31

تعلیم اورمقصدِ تعلیم … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

تعلیم سے مرادکسی کو کچھ بتانا، پڑھانا، سکھانا، تلقین کرنا یا رہنمائی کرنا وغیرہ یعنی طلبہ کو لکھنا پڑھنا یا حساب وغیرہ سکھانا یا کوئی مضمون اور کتاب پڑھا دینا وغیرہ ہے۔ عام طور پر تعلیم کو انگریزی کے لفظ ایجوکیشن کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ لفظ ایجوکیشن در اصل لاطینی لفظ ایڈو کو (educo)سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب کسی انسان یا جانور کے بچے کو خصوصی توجہ اور نگہداشت کے ساتھ پال پوس کر بڑا کرناہے۔ اس مناسبت سے ایجوکیشن کا مطلب ہوگا کہ کسی بچے کی پرورش، اور اس کی دماغی، جسمانی اور اخلاقی تربیت کرنا۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایجوکیشن کا مفہوم صرف تعلیم سے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت سے پورا ہوتا ہے۔

تعلیم بلا امتیاز ہرامیر،غریب،مرد ہویاعورت کی بنیادی ضرورت اور انسان کا ایسابنیادی حق ہے جوکوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔بلکہ انسان اور حیوان میں بنیادی فرق بھی تعلیم ہی کی بدولت ہے۔ یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کاموجب بنتی ہے اورتعلیم ہی کسی بھی قوم یا معاشرے کیلئے ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول،مدرسہ،کالج،یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز و تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے۔ تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اورا قدار کا خیال رکھ سکے۔

تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے۔اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔قرآن پاک میں پہلی وحی سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اللہ کا نام لینا ہے پھر حصول علم کا آغاز کرنا ہے۔دوسر ی بات جو اس وحی میں بیان کی گئی ہے وہ ہے انسان کی پیدائش کے حقیقی خالق برحق کی کہ اس ذات کے نام سے پڑھ جس نے انسان کو پیدا کیا۔ پھر ”معرفت الہی کا حصول“کہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ دنیا اور اس میں بسنے والے انسان کو کس ذات نے اور کیسے پیدا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ انسانی تخلیق کے مراحل کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ میں وہ رب ہو ں جس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا فرما یا۔ساتھ ہی اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی حوصلہ افزائی فرماتے ہیں کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں تیرا رب بڑے کرم اور شفقت والا ہے۔ فطرت بشری سے مطابقت کی بناپر اسلام نے علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے ابتدائی آثار ہمیں اسلام کے عہد مبارک میں ملتے ہیں۔ غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کیلئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے۔

چنانچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے جوکاتب وحی تھے اس وقت لکھنا پڑھناسیکھا تھا اسی بات سے ہم اندازہ لگاسکتے ہے کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوراس کا حصول کتناضروری ہے۔اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی،عبادت،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے۔جبکہ تعلیم کا اوّلین مقصد بھی ہمیشہ انسان کی ذہنی،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے۔

مسلمان کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔بلاشبہ آج کا دور کمپیوٹر، ایٹمی، سائنسی اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔اسکولوں میں جہاں بنیادی عصری تعلیم،ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ، وکالت،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔وہاں دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے۔

تعلیم کے حصول کیلئے قابل اساتذہ کا ہونا بے حد ضروری ہے جوبچوں کو اعلٰی تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔استاد کا کام محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبّرا ہوجانے کی بجائے طلباء و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنااور شعور و ادراک،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگردوں کو مالا مال کرناہے۔ جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا۔ ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھامگرآج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے۔

آج کی تعلیم صرف اس لئے حاصل کی جاتی ہے کہ اچھی نوکری مل سکے۔میٹرک امتحان کے بعد طلبہ کی یہ سوچ بن جاتی ہے کہ وہ کونسی فیلڈ ہوگی جومیری پوری زندگی کو پیسوں سے بھر کر رکھ دے گی؟ایسی کونسی تعلیم ہوگی جس سے میں پوری زندگی عیش وعشرت سے گزار سکوں گا؟ایسی کوئی تعلیم مل جائے جو مجھ کو پوری دنیا سے زیادہ امیر بنا دے۔اسی لیے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اخلاق،اخلاص، صلہ رحمی، مروّت، بھائی چارگی،ہمدردی اور انسانیت جیسے اوصاف سیکھنے کی بجائے طلباء وطالبات کا فوکس صرف اچھے گریڈیا اچھے نمبروں پر ہوتا ہے۔یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کے تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے۔

بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کورٹنہ ہے۔والدین اپنے بچوں کو اسی لیے تعلیم دلاتے ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر کمانے کھانے کے قابل ہو جائیں۔ بلا شبہ کھاناکمانا انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ والدین کو اس بات کی فکر ہونی بھی چاہیے کہ بچہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔ مگر کیا صرف پیٹ بھرنا اور زندگی کی دوسری ضرورتوں کا پوراکرنا ہی تعلیم کا بنیادی مقصد قرار دینا مناسب ہے؟ ایسا کرنے سے بچہ معاشی حیوان تو بن سکتا ہے لیکن اچھا انسان ہر گز نہیں بن سکتا۔

اچھا انسان بنانے کے لیے حق اور نا حق، جائز اور ناجائز میں تمیز سکھانا،بچے کو اخلاق و آداب اور تہذیب و تمدن کی اعلیٰ قدروں سے روشناس کرانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔کیوں کہ وہ علم بے فائدہ ہے جو انسان کو خود انسان کی حقیقت سے بے خبر اور اس کے حقیقی خالق کی پہچان سے نا بلد رکھے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں دنیا کو تباہی سے بچائیں۔ تو ہم سب کوبالخصوص اساتذہ، والدین اور اسکول انتظامیہ کا فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیم کی عمارت کی بنیاد خدا شناسی پر رکھیں۔ بہت چھوٹی عمر میں جب ہم انہیں حروف شناسی کراتے ہیں تبھی ہم انہیں خدا شناسی بھی کرائیں۔ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ تدریجی انداز میں خالق اور مخلوق کی حیثیت اور ان کے درمیان کے رشتوں کے بارے میں بچوں کے جذبہ تجسّس کو ہوا دیں۔ تاکہ وہ بچے پختہ عمر تک پہنچتے ہی ہماری رہنمائی میں اپنے خالق کو خود دریافت کرلیں۔

اس طرح خالق کی پوری کائنات اس کے تصرف میں آجائے گی۔ اب اس کی منزل چاند ستاروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری کائنات کی تسخیر اس کا ہدف ہوگا۔ اس کامقصد بدل چکا ہوگا۔ اب اس کی تلاش و جستجو حاکمیت اور ملوکیت کے لئے نہیں بلکہ انسانی فلاح اور خالق کی خوشنودی کے لیے ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں