30

دھندلی سی اک تصویر دیکھ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: سید علی رضوی

علم غیب تو اللہ ہی کی صفت ہے لیکن صاحب بصیرت آدمی وہ ہوتا ہے جو آنے والے حالات بھانپ سکے اور لوگوں کو مطلع کر سکے۔ قرب مکانی اور قرب رساٸی تو ویسے ہی انسان کی اہمیت کم کردیتی ہے کہ جو آپکے قریب ہو اور اس تک رساٸی آسان ہو اسکی بات ماننے اور سمجھنے کا دل نہیں کرتا چاہے سو فیصد ہی درست بات کیوں نا کرے۔ اپنےہمعصر کو لوگ ویسے بھی اہمیت نہیں دیتے چاہے نواسہ رسولؓ ہی کیوں نا ہو ۔۔۔ ہاں بعد میں اپنے آپ کو ملامت کرتے اور روتے ضرور ہیں۔

موجودہ حکومت جب سے معرض وجود میں آٸی اس وقت سے لے کر اب تک یہ محسوس ہو رہا ہے کہ میڈیا پر ایک خاص قسم کی پابندی ہے۔ بہت سے صحافیوں کو نوکریوں سے برخاست کیا گیا۔ طلعت حسین، نصرت جاوید وغیرہ۔۔۔ اب اس فہرست میں حامد میر کو شامل کیا گیا ہے۔

سیاسی حکومت ہو یا فوجی آمریت۔۔۔ ہر حکمران کا مزاج ایک سا ہی ہوتا ہے بلکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اظہار راۓ پر آذادی کے معاملے میں فوجی آمر شاید ذیادہ کھلے دل کے واقع ہوۓ ہیں۔ حکمران کو شاید لگتا ہے کہ کرسی بہت مضبوط ہے لیکن جہاں پر انکا طوطی بول رہا ہوتا ہے وہاں کوٸی انکے دفاع میں کہنے والا موجود نہیں ہوتا۔ صحافت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کس نے کوشش نہیں کی لیکن جب خدا نے ڈوری ہلاٸی تو کوٸی نہیں سنبھل سکتا۔ کاش کہ ہمارے حکمران یہ بات اقتدار میں بھی سمجھ لیں۔ جن اخلاقیات کی باتیں ہمارے وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کے دور میں کیا کرتے تھے اگر ان میں سے آدھی باتوں پر ہی عمل کر لیں تو انقلاب آجاۓ.

لیکن روز بروز میڈیا اورصحافت پر سنسر میں اضافہ کیا جارہا ہے اور بظاہر اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی مکمل تیاری لگتی ہے۔ پاکستان صحافیوں کے لیے پہلے بھی حالات سازگار نہیں تھے لیکن اب تو بات ذیادہ بگڑ رہی ہے۔ رانا ثنإ اللہ پر زمینوں پر قبضے کا کوٸی کیس بنتا تو شاید بہت سے لوگوں نے یقین کر لینا تھا لیکن منشیات اسمگلنگ کا کیس نہایت ہی بھونڈا ہے۔ حکومت کا شاید یہ خیال ہے کہ یہ 1947 ہے اور عوام فردوس عاشق اعوان یا شیخ رشید کی باتوں پر یقین کر لیں گے لیکن حقیقت اسکے بر عکس ہے۔

آنے والے حالات میں خدشہ ہے کہ یہ حکومت مزید اسی طرح کے کیس بنا کر اپوزیشن کے لوگوں کو اندر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پھر بھٹو دور کو مشہور نعرہ

لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو
تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ گونجنے کو ہے
بنی گالے چلو ورنہ تھانے چلو

لگتا ہے بنگلہ دیشی ماڈل کو راٸج کرنے کے مکمل تیاری ہو چکی ہے۔
اقبال نے کہا تھا

کھول کر آنکھیں میرے آٸینہ گفتار کی
آنےوالے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں