25

سادہ زندگی اپنائیں، جینے کیلے کھائیں … شعور میڈیا نیٹ ورک

ازقلم: عبدالخالق قریشی

اگر چند دہائیاں قبل کے ماضی میں جھانکیں تو ہمارا طرزِ معاشرت انتہائی سادہ تھا، تقریباً نوے فیصد لوگ ٹینشن، شوگر، بلڈ پریشر، اور دل کی بیماریوں سے ناآشنا تھے، کھانا گھروں میں ہی تیار کیا جاتا تھا، پیکٹوں میں بند تیار مصالہ جات کا کوئی تصور نہ تھا، گھروں میں روزانہ کی بنیاد ثابت مصالہ جات کو ایک پتھر کے بنے ہوئے ایک خاص برتن جسے”کونڈی ڈانڈا”،”دوری ڈنڈا”، “سل وٹہ” اور سیلوٹا کے نام سے پکارا جاتا تھا پر پیسا جاتا تھا، جس سے خواتین کی روزانہ مفت میں گردن، بازو، کمر، ریڑھ کی ہڈی اور پیٹ کی بہترین ورزش ہوجاتی تھی.

اسی طرح کھانے میں تازہ سبزیاں، دودھ، دہی، مکھن، لسی، گڑ، شکر جو ہر قسم کے کیمیکل سے پاک خالص ترین ہوا کرتی تھیں کا استمال عام تھا، اس کے ساتھ ساتھ زردہ، پلاؤ، بریانی قورمہ، پسندے، کوفتے، کباب، شامی، تکے، حلیم، کھیر، شاہی ٹکڑے اور دیگر کھانے خالصتاً گھر میں دستیاب اشیاء اور تراکیب سے تیار کیے جاتے تھے.

شہر میں موجود ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں کھانے والوں کی اکثریت مسافروں اور فیملی کے بغیر لوگوں کی ہوتی تھی، البتہ چائے خانے کافی تعداد میں ہوتے تھے، جہاں لوگ شام کے وقت اپنے دوستوں کے ہمراہ چائے کے ساتھ گپ شپ کیا کرتے تھے، گھروں میں ایک پاکیزہ ماحول ہوا کرتا تھا، جہاں نماز پنجگانہ اور تلاوت قرآن کا خصوصی اہتمام ہوتا تھا، دن کا آغاز نماز فجر شروع ہوجاتا تھا اور بعد نماز عشاء لوگ بستروں پر ہوتے تھے، مرد اپنے اہل خانہ کی کفالت کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ خواتین کی ذمہ داری گھریلو امور کی بجاآوری اور بچوں کی بہتر نشونما اور تربیت ہوتی تھی۔

پھر وقت نے کروٹ لی اور دنیا میں ترقی اور جدت پسندی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس کے اثرات سب سے زیادہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں نظر آئے جہاں تیل کی دریافت نے وہاں تعمیر و ترقی کے نئے باب کھول دیے، پاکستان سے لاکھوں ہنرمند اور مزدور ان ممالک میں جہاں ان کی ترقی میں اپنا خون پسینہ دے رہے تھے، وہیں وہ اپنے ملک کیلے قیمتی زرمبادلہ اور اپنے اہل خانہ کے حالات میں بھی تیزی سے بہتری لانے کا ذریعہ بن رہے تھے، ایسے میں ملکی اور غیرملکی بے شمار تجارتی و تعمیراتی اداروں نے پورے ملک میں بڑی تیزی سے اپنے کاروبار کو پھیلا دیا اور یوں ملک میں جہاں ایک طرف معاشی ترقی میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا تو دوسری جانب ہمارے معاشرتی طرز زندگی میں بھی اسی تیزی سے تبدیلی آنی شروع ہوگئی۔

مالی آسودگی آتے ہی ہم نے سادہ طرز زندگی کو پس پشت ڈال دیا، جس نے ہمارے اندر اتنی تن آسانی پیدا کردی کہ ہم نے اپنی زندگی سے مشقت کو بالکل ہی نکال دیا ہے، ہم نے اپنے کھانوں میں روائتی مصالہ جات کی جگہ تیار مصالہ جات کو اپنے کھا نوں میں استمال کرنا شروع کردیا جن میں مختلف قسم کے کیمیکل اور مصنوعی رنگ شامل ہوتے ہیں، جن کا مسلسل استمال صحت کیلے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے.

ہم نے فاسٹ فوڈ جوکہ زیادہ تر تلی ہوئی اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے اس کو ہم نے اپنی زندگی کا لازمی جز بنالیا ہے، ہم نے پانی کی جگہ کولا ٹائپ مشروبات کے استمال کو خطرناک حد بڑھا لیا ہے، جبکہ دوسری جانب ہم نے ورزش اور دیگر کھیلوں کو اپنی زندگی سے نکال کر لیپ ٹاپ اور موبائل کی دنیا میں گم ہوگئے ہیں، یہی حال خواتین کا ہے کہ انھوں نے بھی گھریلو کام کاج کو خیرآباد کہہ دیا ہے، اور بیشتر وقت ٹی وی کے سامنے یا موبائل پر لمبی گفتگو کرنے میں مصروف نظر آتی ہیں، اور ان تمام کا نتیجہ موٹاپا، شوگر، دل کے امراض، بلڈ پریشر اور ٹینشن جیسے امراض میں مبتلاء نظر آتے ہیں، اگر ان کا بروقت سدباب نہ کیا جائے تو مزید پیجیدگیاں بڑھنے کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔

پہلے نوجوان بچے اور بچیاں جن میں بیماریوں کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا آج مختلف قسم کے عوارض کا شکار ہیں، جن میں نسوانی عوارض، گلے کی مستقل خرابی، موٹاپا، چہرے پر دانے، معدے کی خرابی جیسے امراض شامل ہیں، اگر مناسب احتیاط نہ کی جائے تو یہ آگے چل کر معدے کا السر، شوگر اور دل کے امراض کا باعث بن جاتے ہیں، اور یہ سب بازاری کھانوں، فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیاء، دہی بڑے اور گول گپے وغیرہ کے بے بہا استمال کا شاخسانہ ہیں۔

یہ بھی درست ہے کہ ہم میں سے بہت لوگ یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہم اور ہمارے بچے نئی معاشی، معاشرتی ترقی کا حصہ نہ بنے تو زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہے جائیں گے، تو عرض ہے کہ آپ ضرور جدید تقاضوں کے مطابق اپنے طرز زندگی کو گذاریں مگر میانہ روی اور اعتدال کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں، کیونکہ کوئی بھی بے اعتدالی چاہے وہ کسی بھی شعبے یا آپ کی ذاتی زندگی میں ہو آخر کار نقصان کا سبب بنتی ہے.

لہذا بے شک آپ اپنی زندگی میں جدید تقاضوں کے مطابق جو چاہیں رنگ بھریں مگر اس میں اپنی دینی، معاشرتی اقدار اور طبی اصولوں کو بھی اس کا حصہ بنائیں، آپ وہ تمام چیزیں کھائیں اور پیئیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، مگر میانہ روی اور احتیاط سے نہ کہ اسے مستقل طور پر اپنی زندگی کا مقصد حیات ہی سمجھ لیں، آج وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم سادگی کو اپنائیں اور کھانے کیلے نہ جیئیں بلکہ جینے کیلے کھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں