستی لائل پور کے مقامی قاری نورالدین رفیقی، عبدالحمید صابر،محمد قاسم مسرور اورمحمد الیاس صابر بھی روزنامہ کارنامہ کے ذریعے دھنوٹ کے مسائل اجاگر کرتے اور روز نامہ کارنامہ تقسیم کرتے رہے۔1996ء میں ڈاکٹر شوکت علی اعجاز نے نوائے وقت کی ایجنسی لی۔ جو بعد میں عبدالقیوم قریشی نے لے لی۔کہروڑ پکا کے مقامی امام شاہ دھنوٹ میں روز نامہ نوائے وقت کے نمائندہ تھے۔بعد میں میاں عتیق الرحمٰن جبلہ قریشی روز نامہ نوائے وقت کے نمائندہ مقرر ہوئے۔

2008ء میں محکمہ صحت کی ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد ناچیزراقم نے روز نامہ پاکستان کی نمائندگی لے کر اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ شروع میں اپنے مضامین وخبریں وغیرہ لکھنے کیلئے عبدالقیوم قریشی سے راہنمائی حاصل کی۔مختلف سماجی تنظیمات کے توسط سے ملتان،لودھراں اور دھنوٹ میں متعدد بار سینئر صحافیوں سے تربیت حاصل کرنے کے مواقع میّسر آئے۔ روز نامہ گمان لودھراں کے چیف رپورٹرانجینئر چوہدری برکت علی ریاض کا تعلق بھی دھنوٹ سے ہونے کے ناطے دھنوٹ کی ترقی کیلئے ان کی صحافتی ودیگر خدمات نمایاں ہیں۔

دھنوٹ میں عبدالرشید،ماسٹر کبیر احمد،محمدرفیق کھوکھر،اللہ وسایا پنوار،محمد یامین عرف لاہوری،خدا بخش،فیض بخش،محمد اعجاز، اللہ ڈتہ آف کری والا، شوکت علی آف بستی لائلپوربھی مختلف صورتوں میں اخبارات سے منسلک رہے۔اِس وقت دھنوٹ کے7اخبار فروش صوفی مقبول احمد،محمد قاسم،عبدالوارث قریشی،محمد یونس،محمد سجاد،محمد شوکت اور عبدالقدیر قریشی دھنوٹ کے تقریباً20,20کلو میٹر ارد گردچاروں اطراف حاصل والا،نور شاہ گیلانی،لائل پور،پیر جیون اسٹیشن،بہار دی گوٹھ،حویلی نصیر خاں،ڈیرہ جنڈو دیگر علاقہ جات میں ملتان سے شائع ہونے والے16مختلف اخبارات روزنامہ خبریں، روزنامہ پاکستان، روزنامہ جنگ،روزنامہ نوائے وقت،روزنامہ اوصاف،روزنامہ دنیا، روزنامہ جہانِ پاکستان، روزنامہ 92نیوز،روزنامہ کارنامہ،روزنامہ لہرِ ساحل، روز نامہ گمان،روزنامہ آغازِ سفر،روزنامہ نیا دور، روزنامہ آور سٹار، روزنامہ سنگِ میل،روزنامہ کرائم کی500 تعداد قارئین تک پہنچانے میں کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں۔

عبدالقیوم قریشی نے جہاں اخباربینی و مضمون نویسی کا اپنا شوق پورا کیا وہاں دھنوٹ و گردو نواح میں اخبارات کو روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ اخبار فروشوں کے لئے روز گارکا سبب بننے، لوگوں کو علاقائی،ملکی ودنیا کے حالات سے با خبر رکھنے کا فریضہ احسن طریقے سے سرانجام دیاہوا ہے۔ اخبارات کی وساطت سے دھنوٹ میں مختلف اخبارات کے نمائندگان مقرر ہوئے جو دھنوٹ و ارد گرد کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان مسائل کے حل کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔

دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کی بنیاد 1998میں رکھی گئی۔جس کے بانی و بنیادی اراکین میں عبدالقیوم قریشی،رانامحمد عالم شاکر، قاری نورالدین رفیقی،ڈاکٹر نصرت کمال،رانا محمد ارشد خاں،ڈاکٹر محمد اقبال طاہر،سید نادر عباس بخاری،عبدالطیف بلوچ اور قاری شبیر احمد اویسی شامل تھے۔ دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کے پہلے متفقہ صدر عبدالقیوم قریشی اور جنرل سیکرٹری رانامحمد عالم شاکرتھے۔ 1999ء میں اس پریس کلب کی صدارت متفقہ طور پررانامحمد عالم شاکر کو دی گئی۔

دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کا باقاعدہ افتتاح 2005ء میں ضلع ناظم لودھراں عبدالرحمٰن خان کانجو نے باہمراہ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر لودھراں رحیم طلب،رانا اصغر علی،رانا فرزند علی،ڈاکٹر شوکت علی اعجاز و دیگر کیا۔اُس وقت عبدالقیوم قریشی اِس پریس کلب کے صدر تھے۔پھرہر سال بالترتیب 2006ء میں رانامحمد ارشد خاں،2007 ء چوہدری اعجاز یوسف،2008ء سید نادر عباس بخاری،2009ء رانا ساجد علی،2010ء تا2012ء رانا یوسف علی خاں صدر رہے۔وقت کے ساتھ ساتھ دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کے ممبران کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔

2007ء میں مہر فلک شیر نے روزنامہ جنگ کی نمائندگی لی اور دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کے تعلیمی لحاظ سے پہلے گریجویٹ ممبربنے۔ ان کے بعد 2012ء میں سیف الاقبال شاکر نکیانہ کو دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کا پہلا ماسٹر ڈگری ہولڈر ممبرہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو ابھی تک قائم ہے۔2012ء میں دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کے کچھ ممبران نے علیحدگی اختیار کر کے سٹی پریس کلب دھنوٹ کی بنیاد رکھی۔ جس کے پہلے صدر رانا اکبر علی اور جنرل سیکرٹری محمد شاہد بھٹی مقرر ہوئے۔

2013ء دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کے صدر ڈاکٹر نصرت کمال،2014ء تا2016ء رانا یوسف علی خاں،2017ء میں ملک وقار احمد ڈاہا دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کی صدارت کے عہدے پر فائز رہے۔مارچ2017ء میں دھنوٹ کے ملحقہ علاقوں نور شاہ گیلانی کیلئے اخبار فروش صوفی مقبول احمد اور لائل پور کیلئے محمد قاسم نے روز نامہ خبریں ملتان کی ایجنسیاں اپنے نام کرا لیں۔

2017ء میں چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور بانی اراکین دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ نے رانا محمدعالم شاکر کو اپنا صدر تسلیم کر لیا۔کچھ دنوں بعد عوامی پریس کلب دھنوٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے صدر شبیر احمد چوہان بنے۔ ڈاکٹر محمد اعظم نے بھی پنجاب پریس کلب دھنوٹ کی بنیاد رکھی۔ملک سعید احمد کھرل نے انجمن صحافیان دھنوٹ قائم کر کے اس کے صدر مقرر ہوئے۔ 2018ء میں دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کے صدر ر انا یوسف علی خاں منتخب ہوئے۔

2018ء میں ہی بستی لائل پور وگرد و نواح کے مقامی صحافیوں نے دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ سے علیحدگی اختیار کر کے پریس کلب لائل پور کی بنیاد رکھی اور رانا محمدعالم شاکر کو اپنا صدر منتخب کر لیا۔2019ء میں محمد اکر م صدیقی متفقہ طور پر دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کی صدارت کے عہدے پر فائز ہوئے۔

2019ء میں دھنوٹ پریس کلب دھنوٹ کے اراکین میں عبدالقیوم قریشی،رانا محمد ارشد خاں،رانا یوسف علی خاں،مہر فلک شیر، ڈاکٹر اے ڈی انجم، محمد اکرم صدیقی، ملک سعید احمد کھرل،راؤ محمد ناصر،ساجد اقبال قریشی،ملک مسعود الحسن وگن،حافظ مشتاق احمد،جام محمد وارث،عبدالوارث قریشی،سعید احمد بھٹہ،ملک شہزاد احمد لودھرا،محمد شاہد ملک،محمد سلیم خالد،محمد صادق پرویز،محمد قاسم،چوہدری محفوظ علی اور عبدالقدیر قریشی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں