24

ذمے دار کون؟ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: محمد طارق
پی ایچ ڈی سکالر
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے پاناما مقدمے میں نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک کی ایک لیگی کارکن ناصر بٹ کے ساتھ ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں جج فیصلہ لکھنے سے متعلق کچھ ’نامعلوم افراد‘ کی طرف سے دباؤ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

مریم نواز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں جو جج کی ویڈیو لیک کی اور جج صاحب کی جن مجبوریوں کا حوالہ دیا گیا ھے وہ اس پولیٹیکل سسٹم پر ایک بڑا سیاہ دھبہ بن سکتا ہے۔ اس وقت اداروں اور پولیٹیکل سسٹم میں بیٹھے لوگوں میں سے کسی کو اس بات کی ذمہ داری لینا ھی پڑے گی!

سوال یہ بھی اُٹھے گا کہ کیا یہ ویڈیو اصلی ہے اس کے کردار کون ہیں ؟ اور سوال یہ بھی اُٹھے گا کہ وہ کون سی ویڈیو ھے جس کی بنا پر جج صاحب مجبور ہوئے یہ سب بتائیں اگرچہ ابھی تک قیاس اور مفروضوں پر مبنی سوالات و جوابات کا لامتناہی سلسلہ جنم دے چکی ہے۔ پولیٹیکل سسٹم کے حواری کیا اس جرم کو اپنے ذمے لیں گےَ؟ کیا عدلیہ اس معاملے میں کوئی اپنا کردار ادا کرے گی۔ اگر عدلیہ کوئی کردار ادا کرتی ہے اور جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتی ہے تو نواز شریف کی رہائی یقینی ہوجائے گی اور نواز شریف کی رہائی کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ پولیٹیکل سسٹم میں دوبارہ شامل ہوجائیں گے ایسی صورت میں پی ٹی آئی گورنمنٹ کے لیے بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں سیاسی انتشار اور پولیٹکل سسٹم لپیٹ دیے جانے کے واضح اشارے موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کی گورنمنٹ حکومت میں صرف چند ووٹوں سے بیٹھی ھے اور نواز شریف کی رہائی کے بعد ممکن ہے کہ ان ووٹوں کی تعداد میں خاظر خواہ کمی ہوجائے۔ کیونکہ یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایک ویڈیو کے انکشاف نے سوال ملک کے ایک بڑے ادارے پر کردیا ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت کا حال ’’سانپ کے منہ میں چھچھوندر کے مترادف ہے نگلے تو اندھا اُگلے تو کوڑی‘‘ حالت کس جانب کروٹ لیں گے اس کی تو ابھی کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی مگر اس معاملے کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ہوسکتا ہے اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد اب امپائر پی ٹی آئی کے ساتھ نہ دیں اور پیچھے ہٹ جائیں ایسی صورت حال میں پی ٹی آئی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

سیاسی بساط پرکچھ بھی بعید نہیں ہوتا مگر جب سوال اور انگلی اداروں کی طرف اُٹھائی جا رہی ہو تو اداروں کے لیے اپنے تحفظ میں بولنا اور لوگوں کو مطمئن کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔ ویڈیو کے انکشاف کے بعد ماہرین سیاست اور طالب علم سیاست مسلم اس بات کو چیک کر رہے ہیں کہ مقتدر اداروں کی جانب سے کیا جواب آتا ہے۔

مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں بڑے دبنگ انداز میں اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اگر اس معاملے میں مزید کوئی سازش ہوئی تو ان کے پاس اس سے بھی زیادہ ثبوت موجود ہیں جس میں لوگوں کے نام بھی ہیں۔ ان الزامات کی کی بوچھاڑ تو کردی گئی اب کیا پی ٹی آئی حکومت ان سوالات کا جواب دے پائے گی اور اگر اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو کیا مریم نواز شریف وہ تمام نام اور ثبوت افشا کردیں گی؟

یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا کوئی جواب ملے نہ ملے پر گھوم پھر کا یہ سوال حکومت کے گلے پڑنے والا ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ حکومت کیا حکمت عملی اپناتی ہے اس کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا پر حکومتی کچھ وزرا اس بارے میں بڑھ چڑھ کر دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں پی ٹی آئی حکومت کے خالف کافی محاذ کھل گئے ہیں۔ جن سے پی ٹی آئی حکومت کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے؟ یہ ابھی ایک معمہ ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں