45

جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کی حقیقت … شعورمیڈیا نیٹ ورک

از قلم: صابر بخاری

مریم نواز کی پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو دکھائی گئی جس میں مبینہ طور پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ نواز شریف کو دی جانے والی سزا غلط تھی ۔ویڈیو کے حوالے سے کئی ابہام ہیں جس کا فیصلہ فرانزک کرانے سے ہی ہوگا مگر ذرائع کے مطابق چونکہ جج صاحب کے ناصر بٹ سے قریبی تعلقات تھے،اور تعلقات کی وجہ بھی ناصر بٹ کا با اثر ہونا ہے ۔اکثر جج صاحبان کے ملک کی اشرافیہ سے قریبی تعلقات ہوتے ہیں اور اکثر تو جج بھی انہی اشرافیہ کی نوازشوں سے تعینات ہوتے ہیں،بدلے میں اشرافیہ کے ”ذاتی مصنف “بھی بن جاتے ہیں۔ اس لیے جج صاحب ناصر بٹ سے کھل کر بات کرتے اور کئی بار ڈسکشن میں ممنوعہ باتیں بھی بول دی جاتیں ۔

گپ شپ میں تمام معاملات زیر بحث لائے جاتے ۔ناصر بٹ کی طرف سے تمام باتیں ریکارڈ کی جاتیں ۔ناصر بٹ کی طرف سے جج ارشد ملک کو ٹریپ کرنے کی پوری کوشش کی جاتی رہی ،اور مریم نواز بھی اس ساری پیش رفت سے آگاہ تھی ۔ جج صاحب کو ٹریپ کرنے کیلئے کئی ذرائع استعمال کیے گئے ،جج صاحب کے کچھ کمزور لمحات میں ایسی باتیں بھی منہ سے نکلوا لی گئیں جو ن لیگ بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے اور آگے کچھ مزید ثبوت محفوظ کرکے رکھے ہوئے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں ۔

ذرائع کے مطابق ویڈیواور آڈیو مختلف مقامات کی ہیں ۔جج صاحب کے کمزور لمحات میں ہی یہ سب ریکارڈ کیا گیا ۔ن لیگ ججوں کے مزاج اور اطوار سے بخوبی آگاہ ہے اس لیے صرف جج ارشد ملک کو ہی نہیں دوسرے ججوں کو بھی ٹریپ کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس میں انکوکوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔تمام تر کوششوں کے باوجود بھی ن لیگ جج ارشد ملک صاحب سے کوئی بڑی بات نکلوانے میں کامیاب نہ ہو سکی ۔یہ سب باتیں کمزور لمحات اور مختلف مقامات پر کئی گئی گفتگو کو جوڑ کر بنائی گئی ہیں ۔ذرئع کے مطابق کچھ عرصہ سے جج صاحب اور ناصر ملک کے درمیان پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے تھے ،جب تمام راستے بند ہوگئے تو ن لیگ نے اسی بے اثرمتنازعہ ویڈیو کے ذریعے ہی اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارادینے کی کوشش کی ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شریف خاندان پانامہ سکینڈل سے لیکر ،سپریم کورٹ اور پھر نیب ،احتساب عدالت سے ہوتا ہوا آج اس سطح تک پہنچا ہے ۔ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ شریف خاندان نے کرپشن کے تمام ریکارڈز توڑ دیے اور ملک کو لوٹ کر کھا گئے ،صرف نہیں جانتا توشریف خاندان اور مریم بی بی۔جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے ۔

بہر حال جج ارشد ملک اور دوسرے جج صاحبان کو چاہیے کہ وہ”ناصر بٹوں“ کی بجائے ریاست سے دوستی کریں ،اس سے ہی ان کا اور ملک کا بھلا ہے ۔ہماری عدلیہ جو بہتری کی طرف گامزن ہے ،اس سکینڈل سے اسکو دھچکا ضرور لگا ہے۔جج صاحب کا ایسے کریمنلز سے ملنا ہی جج صاحب کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔امید ہے چیف جسٹس صاحب اسکا نوٹس لیں گے اور عدلیہ میں اصلاحات کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں